اسلامی تحاریر » اسلامی-مضامین » دینی جامعات
Skip to content
anwar-e-mohammadiah.online

anwar-e-mohammadiah.online

  • اسلامی تحاریر
  • اسلامی مضامین
  • About us
  • Contact us
  • ہماری سروسز
  • Cookie Policy (EU)
  • Terms and Conditions
Facebook FacebookX XInstagram InstagramYouTube YouTubeLinkedin Linkedin
anwar-e-mohammadiah.online
anwar-e-mohammadiah.online
Facebook X Instagram YouTube
دینی جامعات

دینی جامعات کے مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف رجحان کے نقصانات

Byمولانازبیر احمدنقشبندی 10 ستمبر, 202520 نومبر, 2025

دینی جامعات کے مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف رجحان کے نقصانات

دینی مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف رجحان کے نقصانات
دینی مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف رجحان کے نقصانات

تعارف


دینی جامعات اور مدارسِ اسلامیہ برِصغیر میں صدیوں سے

دینِ متین کی حفاظت، اسلامی

علوم کی اشاعت، اور امت کی فکری و روحانی

تربیت کافریضہ سرانجام دےرہے ہیں۔

یہ ادارےمحض تعلیمی مراکز نہیں بلکہ روحانیت، تہذیب،اور

اخلاص کاسرچشمہ رہے ہیں۔

ان اداروں میں مدرسین کاکردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت

رکھتا ہے، جو نہ صرف

علمی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ اپنے کردار و عمل

سے طلباء کے لیے مثالی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔

تاہم،موجودہ دورمیں ایک واضح تبدیلی رونماہو رہی

ہےکہ دینی مدارس کےماہراور

تجربہ کارمدرسین بڑی تعداد میں سرکاری ملازمتوں،

خصوصاًاسکولز،کالجزاوریونیورسٹیوں کی تدریسی جابز کی

طرف مائل ہو رہے ہیں۔

بظاہر یہ ایک فرد کے لیے معاشی استحکام

اور معاشرتی ترقی کی علامت ہے

مگر اس کے اثرات دینی اداروں کے لیے خاصے

سنگین اور دور رس ہیں۔

یہ رجحان نہ صرف دینی اداروں کے تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ ایک پوری

علمی روایت کے منقطع ہونے کا بھی اندیشہ پیدا کرتا ہے

دینی جامعات کو ہونے والے نقصانات

تدریسی معیار میں گراوٹ

جب تجربہ کار اساتذہ مدارس کو چھوڑ کر سرکاری شعبے کی طرف رخ کرتے ہیں

تو ان کے خلا کو پر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نئے یا کم تجربہ کار اساتذہ اگرچہ پرعزم ہوتے ہیں، مگر وہ

علمی پختگی، تدریسی مہارت اور فکری وسعت کے

اعتبار سے اپنے سینئرز کا نعم البدل نہیں بن پاتے۔

نتیجتاً تعلیمی معیار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

علمی ورثے کا تسلسل متاثر ہوتا ہے

دینی مدارس میں علمی ورثہ استاد سے شاگرد کو منتقل

ہوتا ہے، جو صدیوں سے چلی آ رہی ایک معتبر روایت ہے۔

جب اس تسلسل میں خلل واقع ہوتا ہے تو نہ صرف اساتذہ کی

علمی محنت ضائع ہوتی ہے بلکہ امت ایک قیمتی

سرمایۂ علم سے محروم ہو جاتی ہے، خاص طور پر فنونِ حدیث

تفسیر، اصولِ فقہ اور عربی زبان جیسے شعبوں میں۔

تربیتی نظام کا انحطاط

مدارس کے اساتذہ صرف علوم کے معلّم نہیں ہوتے، وہ کردار کے معمار بھی ہوتے ہیں۔

ان کی صحبت سے طلباء میں علم کے ساتھ حلم، تواضع

تقویٰ، سچائی اور خلوص جیسی صفات پروان چڑھتی ہیں۔

جب ایسے اساتذہ رخصت ہو جاتے ہیں تو طلباء اس اخلاقی اور روحانی

تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا رخ متعین کرتی ہے۔

ادارے کی ساکھ اور اعتماد پر ضرب

اکثر اوقات مدارس کی شہرت، اعتماد اور وقار ان کے

ممتاز اساتذہ کی علمی حیثیت اور شہرت سے جڑی ہوتی ہے۔

جب ایسے معروف اساتذہ ادارہ چھوڑتے ہیں تو نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے

بلکہ طلباء، والدین اور معاونین کی نظروں میں ادارہ اپنا وزن کھو دیتا ہے۔

تحقیق و تصنیف کا دائرہ محدود ہو جانا

تحقیقی و تصنیفی سرگرمیاں مدارس کا اہم پہلو ہوتی ہیں

جن کا دار و مدار سینئر اساتذہ پر ہوتا ہے۔

جب وہ مدارس چھوڑ دیتے ہیں تو علمی جمود پیدا ہونے لگتا ہے۔

سرکاری نوکریوں میں، جہاں تدریسی بوجھ زیادہ

اور دینی ماحول محدود ہوتا ہے، تحقیق کی وہ فضا میسر نہیں آتی جو مدارس میں ممکن ہوتی ہے۔

اساتذہ کے انحراف کی وجوہات1.

معاشی کمزوری

اکثر دینی ادارے مالی وسائل کی قلت کا شکار ہوتے ہیں

اورکہیں کہیں ٹھیک ٹھاک تعاون ہوتی ہے بھی تو

متولی /مہتمم حضرات اپنی زندگی بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں مدرسین پھر بھی فاقہ کشی میں زندگی بسر

کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کے باعث اساتذہ کو وہ معاشی تحفظ حاصل نہیں ہو پاتا جو ان کی بنیادی

ضروریات کےلیےکافی ہو۔ جب کہ سرکاری ملازمتیں

بہتر تنخواہوں، مراعات اور تحفظات کے باعث کشش رکھتی ہیں۔

سماجی مقام و مرتبہ

معاشرتی نفسیات کا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ سرکاری

ملازمت کو عمومی طور پر "مستقبل کی ضمانت” سمجھا جاتا ہے۔

لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازم ایک معزز، باوقار اور بااختیار فرد ہے

جب کہ دینی جامعات کےمدرس کاوقارمحض مخصوص دینی حلقوں میں محدود رہ جاتا ہے۔

کبھی کبھی واقعی آپسی اختلاف کی وجہ سے وہاں پر بھی

ان کی عزت وقار میں کمی پائی جاتی ہے ۔

مستقبل کی غیر یقینی صورتحال

مدارس میں کام کرنے والے اساتذہ کے لیے ریٹائرمنٹ

کے بعد مالی کفالت، پنشن، اور دیگر سہولیات کا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس بعض سرکاری ادارے ملازمین کو عمر کے آخری

حصے میں بھی سکیورٹی فراہم کرتے ہیں، جس سے افراد کا رجحان وہاں زیادہ ہوتا ہے۔

حل اور تجاویز

اساتذہ کی معاشی کفالت بہتر بنائی جائے

مدارس کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی منصوبہ بندی میں اساتذہ کی تنخواہوں کو ترجیحی بنیادوں پر رکھیں۔

چندہ، اوقاف، اور زکٰوۃ جیسے ذرائع سے اساتذہ کی معقول تنخواہیں یقینی بنائی جا سکتی ہیں۔

وقف اساتذہ کا نظام

ایسے افراد تیار کیے جائیں جوخودکو دینی تدریس کےلیے "وقف” کر دیں، اور ان کی تمام ضروریات

مدارس یا ان سے منسلک فلاحی ادارے پوری کریں تاکہ وہ

مالی پریشانی سے آزاد ہو کر تدریس پر مکمل توجہ دے سکیں۔

تحقیقی وظائف اور اعزازات

مدارس میں تحقیقی کام کو فروغ

دینےکےلیےوظائف،اسکالرشپس اور تحقیقی پروجیکٹس دیے جائیں، تاکہ باصلاحیت اساتذہ

سرکاری ملازمتوں کے بجائے دینی علمی میدان کو ترجیح دیں۔

بین المدارس تعاون و فلاحی فنڈز

مدارس کو چاہیے کہ وہ مشترکہ سطح پر ایک ایسا "اساتذہ فلاحی

فنڈ” تشکیل دیں جو ہر مدرسے کے اساتذہ کے لیے

ایمرجنسی امداد، میڈیکل، اور ریٹائرمنٹ سیکیورٹی فراہم کر سکے۔

نتیجہ بحث

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دینی جامعات کے

مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف جھکاؤ ایک بڑھتا

ہوا رجحان ہے، جو بظاہر انفرادی ترقی کا ذریعہ ہو سکتا ہے مگر اجتماعی سطح پر دینی اداروں

علمی ورثے، اور طلباء کی تربیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات

کو از سرِ نو متعین کریں اور مدارس کو محض

عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و علمی ادارہ سمجھتے ہوئے ان کے اساتذہ کو وہ مقام، تحفظ

اور وسائل فراہم کریں جن کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔

اگر ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں محض ظاہری تعلیم تو حاصل کر لیں گی، مگر وہ

دینی فہم، روحانی تربیت اور فکری بصیرت سے محروم رہ جائیں گی جو صرف ایک مخلص، فقیہ، اور باکردار

مدرس کے ذریعے ہی منتقل ہو سکتی ہے۔


تحریر:علامہ ابوالفرح اوستوی
تاریخ: ۱۰ ستمبر ۲۰۲۵ء

دینی مدرسین کا سرکاری ملازمت کی طرف رجحان کے نقصانات پر علامہ نصیب اللہ نے ایک بہترین

تحریر لکھی ہے علامہ صاحب خود بھی سرکاری ملازم ہیں اور ساتھ میں مدرسے میں مدرس بھی ہیں

خود بھی اسی میدان کے شہسوار ہیں تو اچھی طرح

سے واقف ہیں استاذہ و جامعات کے مسائل سے۔(زبیراحمد)

Post Tags: #مدارس
مولانازبیر احمدنقشبندی

امامت و خطابت

درس نظامی کی تعلیم 2013 سے شروع کی
اور 2021میں جاکر تعلیمی سلسلہ مکمل ہوگیا

اس تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت سےفارغ
ہوکر اب لکھنا شروع کیاہے
باقاعدہ تعلیم حاصل کرکے یہ سلسلہ شروع کیاہوا
ہے تو یہاں پر جوبھی لکھا جائےگا وہ علمی ہی ہوگا
دھوکہ پر مبنی کچھ ناہوگا سب تحاریر جہاں سے
لیے جاتے ہیں اس کا حوالہ بھی پیش کیاجاتاہے۔

Facebook YouTube

پوسٹوں کی نیویگیشن

Previous Previous
سحر جادو کا حکم شرعی
NextContinue
معجزہ کرامت اور جادو میں فرق

© 2026 anwar-e-mohammadiah.online{Created by Zubair ahmad}{Contact us for new website creation}

Scroll to top
  • اسلامی تحاریر
  • اسلامی مضامین
  • About us
  • Contact us
  • ہماری سروسز
  • Cookie Policy (EU)
  • Terms and Conditions
Search