تاتاریوں کا حملہ اور شدت
تاتاریوں کا حملہ اور شدت کی کیفیت
تاتاریوں کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ کسی نے اس حملے کی ہولناکی کو ایک جملے میں بند کر دیا اور کہا
"آمدند وہند وسوختند و بردند و رفتند”
وہ آئے سب کچھ کھود ڈالا،جلادیا،لوٹ کیا اور چلے گئے
بغداد سمیت "خوارزم سلطنت” کے کئی شہروں میں
تاتاریوں کا حملہ اس قدر شدید تھا
تاریخ میں ایسا واقعہ شاید کہ پھر کبھی رونما ہو
تاریخ دانوں نے لکھا کہ آدم علیہ السلام سے لےکر آج تک ایسی مصیبت نازل نہیں ہوئی اگر کوئی اس طرح
کہتاہوتو وہ سچا ہوگا
بخت نصر کے حملے سے بھی شدید حملہ تھا
دجال اپنے مخالفین کو قتل کرےگا اور ساتھیوں کو چھوڑ دے گا
تاتاریوں کا حملہ ایسا تھا انہوں ان کو بھی ناچھوڑا جنہوں نے ان کےحوالے شہر کئے ان کا ساتھ دیا
سب کو قتل کر ڈالا عورتوں مردوں بچوں کسی کوبھی نا چھوڑا
تاتاریوں کا دہشت انگیزی کے ساتھ حملہ
علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ اس حادثے کی ہولنا کی اور دہشت انگیزی کے باعث میں کئی سال تک اس کے
تذکرے سے احتراز کرتا رہا
اس کے ذکر کو ناپسند کرتا رہا اب بھی میں پس و پیش میں ہوں کہ
لکھوں یا نہ لکھوں ہاں بھلا اسلام اور مسلمانوں کی موت کا اعلان کرنا کس کے لیے آسان ہے ؟
کون ہے جو احاطہ تحریر میں لانے کا حوصلہ کرے؟
اے کاش میری ماں مجھے نہ جنتی اے کاش کہ میں
اس حادثے سے پہلے ہی مر گیا ہوتا اور بھولا بسرا ہو چکا ہوتا
مگر کچھ دوستوں نے مجھے یہ لکھنے پر امادہ کیا
حالانکہ میں متذبذب تھا پھر میں نے سوچا کہ نہ لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اب میں بتاتا ہوں کہ یہ ایسا
حادثہ عظمی اور مصیبت کبری ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی
گزشتہ دن اور رات اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں یہ حادثہ تمام دنیا پر چھا گیا ہے مگر خاص کر
مسلمانوں پر
اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی زمانہ سے لے کر آج تک ایسی مصیبت نازل
نہیں ہوئی تو وہ یقینا سچا ہوگا کیونکہ تاریخ میں اس واقعہ کے قریب بلکہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا
بڑے بڑے حوادث کے تذکرے میں مؤرخین جو عظیم ترین حادثہ بیان کرتے ہیں اور بیت المقدس میں بخت نصر
کے ہاتھوں بنی اسرائیل کا قتل عام ہے
مگر درحقیقت بیت المقدس ان شہروں کے مقابلے میں
کچھ بھی نہیں جن کو ان بدبختوں تاتاریوں نے تباہ و برباد کیا ہے ان شہروں میں سے ہر ایک بیت المقدس
سے کئی گنا بڑا ہے اسی طرح بنی اسرائیل کے مقتولین کو تاتاریوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی تعداد
سے کچھ نسبت نہیں ہے
اس لیے کہ ان شہروں میں سے ایک شہر کے افراد کی
تعداد بھی بنی اسرائیل کے تمام مقتولین سے زیادہ ہے
شاید دنیا والے اس عالم کی فنا ہونے تک اس جیسا
حادثہ پھر نہیں دیکھیں گے سوائے یاجوج ماجوج کی تباہ کاری کے کہ وہ اس سے زیادہ ہوگی
جہاں تک دجال کے ظاہر ہونے کا تعلق ہے تو ان لوگوں کو زندہ چھوڑ دے گا جو اس کے تابع ہو جائیں گے
اور صرف مخالفت کرنے والوں کو قتل کرے گا مگر ان تاتاریوں نے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا بلکہ
عورتوں مردوں بچوں سب کو قتل کر ڈالا حتی کہ انہوں نے حاملہ عورتوں کے شکم (پیٹ) چاک کر کے
بچوں کو نکال کر ذبح کیا
یہ ایسا عظیم فتنہ ہے کہ اس کی چنگاریاں ہر طرف اڑ
رہی ہیں اور اس کا فساد ہر طرف پھیل چکا ہے اور یہ شہروں سے اس بادل کی طرح گزرتا
چلا گیا ہے جس کو آندھی ہانک رہی ہو۔
(الکامل الابن اثیرج7ص 570)
جہاد سے رو گردانی کا نتیجہ
شیخ نجم الدین رازی رحمہ اللہ علیہ جو اسی زمانے کے ایک عظیم صوفی بزرگ ہیں اپنی تصنیف مرصادالعباد کے مقدمے میں تحریر فرماتے ہیں
ان ملعون اور ذلیل تاتاریوں نے اسلام اور مسلمانوں کو جس فتنے اور خرابی میں مبتلا کر دیا ہے اسے لفظوں
میں سمونا ممکن نہیں ہمارے بادشاہوں اور حکمرانوں پر اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی ذمہ داری عائد
ہوتی ہے اس لیے کہ امیر اپنی رعایہ کا نگران ہے اور اس سے ان کی حقوق کے بارے میں پوچھ ہوگی
اللہ نہ کرے اگر اب بھی ان کے دلوں میں اسلامی غیرت و حمیت کا جذبہ بیدار نہ ہوا اور وہ دینی ولولے
اور دلیری سے عاری رہے اگر اب بھی سب مل کر ایک مستحکم جمیعت نہ بنے "جہاد میں نکلو چاہے ہلکے ہو
یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو” کے حکم کی تعمیل کے لیے کمربستہ نہ
ہوئے اپنی جان مال اور بادشاہت کو اس فتنے کے تدارک کے لیے قربان نہ کیا تو اس بات کے آثار نظر آرہے
ہیں کہ اسلام کا وجود بالکل ختم ہو جائے اور اکثر اسلامی ممالک پر حاوی فتنہ باقی ماندہ اسلام کو بھی
اپنے لپیٹ میں لے لے اور ساری دنیا کفر سے بھر جائے اور اس کا خطرہ پیدا ہوا چلا ہے کہ اسلام کا جو نام
باقی رہ گیا ہے ہم نام نہاد حقیقت سے کورے مسلمانوں کے اعمال بد کی نحوست سے یہ
بھی مٹ جائے کہ پھر اسلام کا نام و نشان بھی نہ رہے۔
(شیرخوارزم،صفحہ نمبر29)
