ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جد و جہد
ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جد و جہد
انسان کو ہر چیز کوشش کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے جیسے ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جدوجہد اور کوشش ہے
یہ بھی پڑھیں عثمانی سلطان سلیم اول کی جہادی سرگرمیاں
ترکوں کا اسلام لانا
ترکوں کے اسلام لانے کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ منگولوں کے ظلم سے تنگ آکر ماورا النہر سے ترکوں نے ہجرت اختیار کی اسی طرح یہ لوگ
اپنے اصلی وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں آکر رہائش پذیر اختیار کی منگولوں کی دشمنی سے بچنے کے لیے ان قبیلوں نے مغرب کی
راہ لی اور دریائے جیحوں کے قریبی علاقوں میں آکر بس گئے جہاں سے بعد میں وقتا فوقتا طبرستان اور جرجان آئے
اور یہاں بودوباش اختیار کر لی اس طرح ترک ان اسلامی علاقوں سے قریب ہو گئے جن کو مسلمانوں نے 21 ہجری 641 عیسوی میں
معرکہ نہاوند اور فارس میں دولت ساسانی کے سقوط کے بعد فتح کیا تھا (الکامل فی التاریخ/8/28)سلطنت عثمانیہ صفحہ 75)
عمر بن خطاب کے زمانہ میں فتوحات
22 ہجری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خلافت کے زمانہ میں مسلمان فوجوں نے باب کے علاقوں کی طرف
پیش قدمی کی انہی علاقوں میں ترک سکونت پذیر تھے اسلامی سپاہ کے سپہ سالار عبدالرحمن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ
نے ترکوں کے سردار شہر براز سے ملاقات کی اور ترکوں کے سردار نے صلح کی درخواست کی جس کو سپہ سالار نے
قبول کرتے ہوئے اپنے قائد سراقہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے ان کی پیشکش کو قبول
کر کے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اطلاع دے دی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے اتفاق کیا
اور معاہدہ یہ طئے پایا کہ یہ ترک ارمنوں پر حملہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی مدد کریں گے اس طرح ترکوں
اور مسلمانوں کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوئی۔(تاریخ الامم والملوک،محمد بن جریر طبری/3/256/257)
یہ بھی پڑھیں جہاد کی فضیلت
بعد میں اسلامی لشکر فارس کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف بڑھے جس کی طرف بڑھنے میں ساسانی
دولت رکاوٹ تھی جب صلح کے معاہدے کی بدولت یہ مشکلات ختم ہو گئیں تو ان علاقوں اور ملکوں تک پہنچنے
کی راہ ہموار ہو گئی اور ترکوں اور مسلمانوں کے درمیان ربط و ضبط پیدا ہو گیا ترک اسلامی تعلیمات سے متاثر
ہوئے اور اسلام قبول کر کے اسلام کی اشاعت اور غلبہ دین کے لیے مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو گئے۔
خلافت عثمان میں فتوحات
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں طبرستان کا پورا علاقہ فتح ہوا 31 ہجری کو اسلامی لشکر دریائے
جیحوں سے پار اترا اور ماورالنهر کے علاقے میں پڑاؤ کیا اس علاقے کے ترک جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے
اور اسلام کا دفاع کرنے اور خدائی پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے جہادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے ۔
بعد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بخارا فتح ہوا اور
اس طرح کامیابیوں کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا (سلطنت عثمانیہ صفحہ 76)
تاتاریوں کے مسلمانوں پر حملے کی شدت
عباسی خلیفہ معتصم
خلافت پر متمکن ہوا تو ترکی اثر و نفوذ کے سامنے اعلی مناصب کے سب دروازے کھل گئے بڑے بڑے منصب ترکوں کے
سپرد ہوئے اسی طرح معتصم نے ترکوں کے لیے دروازہ کھول کر ایرانی اثر رسول کو کم کرنا چاہا ایسے میں ایرانیوں
کا اثر و رسوخ کم ہو گیا اور ترکوں کا اثرو رسوخ بہت حد تک بڑھ گیا معتصم نے ترکوں کو جگہ دینے کے لیے الگ
علاقے کو آباد کیا جس کا نام سامرہ تھا جہاں ان کے قریبی سپاہی جو ترکوں پر مشتمل تھے وہ رہتے تھے اور
ترکوں پر مشتمل ایک بہت بڑی فوج تھی وہ اس علاقے میں رہائش پذیر ہونے لگی۔یوں تاریخ اسلامی کے اہم ترین
دور میں ترکوں کو سلطنت میں خاصی اہمیت حاصل ہو گئی اور ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جد و جہد
یہیں سے شروع ہوئی۔ایسے میں آکر ترکوں نے ایک بہت بڑی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی پھر اس سلطنت کا
دولت عباسی کے خلفاء کے ساتھ مضبوط تعلق تھا یہ سلطنت تاریخ اسلام میں سلجوقی سلطنت کے نام سے
پہچانی جاتی ہے ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جد و جہد کامیاب ہوئی اور وہ قحط و دشمنی سے چھٹکارہ
پاکر جہدوجہد کرکے ایک بہترین سلطنت کے مالک بھی بن گئے۔(سلطنت عثمانیہ صفحہ نمبر 77)
ایرانی مامون کے دور سے عباسی خلافت میں اثر رسوخ رکھتے تھے اتنا اثر و رسوخ بڑھ گیا کہ وہ خلیفہ کے
فیصلوں پر بھی حاوی ہونے لگے ایسے میں معتصم نے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکوں کو جگہ دی اور پھر
ایرانیوں سے زیادہ ترکیوں نے اثر و رسوخ حاصل کیا اور خلیفہ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے لگے ۔
یہاں تک کہ ترک فوج ہی پرانے خلیفہ کو معزول کرتے اور نیا خلیفہ لاتے ایسے میں عباسی خلفاء بطور علامتی
خلفاء ہی رہ گئے اور اس کا فائدہ اٹھا کر شروع ہوگئی ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جد و جہد اور وہ سلجوقی دولت بنانے میں کامیاب ٹھہرے
اگلی تحریر سلجوقی دولت پر ہوگی
