مرتد کا ذبیحہ اور دوسرے احکام
مرتد کا ذبیحہ

اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا اسلام چھوڑ واپس کفر میں جانے کی وجہ سے
اگر چہ وہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے اس کے بسم اللہ کا کوئی اعتبار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں
مرتد کا تعارف
مرتد کا لفظی معنی ہوتا ہے لوٹنے والا
اصطلاح میں مرتد اسے کہتے ہیں جو ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرکے کفر کی طرف لوٹ جائے۔
جیسے رسول اللہ کی ظاہری وصال کے بعد خلیفہ اول کے زمانے میں
لوگ اسلام سے پھر کر مرتد ہوگئے اور زکوۃ دینے سے انکار کردیا۔
مرتد دائرۂ اسلام سے خارج ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ذبیحہ حلال نہیں
کافر اگر کتابی ہو رب کو ایک مانتاہوتو اس کے ذبیحے کو فقھاء نے حلال قرار دیا
لیکن آج کل اس پر احتیاط یہ ہے کہ کافر کتابی
عیسائی و یھودی ہے تو اس کے ذبیحے سے بچا جائے۔
کافر کے گوشت میں کچھ احتیاطیں
گوشت مسلمان کا ہو پکایا مرتد سے گیاہوتو تب بھی اس کے کھانے سے بچنے
کا حکم ہے اور وہی گوشت اگر کافر کتابی کے پاس
گیا ہوتو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:مُرتَدکا ذَبیحہ مُردار ہے اگر چِہ بسمِ ﷲ پڑھ کر ذَبح کرے۔
(عالمگیری جلد 2 صفحہ 255)
اور یہی حکم بعینہ بہار شریعت حصہ نہم مسئلہ 17 میں بھی بیان کیا گیاہے
مرتد کا ذبیحہ مردار ہے اگرچہ بسْمِ اللہ کرکے ذبح کرے۔
اور اگر مسلمان کا ذَبح کردہ گوشت ذَبح سے لیکر کھانے تک ایک لمحے
کیلئے بھی مسلمان کی نظر سے اَوجھل ہو کر اگر مُرتَد یا غیر کتابی
کافِرکے قبضے میں گیا تو اس کا کھانا بھی ناجائز ہے۔
چنانچہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشادفرماتے ہیں اگر وقت ذبح سے
وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے بیچ میں کسی وقت مسلمان
کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان
کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 20,صفحہ نمبر 282)
اور در مختار حاشیہ ابن عابدین میں ہے کہ مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں ہے ۔
(ﻻَ) ﺗَﺤِﻞُّ (ﺫَﺑِﻴﺤَﺔُ) ﻏَﻴْﺮِ ﻛِﺘَﺎﺑِﻲٍّ ﻣِﻦْ (ﻭَﺛَﻨِﻲٍّ ﻭَﻣَﺠُﻮﺳِﻲٍّ ﻭَﻣُﺮْﺗَﺪٍّ)
اﻟﺪﺭ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻭﺣﺎﺷﻴﺔ اﺑﻦ ﻋﺎﺑﺪﻳﻦ (ﺭﺩ اﻟﻤﺤﺘﺎﺭ،كتاب الذبائح صفحة -298)
فتاوی ہندیہ میں کافر کتابی کے بارے میں ہےکہ اگر کسی
نے یھودی یا نصرانی کو اضحیہ کو ذبح کا حکم دیا
تو حلال ہوگیا کھایا بھی جائے گا لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے
کیوں کہ قربانی ثواب کے لئے ہے اور کافر کتابی کے عمل پر ثواب مرتب نہیں ہے
ﻭَﻟَﻮْ ﺃَﻣَﺮَ ﻳَﻬُﻮﺩِﻳًّﺎ ﺃَﻭْ ﻧَﺼْﺮَاﻧِﻴًّﺎ ﺑِﺬَﻟِﻚَ ﺃَﺟْﺰَﺃَﻩُ ﻷَِﻧَّﻬُﻤَﺎ
ﻣِﻦْ ﺃَﻫْﻞِ اﻟﺬَّﺑْﺢِ ﻭَﻟَﻜِﻨَّﻪُ ﻣَﻜْﺮُﻭﻩٌ؛ ﻷَِﻥَّ ﻫَﺬَا ﻣِﻦْ
ﻋَﻤَﻞِ اﻟْﻘُﺮْﺑَﺔِ ﻭَﻓِﻌْﻠُﻪُ ﻟَﻴْﺲَ ﺑِﻘُﺮْﺑَﺔٍ، ﻛَﺬَا ﻓِﻲ اﻟْﻤَﺒْﺴُﻮﻁِ.
(جلد 5 صفحہ 300)
مجوسی اور مرتد کے ذبح کردہ گوشت کو بیچنا جائز نہیں
اور ایسے کافر کے ذبح والے گوشت کوبھی بیچنا جائز نہیں
جو کافر غیر کتابی ہے جیسے ہندو وغیرہ
اور اس گوشت کو بھی بیچنا جائز نہیں جسے ذبح تو مسلمان نے کیا ہے البتہ بسم اللہ کو
جان بوجھ کر ذبح کے وقت چھوڑ دی ہے بھول کر چھوڑنے کا حکم یہ والا نہیں
ﻭَﻻَ ﻳَﺠُﻮﺯُ ﺑَﻴْﻊُ ﺫﺑﻴﺤﺔ اﻟْﻤَﺠُﻮﺳِﻲِّ ﻭَاﻟْﻤُﺮْﺗَﺪِّ ﻭَﻏَﻴْﺮِ اﻟْﻜِﺘَﺎﺑِﻲِّ
ﻭَﻛَﺬَﻟِﻚَ ﻻَ ﻳَﺠُﻮﺯُ ﺑَﻴْﻊُ ﻣَﺎ ﺗُﺮِﻛَﺖْ اﻟﺘَّﺴْﻤِﻴَﺔُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻋَﻤْﺪًا ﻛَﺬَا ﻓِﻲ اﻟﺬَّﺧِﻴﺮَﺓِ
(جلد 3 صفحہ 115)
مرتد کا ذبیحہ اور کافر غیر کتابی
کا ذبح کیاہوا گوشت کبھی حلال نہیں ہوسکتا
مگر کافر کتابی یھودی نصرانی کا ذبیحہ حلال تو ہے مگر مکروہ
مکروہ کا لفظ مطلقا فقھاء نے لکھا ہے اس سے مکروہ تحریمی بھی مراد ہوسکتاہے
جس کا حکم حرام کے قریب قریب ہے یعنی ایسے
ذبیحے والے گوشت سے بچنا زیادہ بہتر ہے
اور تقوی پرہیز گاری ہے تو ہر شخص کو ایسے گوشت سے اجتناب لازم ہے خصوصا جو مسلمان
یورپین ممالک میں رہتے ہیں انہیں ایسے مسائل کا
سامنا ہوسکتاہے کیوں کہ وہیں پہ ہی
کافر کتابی اکثریت میں ہیں اور ان کا اس طرح مذبح خانے ہوسکتے ہیں
جیسے پاکستان میں مسلمان مذبح خانے چلاتے ہیں
لہذا مرتد کا ذبیحہ کبھی بھی حلال نہیں ہوسکتا
اور کافر کتابی والے گوشت میں احتیاط ضروری ہے
زبیراحمد
