ھاروت اور ماروت کا واقعہ / سحرکی شرعی و لغوی معنی
ھاروت اور ماروت کا واقعہ / سحرکی شرعی و لغوی معنی

دو فرشتے ھاروت اور ماروت کا واقعہ قرآن مجید فرقان حمید سورہ بقرہ کے 102 نمبر آیت میں ہے اس کے بعد سحر کی شرعی اور لغوی معنی کو بھی بیان کیا جائے گا۔
سحر و جادو کا قرآن میں بیان
مدینہ پاک کے یہود حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سحر و جادو کا نسبت کرتے تھے جبکہ اقا علیہ الصلوۃ
والسلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر نبیوں میں فرمایا اور جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت
سلیمان علیہ السلام کو نبی قرار دیا تو مدینہ کے یہودیوں نے اقا علیہ الصلوۃ والسلام پر طعن و تشنیع کیا کہ دیکھو
یہ سلیمان علیہ السلام کا ذکر نبیوں میں کرتے ہیں حالانکہ نعوذ باللہ حضرت سلیمان محض جادوگر تھے۔
مذکورہ بالا آیت میں ھاروت و ماروت کا واقعہ
جامع البیان جلد 1 میں ھاروت و ماروت کے بارے میں بیان کیا ہے کہ جنات آسمانوں پر جاتے اور فرشتوں کی
باتیں سنتے وہ باتیں آکر کاہنوں کا بتاتے کاہنوں کے بتائی ہوئی باتیں بعینہ اسی طرح واقع ہونا شروع ہوئے
تو لوگوں نے بہت سارا جھوٹ ملاکر اسے کتابوں میں لکھ لیا اس زمانے میں لوگوں میں مشہور ہوگیا
کہ جنات کو غیب کا علم ہے پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کتابوں کو ضبط کرواکر اپنی کرسی کے نیچے
دفن کروا دیا جب سلیمان علیہ السلام کا وصال ہوگیا اس زمانے کے حقیقی علماء بھی فوت ہوگئے
شیاطین جنوں کو کرسی تک رسائی مل گئی انسانی شکل
اختیار کرکے کتابوں کو نکال کر عام کردیا لوگ سحر سیکھنے لگے
ان کتابوں کو نکال کر جنات نے یہ بات مشہور کردی کہ حضرت
سلیمان علیہ السلام انہی چیزوں کے طاقت پر حکومت
چلاتے تھے ایسے میں جادوگری بہت عام ہوئی اور سلیمان علیہ
السلام کے متعلق مشہور ہوگیاکہ نعوذ باللہ آپ جادوگر تھے
اسی وجہ سے مدینہ کے یہودی حضرت سلیمن علیہ السلام کو نعوذ باللہ
جادوگر گردانتے تھے جب آقا علیہ السلام نے ان کا تذکرہ بطور نبی فرمایا۔
ہاروت و ماروت کے واقعے کے متعلق قرآن کا بیان
جب یہودیوں نے کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جادوگر تھے نعوذباللہ تو رب تعالی نے فرمایا
سلیمن کے بادشاہی کے زمانے میں شیاطین ہی جادو سکھاتے
اور انہوں نے دوفرشتوں ھاروت و ماروت سے سیکھا
جن کو بطور آزمائش نازل کیا گیا اور وہ سیکھنے والوں کو کہتے ہم تو آزمائش میں ہیں تم کفر نا کرنا
اور لوگوں نے ان سے نقصان دینے کی چیزیں سکھیں جیسا کہ
میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا.(مفہوم آیت،102،البقرہ)
ھاروت و ماروت پر سحر نازل کرنے کی حکمت
ھاروت و ماروت دو فرشتے ہیں۔ محققین کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالی نے ھاروت و ماروت
کو اس وجہ سے بھیجا کہ وہ لوگوں پر "سحر و جادو” واضح کریں
اس وجہ سے وہ لوگوں کو "جادو کی تعلیم” دیتے اور عمل سے روکتے تھے
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالی نے لوگوں کی آزمائش کے لیے
سحر کو نازل کیا جس نے سحر سیکھ کر اس پر عمل کیا
وہ کافر ہوگیا اور جس نے سحر کو نہیں سیکھا یا جادو کے ضرر سے بچنے کےلیے اور جادو کی حقیقت جاننے
کےلیے اس کو سیکھا اور اس پر عمل نہیں کیا وہ اپنے ایمان پر سلامت رہا۔
(تبیان القرآن،جلد اول،صفحہ 468)
ھاروت اور ماروت کے متعلق من گھڑت احادیث
اوپر جو مذکورہ حکمت ذکر کی ہے یہی ھاروت و ماروت کے
متعلق حقیقت ہے بقیہ روایات ہیں لیکن وہ من گھڑت و موضوع ہیں
باقی امام رازی نے بھی ان روایات کو من گھڑت قرار دیا فرمایا اللہ رب العزت
نے کلام پاک میں فرشتوں کی عصمت بیان کی ہے۔(تفسیرکبیر،جلد اول)
امام رازی ان روایات کی طرف اشارہ کررہےہیں جن میں بیان ہے
کہ ھاروت و ماروت کو جب زمین پر اتارا گیا تو ایک
عورت کے ساتھ انہوں نے زنا کرنے کا ارادہ کیا نعوذ باللہ تو اس عورت انہیں
کہا کہ پہلے شرک کرو،زنا کرو،بت کو سجدہ کرو شروع
میں راضی نہ ہوئے جب بات نہیں بن رہی تھی تو یہ تمام وہ کرگزرے۔ یہ روایت جامع البیان جلد اول میں مذکور ہے۔
علامہ قرطبی نے ان روایات کو ضعیف قرار دیا کہ کوئی روایت صحیح نہیں۔(الجامع القرآن جلد 2)
سحر کا شرعی و لغوی معنی
جس چیز کا ماخذ لطیف اور دقیق ہو وہ سحر ہے۔
(القاموس،جلد 2،679،دارالعلم بیروت)
شرعی معنی یہ یے کہ جو کام انسان نہ کرسکے شیطان کی مدد وتقرب کے بغیر مکمل نہ ہو اور شیطان کےشرو
خبث نفس سے
مناسبت ضروری ہو اسے سحر کہتے ہیں۔
(تفسیر بیضاوی،صفحہ نمبر ،95،96،سعید اینڈ کمپنی کراچی)
