مردوں کو سونے اور چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا
مردوں کو سونے اور چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا
یہ بھی پڑھیں کہ کرسمس مبارک باد اور تہوار میں (شمولیت) کاحکم
اس تحریرکےاندرآپ پڑھیں گےکہ مردوں کو سونے اور چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا اور مردوں
کوچاندی کی انگوٹھی پہنناکیسا سونےکی انگوٹھی مطلقا حرام ہے۔
چاندی کی انگوٹھی ساڑھےچارماشہ کی
اور چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز توہے لیکن ساڑھےچارماشہ
سےکم ہواگرزیادہ ہواتویہ بھی حرام ہے۔
انگوٹھی کا اصل استعمال
ویسے بھی آقا علیہ السلام نے چاندی کی انگوٹھی خطوط پرمہرلگانےکےطورپر
استعمال کیا آج کل اس لحاظ سے
اس کی کوئی حاجت تونہیں اس وجہ سے فقہاء کرام فرماتےہیں انگوٹھی پہننے سے بچاجائے۔
حضور انگوٹھی اتاردیتے
نسائی اَنس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب بیت الخلا کو
جاتے، انگوٹھی اُتار لیتے،کہ اس میں نام مبارک کندہ تھا۔
(’’ جامع الترمذي ‘‘الحدیث :1752)
قیصر و کسری کو خطوط
صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسولﷲصلی اللہ تعالی
علیہ وسلم نے جب یہ ارادہ فرمایا کہ کسریٰ و قیصر و نجاشی بادشاہ کو
خطوط لکھے جائیں تو کسی نے یہ عرض
کی، کہ وہ لوگ بغیر مہرکے خط کو قبول نہیں کرتے، حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے
چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس میں یہ نقش تھا ’’محمدرسول اﷲ ۔‘‘
(صحیح مسلم،الحدیث: 54)
امام بخاری کی روایت میں ہے، کہ ’’انگوٹھی کا نقش تین سطر میں تھا۔
ایک سطر میں محمد ، دوسری میں رسول، تیسری میں اﷲ ۔
( ’’ صحیح البخاري،الحدیث:5878)
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے خود بھی انگوٹھی استعمال کیا
اگر اسی حدیث کی پیروی کرتے ہوئے کوئی اپنی انگوٹھی نگینہ پر کچھ لکھوانا چاہے تو جائز ہے
سونےکی انگوٹھی مرداورعورتوں کےلئے
علامہ نووی نے مسلم شریف کی شرح جلد دوم میں فرمایامسلمانوں کا اس بات
پر اتفاق ہے کہ عورتوں کے لیے سونے کی انگوٹھی جائز ہے
اور مردوں کے لیے حرام ہے۔
اشعۃ اللمعات میں ہےکہ سونے کی انگوٹھی کی حرمت مردوں کے لیے ہے
لیکن عورتوں کے لیے حرام نہیں ہے۔
مردوں کوسونے کی انگوٹھی سےمنع فرمانا
ایک حدیث روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ حضورعلیہ السلام نے
مردوں کوسونےکی انگوٹھی سے منع فرمایا۔
(مسلم شریف)
دوسرے دھاتوں سے بنی انگوٹھی
یہاں بیان ہوگاکہ مردوں کے لیے دوسرے دھاتوں سے بنی انگوٹھیاں بھی جائز نہیں۔
حضور علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا جو پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا کیا بات
ہے کہ تجھ سے بتوں کی بو آتی ہے۔
انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر
لوہے کی انگوٹھی پہن کر آئے۔
حضور نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں دیکھتا ہوں تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے ہو۔
اس شخص نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی پھر حضور کے بارگاہ میں عرض کیا یا رسول اللہ
کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟
فرمایا چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورا
نہ کرو
یعنی وزن میں پوری ساڑھے چار ماشہ سے نہ ہو بلکہ کچھ کم ہو
(مسلم شریف)
مرد کا دوسرے دھاتوں کو استعمال کرنا کیسا
کسی بھی شخص کے لیے پیتل کی بنی ہوئی چیزیں سونے یا لوہے کی بنی ہوئی چیزیں پہننا
جائز نہیں ہے اس وجہ سے یہی حکم دیا جاتا ہے
کہ مرد کا دوسرے دھاتوں کو استعمال کرنا
جائز نہیں ہے مذکورہ حدیث سے یہی بات سمجھ میں آرہی ہے۔
انگوٹھی پہننا کب مسنون ہے
مردوں میں سے،انگوٹھی اُنھیں کے لیے مسنون ہے جن
کو مُہر (ٹھپہ لگانے) کی حاجت ہوتی ہے، جیسے سلطان و
قاضی اور علما جو فتوی پر مہر کرتے ہیں،ان کے سوا دوسروں کے لیے جن کو مہر کرنے کی
حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے.
بہارشریعت،حصہ 16،بتغیرقلیل)
نگینہ انگوٹھی کا ہتھیلی کی طرف ہو
چناچہ بہار شریعت حصہ 16 واں میں ہےکہ مردکو چاہیے کہ اگرانگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی
جانب رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں ایساکرنےمیں زینت ہے
اورزینت اسی صورت میں زیادہ ہے
کہ نگینہ باہر کی جانب رہے۔ (بتغیر) (ہدایہ)
ایک نگینہ کی انگوٹھی
ہرشخص کو چاہیئے کہ ایک نگینہ والی انگوٹھی پہنےایک سے زیادہ نگینہ والی انگوٹھی پہنناجائزنہیں۔
اگر کسی کے ذہن میں سوال آئے کہ مردوں کو سونے اور چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا تو اس کے سوال کا جواب اس تحریر کے اندر موجود ہے
