سحر جادو کا حکم شرعی
سحر جادو کا حکم شرعی
سحر و جادو کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کا سیکھنا حرام ہے کوئی اگر اس کے جائز ہونے
کا اعتقاد رکھے تو کافر ہو جائے گا ہمیشہ جاہل لوگ اپنی طرف سے کوئی عمل شروع کر
دیتے ہیں اور اپنے ہی زعم و گمان میں اس کو جائز تصور کرتے ہیں اور وہ جائز تصور
رکھنا اعتقاد رکھنا بعض اوقات انسان کو دائرہ کفر میں داخل کر دیتا ہے۔
ایسے ہی سحر و جادو کا حکم شرعی بھی اسی طرح ہے جیسا کہ بعض لوگ سحر
و جادو والے کام میں مصروف ہوتے ہیں شرعی حکم جانے بغیر ۔
یہ بھی پڑھیں جادو اور کرامت میں فرق
جادو کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم
اور اگر جادو کرنے والا جادو کو حرام سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو فقہاء کے
نزدیک اس کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔
(فتح القدیر جلد 5،تبیان القرآن جلد 1،ص 467)
حدیث شریف سے ساحر کے قتل کا حکم
ابو داؤد شریف میں حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ساحر کے قتل کا حکم ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے جس کو امام ابو داؤد
نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر ساحر کو قتل کر دو۔
(المغنی جلد 9،ص 36،مطبوع احیاء التراث،بیروت)
فتح القدیر کے اوپر والے حوالے کے لحاظ سے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے
روایت ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا ساحر جادو کرنے والے کی حد یہ ہے کہ اس کو تلوار سے مار دیا جائے۔
(تبیان القرآن،ایضا)
ساحر جادو کرنے والے پر کفر کا فتوی
علامہ شامی لکھتے ہیں ساحرجادو کرنے والے پر کفر کا فتوی اس وقت لگایا جائے گا جب وہ
کسی کفریہ امر کا اعتقاد کرے
اورجب اعتقاد نہ ہو تب تک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
اور علامہ حصکفی نے لکھا ہے کہ ساحر کو مطلقا قتل کر دیا جائے گا۔
ساحرین کا میاں بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنا
ہمارے زمانے میں آج کل فتنوں کا زمانہ ہے
لوگ ساحرین کے پاس جاتے ہیں اور میاں
بیوی کے درمیان تفرقہ ڈلواتے ہیں
ان میں جدائیاں ڈال دیتے ہیں گھر کا ماحول خراب کروا دیتے ہیں
کیونکہ جسم پر جادو کا اثر ہوتا ہے ان جیسے لوگوں کے
بارے میں فتاوی قاضی خان میں مذکور ہے کہ جو شخص کسی آدمی
اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے کوئی عمل کرے
وہ مرتد ہے اور اس کو قتل کر دیا جائے گا بشرطیکہ وہ
جدائی ڈالنے میں اس عمل کی تاثیر کا اعتقاد رکها ہو یعنی جو عمل
و جادو گر کر رہا ہے اس کا یہ اعتقاد بھی ہو کہ ان کے درمیان
میں اس عمل کی تاثیر کی وجہ سے جدائی ہو جائے گی اور جو
شخص لوگوں کو صرف تکلیف پہنچانے کے لیے جادو کرتا ہے سحر کرتا ہے
اس کو قتل کر دیا جائے گا اور جو ساحر جادوگر جادو کرنے والا تجربہ
کے لیے جادو کرتا ہے اور اس پر اعتقاد نہیں رکھتا یعنی
وہ اثر نہیں کرتا اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی
اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔(ایضا)
اقرار یا گواھی سے سحر کاثابت ہونا
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا جس شخص کا سحر کرنا اس
کے اپنے اقرار یا کسی دوسرے کی گواہی سے ثابت ہو تو
اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں طلب کی جائے گی۔
کسی جادوگر کی جادوگری مشہور ہو گئی اس کا سحر کرنا مشہور
ہو گیا اور حکومتی سزا سے پہلے اس نے توبہ کر لیا تو اسے قتل نہیں کیا
جائے گا اور پکڑے جانے کے بعد اس نے توبہ کر لی تو اس کی توبہ
کو قبول نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ جو ساحر کو کافر قرار دیا گیا
ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جادو کرنے والا کفریہ کلمات سے
جادو کرنے والا ہو تو اس پر کفر کا فتوی لگے گا
وگرنہ حرام ہونے کا فتوی لگایا جائے گا۔(ایضا)
سحر جادو کا حکم شرعی فقھاء کے نزدیک یہی ہے جسے بیان کیا گیاہے
اللہ عزوجل عمل کی توفیق عطافرمائے۔
