آب زمزم کے پانی سے وضو و غسل اور پینے کے طریقے کا بیان
آب زم زم کے پانی سے وضو و غسل اور پینے کے طریقے کا بیان
آب زم زم بہت برکتوں والا پانی ہے عام پانی کے لحاظ سے اس کے پینے کا طریقہ الگ ہےعام حالات میں ہم
پانی پیتے ہیں ہمیں بیٹھنے کا حکم ہے اور بیٹھ کر تین سانسوں میں پانی پینے کا حکم ہےاور یہی سنت
طریقہ ہے عام پانی کے پینے کا۔ عام پانی کی بنسبت آب زم زم کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے
کھڑے ہوکر پیا ہےیہی وجہ ہے کہ علماء عام پانی کو کھڑے ہوکر پینے کو جائز سمجھتے ہیں لیکن کھڑے
ہوکر پینے کو خلاف سنت سمجھا جاتا ہےاور احادیث میں منع بھی وارد ہوا ہے تو دوسری طرف آب زم زم
کو کھڑے ہوکر رسول اللہ نے پیا ہے تو عام پانی کا کھڑے ہوکر پینے کا جواز ثابت اس لحاظ سے ہوتا ہے
کہ دونوں ہیں تو پانی ہی ہیں ۔
تو اس کا جواب علماء و فقھاء نے دیاہے کہ جائز ہے وضو اور غسل کیا جاسکتاہے اس میں کراہتو ناپسندیدگی بھی نہیں یہاں تک کہ اس میں ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ﻳﺠﻮﺯ اﻟﻮﺿﻮء ﻭاﻟﻐﺴﻞ ﺑﻤﺎء ﺯﻡﺯﻡ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻣﻦﻏﻴﺮ ﻛﺮاﻫﺔ ﺑﻞ ﺛﻮاﺑﻪ ﺃﻛﺒﺮ۔(مراقی الفلاح ، حاشیۃ الطحطاوی، جلد اول صفحہ نمبر 21/22)
مسلم شریف میں کھڑے ہوکر آب زم زم پینے کا ذکر آیا ہےحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارگاہ میں کسی برتن میں آب زمزم کا پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر ہی پیا۔(مسلم شریف ، کتاب الأشربہ،حدیث نمبر 117)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا عبدالمطلب جن کا اصل نام شیبہ تھا انہوں نے اپنے زمانے میں آب زمزم کا کنواں کھدوایاجو کہ اس سے پہلے بالکل غائب ہو چکا تھا اور اسی کے ذریعے سے وہ حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اور کعبہ کے متولی اورسجادہ نشین بھی آپ ہی مقرر ہوئے.(شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ)
عام پانی کو جیسے پیا جاتاہے ایسے ہی زمزم کے پانی کو پیا جائے گا جیسے کہ بسم اللہ پڑھ کر پینا شروع کرنا ہے تین سانسوں میں ٹھہر کر پینا ہر بار شروع میں بسم اللہ پڑھنا ہے اور آخر میں الحمدللہ پڑھنا ہے۔ اگر حرم میں ہوں تو ہر سانس پر کعبہ پر نظر کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہرگز کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پیئے اگر بھول گیا تو وہ الٹی کر دے۔ﻭﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﻻ ﻳﺸﺮﺑﻦ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻓﻤﻦ ﻧﺴﻲ ﻓﻠﻴﺴﺘﻘﻲء”.(ایضا صفحہ نمبر 77) (ﺷﺮﺡ اﻟﻨﻮﻭﻱ ﻋﻠﻰ ﻣﺴﻠﻢ،كتاب الأشربة،باب فى الشرب قائما، صفحة -195)
یہ نہی پر سخت حکم ہے اور بہت ناپسندیدگی کا اظہار ہےعلامہ نووی نے لکھا ہے
کہ اس طرح کھڑے کھڑے پانی پینے کے بارے حدیث میں جو منع وارد ہے اس کا حکم مکروہ تنزیہی
کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زم زم کھڑے کھڑے پینا یہ بیان جواز کے لیے تھا۔
ﻭَاﻟﺼَّﻮَاﺏُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺃَﻥَّ اﻟﻨَّﻬْﻲَ ﻓِﻴﻬَﺎ ﻣَﺤْﻤُﻮﻝٌ ﻋَﻠَﻰ ﻛَﺮَاﻫَﺔِ اﻟﺘَّﻨْﺰِﻳﻪِ ﻭَﺃَﻣَّﺎ ﺷُﺮْﺑُﻪُ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﺋِﻤًﺎ ﻓَﺒَﻴَﺎﻥٌ ﻟﻠﺠﻮاﺯ ﻓﻼ اﺷﻜﺎﻝ ﻭﻻﺗﻌﺎﺭﺽ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آب زمزم کے پانی کے ساتھ غسل و وضو بھی جائز ہے بلکہ احسن ہے اس کے علاوہ جس
طرح عام پانی کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس کو بیٹھ کر تین سانسوں میں پینا سنت ہے اس کے خلاف
اگر کوئی کرے گا تو وہ خلاف سنت ہوگا اور اگر عام پانی کو ہی کوئی کھڑے ہو کر پیے تو یہ مکروہ تنزیہی
ہے کھڑے ہو کر پانی میں کوئی گناہ نہیں ہے اسی طرح ہی جیسے آب زمزم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیا ہے ایسے ہی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے اور سنت سے ثابت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کے عمل سے ثابت ہوا اور اگر کوئی اس کے الٹ کرے کہ وہ بیٹھ کر پانی پیئے تو اس کے لیے
بھی جائز ہے وہ بھی خلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہی ٹھہرے گا
