خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مشتمل سوال و جواب
خاندان رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر میں آپ کے پچھلے آباء اجداد یعنی سلسلہ نسب
کا تذکرہ بھی ہوسکتاہے اور خاندان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ علیہ السلام کے بیٹے بیٹیاں
اور اہل بیت میں سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ازواج مطہرات کاتذکرہ بھی ہوسکتاہے
اور خاندان رسول میں چچاحضرات کا ذکر بھی شامل ہوسکتاہے
یہ بھی پڑھیں قرآن سے متعلق اسلامی معلومات
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصئ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانه بن خزیمه بن مدرکه بن الیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بن آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زهره بن کلاب بن
مرہ حضور علیہ السلام کے والدین کا نسب نامہ کلاب بن مره پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر
دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں عدنان تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ اتفاق
مؤرخین سے ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت اختلاف ہے اور حضور علیہ السلام جب
بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو عدنان ہی تک ذکر فرماتے (سیرت مصطفی،صفحہ 50)
ابو سفیان جب حالت کفر میں تھے اس نے ہرقل بادشاہ روم کے سامنے بیان کیا کہ وہ عالی خاندان سے ہیں
فہر بن مالک قریش اس لیے کہلاتے کہ قریش ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور
ہوتا ہے اور وہ جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا فہر بن مالک اپنی
شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائل عرب پر غالب تھے اس لیے
تمام اہل عرب ان کو قریش کے لقب سے پکارنے لگے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پردادا بے حد سخی اور مہمان نواز تھے عرب میں جب قحط پڑ گیا تو
آپ ملک شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا (ٹکڑے) کر
کے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں سرید بنا کر تمام حاجیوں کو پیٹ بھر کر کھلاتے اس دن
سے لوگ ان کو ہاشم روٹیوں کا چورا کرنے والا کہنے لگے۔(مدارج النبوت)
پردادا کا اصلی نام عَمَر٘و تھا مشہور نام ھاشم تھا
عبدالمطلب کا اصلی نام شیبہ تھا
زمزم کا کنواں جو بالکل غائب ہو چکا حضرت عبدالمطلب نے اس کو کھدوایا۔
آپ کا لقب "مطعم الطیر” ہے یعنی پرندوں کو کھلانے والاشراب اور زنا کو حرام جانتےتھے ،
لڑکیوں کو زندہ درگور (قبر میں) کرنے والوں کے خلاف تھے. پکے موحد تھے اصحاب
فیل "ہاتھی والا واقعہ” آپ ہی کے زمانے پیش آیا
یمن کے بادشاہ ابرہہ نے حضور علیہ السلام کے پیدائش سے صرف 55 پچپن دن پہلے یہ
حملہ کیاتھا جب ان پر ابابیلوں نے پتھروں کے ذریعے حملہ کیاتھا (زرقانی)
والد محترم کانام "عبداللہ بن شیبہ” المعروف عبد المطلب تھا بہت حسین و جمیل تھے۔
آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا تھا۔آمنہ بی بی سے شادی کے بعد ملک شام تجارت کے لیے
حضرت عبداللہ رضہ اللہ عنہ گئے وہاں ایک ماہ بیماررہ کر 25 برس کی عمر پاکر وصال فرما گئے جبکہ
بی بی آمنہ کے پیٹ حمل کو دو ماہ گزرے تھے۔(زرقانی علی المواهب اللدنیه،جلد اول)
ایک لونڈی "ام ایمن” جن کا نام برکہ تھا کچھ اونٹ و بکریاں چھوڑیں۔
ام ایمن کی شادی حضرت زید بن حارثہ سے ہوئی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
سودہ رضی اللہ عنہا
عائشہ رضی اللہ عنہا
حفصہ رضی اللہ عنہا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
میمونہ رضی اللہ عنہا
جویریہ رضی اللہ عنہا
صفیہ رضی اللہ عنہا
آپ رضی اللہ عنہا آقا علیہ السلام کی پہلی بیوی مشکل وقت میں مدد کرنے والی آقا علیہ السلام کے ساتھ پچیس سال رہے ہجرت سے 3 تین سال قبل فوت ہوئیں آقا علیہ السلام کی چاروں بیٹیاں آپ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہوئی ہیں
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا
نفیسہ رضی اللہ عنہا
صاحبہ رضی اللہ عنہا
حضرت قاسم
عبداللہ
ابراہیم رضی اللہ عنھم
حضرت زینب رضی اللہ عنہا
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
حارث،ابوطالب،زبیر،حمزہ رضی اللّٰہ عنہ،عباس رضی اللہ عنہ
ابولہب،غیداق،مقوم،ضرار،قثم،عبدالکعبہ، جحل
ان میں سے صرف دو اسلام لائے حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنھما
عاتکہ
امیمہ
ام حکیم
برہ
صفیہ
اروی
صفیہ متفقہ طور پر تاریخ دانوں کے نزدیک اسلام لےآئیں اور اروی،عاتکہ،امیمہ کے اسلام لانے
میں اختلاف ہے کسی کے نزدیک مسلمان تو کسی کے نزدیک غیرمسلم
یہ بھی پڑھیں ولادت با سعادت آقائے مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
