مرزا انجینئر کے خرافات
ویسے دیکھاجائے تو مرزا انجینئر کے خرافات کی کوئی
کمی نہیں اس کے علاوہ
مرزا انجینئر نے کرامات پر اعتراضات اٹھائے اور
اس حد تک لے گئے جس سے یہی سمجھا جارہاہے کہ
وہ کرامات کے وقوع کا ہی انکار کررہاہےاور
اکثریت وہ یہی رائے پیش
کرتے ہیں کہ جس سے کرامت کا ظہورہوا ہو یا
ہوتاہے اسے دوبارہ بولا
جائے تو وہ دوبارہ وہی کرامت نہیں دکھا سکتا یہ قاعدہ
تو کسی بزرگ کے بارے میں نہیں ہےکہ ایک بار
جب کرامت کا صدور ہوگیا تو دوبارہ بھی کرامت کا
صدور لازمی ہو جبکہ یہ قاعدہ خود مرزا انجینئر کا ہے
اس لحاظ سے وہ اپنے اسی ویڈیو کے اندر اپنے ہی
ایک کرامت کے ظہور کا بیان کرتے ہیں اور کہتے
ہیں یہی سچی کرامت ہے۔

مرزا انجینئر کی کرامت
کرامت یہ ہے کہ اس نے قرآن پاک کو کھولا اتفاقا
ہوا ایسے کہ وہ جس آیت کو کھولنا چاہتے
تھے وہی آیت کھل گیا جیسے ہی کھلا تو کہتاہے یہی تو اصل کرامت ہے۔
مرزا انجینئر کے خرافات میں سے ایک خرافت یہی ہے۔
مرزا انجینئر کا کرامت پر قاعدہ
یہ تھا کہ جس سے ایک بار کرامت کا ظہور ہوا ہو وہ
دوبارہ بھی کرامت دکھائےیاد رہے کہ یہ قاعدہ ہمارے
نزدیک نہیں مرزا کے نزدیک ہے ہمارے نزدیک تو یہ
یے کہ بزرگان دین اپنی کرامات
کو ایسے چھپاتے ہیں جیسے عورت اپنی حیض کو چھپاتی ہے۔
اب قرآن کو لے کر کوئی مرزا انجینئر کو بولے کہ آیت
میں بتاتا ہوں آپ قرآن پاک سے وہی
آیت نکال کر دیجئے کیوں کہ آپ کا ہی قاعدہ ہے
جس سے ایک بار کرامت کا ظہور ہوجائے وہ
دوسری مرتبہ بھی دکھا سکتاہے۔
بزرگوں کی بزرگی پر دلیل کرامت ہوتی ہے
ایسا کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ بزرگوں کی بزرگی پر دلیل
کرامت دکھانا ہو اصل بات شریعت و تقوے کی ہے جو
شریعت پر عمل پیرا ہو پرہیزگار ہو استقامت والا
ہووہ اللہ تعالی کا ولی ہے اس کے علاوہ کرامات دکھانا یا
دکھانے کا دعوی کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہیں
ہے اور ناہی کوئی بزرگ اللہ کا ولی ایسا دعوی بھی کرسکتاہے
اور جو ایسا دعوے کرتے پھرتے ہیں وہ جھوٹے
مکار لوگوں کو دھوکے میں رکھنے والے ہوتے ہیں جس سے ان
کی دکانداری چلتی ہے ایسے لوگوں سے ایسے بھاگنا
چاہئے جیسے شیر کو دیکھ کر بھاگا جاتاہے۔
اوپر جو کچھ آیت کے لحاظ سے بیان کیاہے اسے
اپنے الفاظ میں بیان کیاہے باقی
آیت کا حوالہ دیاگیاہے قرآن پاک سے ترجمہ و تفسیر پڑھا جاسکتاہے۔
وقوع کرامات پر قرآنی دلیل
سورہ آل عمران آیت نمبر 37 میں بی بی مریم رضی
اللہ عنہا کے بارے میں آیا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام
جب بی بی مریم کے پاس آتے تو ان کے پاس بے
موسم کے پھل پاتے اس پر حضرت زکریا علیہ
السلام نے مریم رضی اللہ عنہا
سے سوال کیاکہ یہ پھل کہاں سے آتے ہیں جواب
میں بی بی نے عرض کیا کہ یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔
بے موسمی پھل بی بی مریم کی کرامت تھی اس سے
زیادہ عجیب یہ بات ہے کہ یہ بات انہوں نے جھولے میں
کی اتنی چھوٹی سی عمر میں جیسے ان کے بیٹے عیسی
علیہ السلام نے چھوٹے عمر میں
اپنی ماں پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔
یہ آیت کرامت پر دلیل ہے جس سے انکار نہیں
کیاجاسکتا۔یہ ایک آیت نہیں ایک اور آیت
بھی ہے جس میں واضح طور پر کرامت کا ذکر ہے جوکہ سورۃ النمل کی آیت ہے۔
آصف بن برخیا کا تخت بلقیس حاضر کرنا
سورۃ النمل کے آیت نمر 34 میں بھی ایک کرامت
کا بیان ہے اس سے پہلے پچھلے کسی آیت میں ہدہد کا ذکر آیا
جب سلیمان علیہ السلام نے اسے سنبھالا تو وہ
غائب تھا بعد میں جب وہ آیا تو اس
نے تخت بلقیس کی اطلاع سلیمان علیہ السلام کو دی۔
حضرت سلیمان علیہ السلا نے ان کو خط لکھا کہ
ایمان لاو تو تمہاری تخت سلامت رہےگی
اس پر بلقیس نے اپنے وزراء سے مشہورہ کیا کہ سلیمان علیہ
السلام کے پاس جانا چاہئے یا نہیں،البتہ جب وہ
حاضری کے لئے روانہ ہوئے تو سلیمان علیہ السلام نے
مجلس میں اشخاص سے کہا کہ اس کے آنے پہلے کون
اس کا تخت حاضر کرےگا میرے سامنے۔
ایک نے کہا آپ کی مجلس ختم ہونے سے پہلے حاضر
کروں گا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس سے بھی پہلے چاہئے۔
تو سورۃ النمل آیت نمبر 34 میں اس بات کی ذکر ہے
ان میں سے ایک نے کہا جوکہ کتاب کا علم جانتاتھا میں پلک
جھپکنے سے پہلے حاضر کردوں گا۔اور حاضر کیابھی۔یہ
مکمل واقعہ صرف خلاصے کی
صورت میں بیان کیاگیاہے تفصیل
کے تفسیروں کا مطالعہ کیا جاسکتاہے۔
اب کوئی مرزا انجینئر سے پوچھے یہ کرامت نہیں تو اور
کیاہے جس کرامت کو تم اپنے شاگردوں کے سامنے بہت
کمتر درجے سمجھ کر پیش کرتے وہ اتنی اعلی شئے ہےکہ
اس کی دلیل قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔
سورۃ الکھف کے اندر اصحاب کہف کابیان
موجود ہے اسے پڑھے کوئی کہ حضرت
خضر علیہ السلام سے کتنے کرامات کا ظہور ہوتاہے۔
جیسا ہم بیان کرآئے کہ مرزا انجینئر نے کرامت کے
بارے میں جو قاعدہ بیان کیاہے وہ صرف اس کے نزدیک ایسا ہے
وگرنہ کسی ولی یا بزرگ کی ولایت کےلئے کرامت کا
ظہور ضروری نہیں ہے شریعت
پر عمل اور تقوی کے مطابق زندگی گزارنا اور لوگوں کو شریعت کے مطابق
زندگی گزارنے کی طرف دعوت دینا ہے فقط۔
قرآن کریم پر مرزا انجینئر کے خرافات
ایک بندے نے مرزا انجینیئر سے سوال کیا کہ میرے
دوست کا نام عبدالرحمن ہے اور کیا
میں اس دوست کو صرف رحمن کہہ کر پکار سکتا ہوں۔
اس سوال کے جواب سے پہلے اس سوال
کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
پس منظر یہ ہے مثال کی صورت میں ایک شخص
ہے اس کا نام عبدالرحمن ہے ہمارے معاشرے کے
اندر رب تعالی کے صفاتی ناموں کے ساتھ
لوگ نام رکھتے ہیں اور یہ جائز بھی ہے
تو ایسے لوگوں کو بعد میں لوگ عبدالرحمن کے بجائے
رحمن بلانا شروع کر دیتے ہیں عبدالرؤف کے
بجائے رؤف بلانا شروع کر دیتے ہیں اور عبدالغنی
کے بجائے غنی پکارنا شروع کر دیتے ہیں۔
صفاتی ناموں کے ساتھ عبد کا لاحقہ لگانا
تو ایسے میں کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے عبدالرحمن بندے کا نام ہے ویسے
تو رحمان صفت ہے اللہ تعالی کی صفاتی ناموں میں
سے ایک نام ہے لیکن جب کسی بندے
پر یہ نام رکھیں گے تو پہلے عبد کالاحقہ پہلے لگائیں گے وگرنہ صرف رحمن کہہ کر کسی
بندے کو پکارنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ رحمان اللہ تعالی
کی صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔
اس وجہ سے لوگوں کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا
ہے کہ یہ تو اللہ تعالی کی صفاتی
ناموں میں سے ایک نام ہے تو رحمان تو ہم رب
تعالی کو بلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں
اور اب جو ہے بندے کو صرف رحمن کہہ کر کیسے پکارا جا سکتا ہے
کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے
اور کچھ لوگ بے علم ہونے کی وجہ سے
عبدالرحمن کی بجائے رحمن عبدالرؤوف کی بجائے
صرف روف پکارنا شروع کر دیتے ہیں۔
پھر جا کر اس طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا
ایسا پکارنا جائز ہوگا یا ناجائز ہوگا۔
اب اس کے جواب میں مرزا انجینیئر نے اپنے خرافات کو بیان کیا
مرزا انجینیئر نے یہ منطق گھڑی کہ آپ عبدالرحمن کو
رحمن کہہ کر پکار سکتے ہیں
کیونکہ جو اللہ تعالی کا صفاتی نام ہوگا وہ ہوگا "الرحمن”
اب چونکہ بلانے والا رحمن کہہ
رہا ہے تو یہ رب تعالی کے صفاتی نام ہوتے ہوئے
بھی رحمان کے طور پر پکارنا جائز ہو جائے گا۔(نعوذ باللہ)
حالانکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق رہا ہے گزشتہ
زمانے سے اج تک کہ اگر کوئی بندہ
اپنے اپ پر رحمن صفت کے ساتھ نام رکھنا چاہے
گا تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ
رحمن سے پہلے عبد کا لفظ لگائے گا وگرنہ صرف
رحمان نام رکھنا اس کے لیے جائز نہ
ہوگا لیکن اج اتنے صدیوں بعد جا کر مرزا انجینئر نے
اپنے خرافاتی تاویلوں کے ذریعے
اس چیز کو بھی جائز قرار دے دیا۔
مرزا انجینئر کا الغنی کے ذریعے سمجھانا
ہم بیان کر رہے ہیں مرزا انجینیئر کے خرافات کو
مرزا انجینیئر نے اوپر والا
مسئلہ عبدالرحمن کا جو بتایا اس پر مرزا انجینیئر نے
دلیل دیتے ہوئے بیان کیا کہ
آپ دیکھیں کہ الغنی اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے اور
یہی غنی عثمان غنی رضی اللہ
عنہ کے نام کے ساتھ بھی لگتا ہے
جیسے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ
صرف غنی کا لفظ آیا ہے الغنی
کا لفظ نہیں آیا تو چونکہ الغنی اللہ تعالی کے صفاتی نام میں شمار ہوگا اور غنی کے
ذریعے کسی بندے کو پکارا جا سکتا ہے جیسے عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کو پکارا جاتا رہا ہے.
مرزا انجینئر اپنے طرف سے مسائل گھڑتاہے
مرزا انجینیئر کے شاگرد اور مرزا انجینئر
کے فالورز اور مرزا انجینیئر خود ہمیشہ
یہی بیان کرتے ائے ہیں کہ ہم قرآن و حدیث سے ہی بیان کرتے ہیں
آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں حدیث شریف
کے لحاظ سے کہ مرزا انجینیئر نے کیسے
مسئلہ غلط بتایا ہے اور مسئلے کو اپنی طرف
سے گھڑا ہے یہی الزام مرزا انجینیئر اس
کے شاگرد اور فالوورز کا دوسرے علماء پر ہے کہ وہ
اپنی طرف سے مسائل کو گھڑ کر بیان کرتے ہیں۔
بخاری شریف میں الغنی کا استعمال غیراللہ کے لیے
صحیح البخاری میں چھ احادیث ہیں جن میں الغنی کا
لفظ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے
اور ان احادیث کے یہ نمبر ہیں
پہلا 1421 دوسرا 2287
تیسرا 2288 اور چوتھا 2400 پانچواں 5423 اور چھٹا 5438 ان احادیث کے
اندر الغنی کا لفظ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔
مرزا انجینئر اردو خوان ہیں
مرزا انجینیئر چونکہ اردو خوان ہیں تو اپنے خرافات
بھی اردو مثالوں کے ذریعے بیان کرتے ہیں
مرزا انجینیئر نے مسئلہ بتاتے ہوئے یہ کہا کہ اللہ کے لیے الغنی استعمال ہوگا
اور کسی بندے کے لیے صرف غنی استعمال ہوگا
اور مثال اردو میں دیتے ہوئے بیان کیا
جیسے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام
کے ساتھ غنی استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس طرح مثال دیتے ہوئے مرزا انجینیئر سے
غلطی ہو گئی وہ یہ غلطی ہے کہ
اس نے مثال چنا ہی اردو سے ہے حالانکہ
عربی میں عثمان غنی کے نام کے ساتھ
جب غنی کو استعمال کیا جائے گا تو
عثمان الغنی استعمال ہوگا
عربی میں عثمان غنی استعمال نہیں ہوگا۔
کیوں نہیں ہوگا یہ بات اگر ہم کسی عربی
جاننے والے عالم کے سامنے کہیں
گے تو اسے تو بات فورا سمجھ میں اجائے گی کہ عثمان غنی کے نام کے
ساتھ عربی میں غنی کو لگایا جائے تو
عثمان الغنی کہیں گے تو ٹھیک ہوگا اور
صرف عثمان غنی کہیں گے تو جملہ ہی غلط ہوگا۔
لفظ رءوف بھی بندوں کے لیے استعمال ہوگا
مرزا انجینیئر نے اپنے مسئلے کو بتاتے
ہوئے یہ مثال بھی بیان کیا کہ جیسے
آپ دیکھیں کہ رؤف کا جو لفظ ہے
وہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے
قرآن پاک میں استعمال ہوا ہے اور جب یہ لفظ رب تعالی کے لیے
استعمال ہوگا تو الرؤف کے ساتھ استعمال ہوگا۔
حالانکہ قرآن مجید فرقان حمید میں الرؤف
کے ساتھ ایک لفظ بھی نہیں آیا
یعنی روف الف لام کے ساتھ قرآن مجید میں
کسی بھی جگہ استعمال نہیں ہوا
اور رءوف رب تعالی کی ذات کے لیے 10 مقامات پر استعمال ہوا ہے
قرآن پاک میں رءوف لفظ کن مقامات پر آیا ہے
سورۃ البقرہ آیت نمبر 207 اور سورۃ النور آیت نمبر 20
اور سورۃ الآل عمران آیت نمبر 30 اور سورۃ الحشر آیت نمبر 10 اور
سورۃ التوبہ آیت نمبر 117 اور سورۃ التوبہ آیت نمبر 128
یہ آخری آیت حضور کی شان میں آیا جہاں آپ علیہ
السلام کو رءوف اور رحیم کہا گیا۔
لفظ الرحیم اور رحیم کابیان
"الرحیم” لفظ قرآن پاک میں 120 مرتبہ آیا ہے جو کہ
رب تعالی کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔
اور لفظ "رحیم” بغیر الف لام کے 61 مرتبہ قرآن
پاک میں آیا ہے جن میں رحیم ایک مرتبہ
آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں استعمال ہوا
ہے اور بقیہ رب تعالی کے شان میں آیا ہے۔
طوالت کے پیش نظر آیات کا حوالہ نہیں دیاجارہا
(جاری ہے)
