شعبان کے نفلی روزے
شعبان المعظم کے نفلی روزے اور نبی علیہ السلام کا عمل روزہ
شعبان اطاعت و فرمانبرداری کا مہینہ ہے ویسے تمام اسلامی مہینوں کا یہی حکم ہے
اس مہینے میں آقا علیہ السلام کثرت سے روزے رکھتے
کسی روایت میں شعبان اور رمضان دونوں میں پورے مہینے کے روزوں کا تو کسی میں محض کثرت روزوں کا ذکر ملتا ہے

ماہ شعبان میں صحابہ کا تلاوت کلام پاک کا اہتمام کرنا
شعبان المعظم میں صحابہ کرام عبادت کا اہتمام کرتے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
شعبان کا چاند نظر آتے ہی صحابہ کرام تلاوت کلام پاک کی طرف متوجہ ہو جاتے اور اپنے
اموال کا زکوۃ نکالتے تاکہ فقراء و مساکین رمضان کی تیاری کر سکیں۔
حکام قیدیوں کو طلب کرتے اور جن پر حد قائم کرنی ہوتی ان پر حد قائم کرتے اور جنہیں مناسب سمجھتے ان کو آزاد کر دیتے
تاجر اپنے قرضے ادا کر دیتے ہیں اور جن دوسروں کو قرض دیا ہوتا ان سے اپنا
قرض وصول کر لیتے جیسے ہی رمضان کا چاند نظر اتا تو غسل کر کے اعتکاف کے لیے بیٹھ جاتے۔
(الغنیۃ لطالبی طریق الحق،فصل اول/341)
صحابہ میں جو حفاظ تھے ان کا عمل بھی ظاہر ہوا
جو کاروبار کرنے والے تھے ا ن کا عمل واضح ہوا
جو صاحب ثروت تھے ان کا عمل ظاہر ہوا
پھر تمام کا آخر میں رمضان شریف کا عمل بھی واضح ہو گیا
جیسا کہ شروع میں مذکور ہوا
ہم اور آپ بھی ایسا عمل کرنا شروع کردیں یقینا آخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی ۔
نبی پاک کا دو ماہ متواتر روزے رکھنا
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کو دو ماہ مسلسل روزے رکھے نہیں دیکھا سوائے شعبان اور رمضان کے۔
(سنن الترمذی،رقم الحدیث:736)
اس روایت میں مسلسل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روزے رکھنے کا ذکر ہے
اور شعبان کے نفلی روزے بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے ہیں
ایک اور روایت کے مطابق حضور علیہ الصلوۃ والسلام شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو رمضان شریف
کے علاوہ مکمل مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے دیکھا۔
(مسلم شریف،رقم:2721)
مسلم شریف کتاب الصوم میں اس حدیث سے پہلے حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے
پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل طور پر روزے رکھے یا نہیں ؟
تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواباً فرمایا کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
مدینہ منورہ میں آئے تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزے نہیں رکھے۔
(شرح صحیح مسلم،جلد ثالث،صفحہ 151،سعیدی غفرلہ)
یعنی دوسری روایت میں مدینہ منورہ میں آنے کے بعد کی قید ہے
ان دونوں روایات سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روزے کے لحاظ سے
دونوں عمل موجود ہیں ایک عمل پہلے تھا اور ایک عمل بعد کا ہے۔
کبھی روزہ رکھنا کبھی چھوڑ دینا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر مہینے میں کسی نہ کسی دن روزہ رکھتے اور کئی
احادیث شریف میں حضرت عباس اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے
صحابہ کرام سے اسی طرح روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم سمجھتے کہ آپ
اب کبھی افطار نہیں کریں گے اور جب روزہ رکھنا چھوڑ دیتے تو ہم سمجھتے کہ آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے
ہر مہینے میں نفلی روزہ رکھنا جائز ہے خصوصا ایام بیض کی بہت بڑی فضیلت ہے
اس کے علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے دنوں کے علاوہ تمام دنوں میں روزہ رکھا جا سکتا ہے
