اِستخارہ کیوں کیا جاتاہے
اِستخارہ کیوں کیا جاتاہے

کوئی بھی انسان استخارے کا نام پہلی مرتبہ سن سکتا ہے اور وہ حیران ہو کر پوچھ سکتا ہے کہ استخارہ کیوں کیا جاتا ہے
استخارہ کا مطلب
استخارہ کا مطلب صلاح اور مشہورہ کرنا ہے
مشہورہ پھر دو قسم کے لحاظ سے لیا جاتا ہے کسی نیک بندے سے دین کے معاملے پر مشورہ کرنا اور
کسی نیک بندے سے دنیاوی معاملات پر مشورہ کرنا اور اس میں بھی کسی ایسے نیک بندے سے مشہورہ
طلب کرنا کہ وہ دنیاوی معاملات کو بہت اچھے سے سمجھتا ہو اور دینی معاملات کو بھی بہت اچھے
طریقے سے جانتا ہو ایسے شخص سے مشہورہ کرنا دینی اور دنیاوی لحاظ سے بہترین ہے۔
کیونکہ جو شخص خود دنیاوی لحاظ سے بہترین نہیں ہوگا نیک نہ ہوگا لوگوں کا
احساس کرنے والا نہ ہوگا دین پر عمل کرنے والا نہ ہوگا تو وہ شخص ایک تو
بہترین خیر خواہ ثابت نہیں ہوگا اور دینی لحاظ سے بھی بہترین مشورہ نہیں دے
سکے گا اس وجہ سے کسی ایسے زیرک اور نیک شخص سے مشورہ کرنا
مستحب ہے کہ وہ دونوں معاملات کو اچھے طریقے سے جانتا ہو
کن کاموں کے بارے میں استخارہ کیاجائے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ استخارہ کن کاموں کے بارے میں کیا جا سکتا ہے
کوئی بھی دینی کام ہو اس کے لیے استخارہ کرنا مستحب ہے ایسے میں دنیاوی
کام ہو لیکن وہ جائز ہو تو اس کے لیے بھی استخارہ کرنا
مستحب ہے جیسے کوئی نیاکاروبار شروع کرنا وغیرہپھر اس لحاظ سے وہ کام
جو گناہ ہے اور مشہور ہے گناہ کے لحاظ سے
ایسے کاموں کے لیے استخارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مثال کے طور پر
ایک بندہ زنا کرنا چاہتا ہے یا شراب پینا چاہتا ہے
وہ یہ سوچے کہ حدیث شریف میں ہر معاملے کے بارے میں رسول اللہ نے
استخارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو لہذا شراب
پینے نعوذ باللہ زنا کرنے کے بارے میں استخارہ کیا جائے تو ایسے کاموں کے لیے استخارہ نہیں کیا جا
سکتا کیونکہ یہ کام حدیث شریف میں گناہ کے لحاظ سے مشہور ہیں اور لوگوں میں بھی گناہ کے لحاظ سے
مشہور ہیں ایسی چیزوں کے بارے میں استخارہ کرنا درست نہیں اور جائز بھی نہ ہوگا کسی صورت میں۔
کیوں کہ استخارہ کسی کام کے کرنے کے بارے میں جاتاہے لیکن شریعت میں یہ کام منع ہیں۔
یا جیسے مشہور عبادات ہیں نماز ہے روزہ ہے زکوۃ ہے اور نفلی عبادات ہیں۔
اور صدقہ و خیرات کا احادیث شریف میں ذکر
ہے تو ان چیزوں کے بارے میں بھی استخارہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں
ہے نیک کام ہے انسان ایسے کاموں کو بغیر کسی استخارے
کے کر سکتا ہے کیونکہ ان کا نتیجہ واضح ہے کیونکہ انسان عبادت کرے گا تو
اسے رب تعالی کی طرف سے ثواب ملے گا۔
اور عبادات کے کرنے کا حکم ہے۔
احادیث میں استخارے کاذکر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے فرمایا اے انس اگر تمہیں کوئی معاملہ درپیش
ہو تو اس کے لیے استخارہ کرو سات مرتبہ پھر جس جائز مطلب کی طرف زیادہ
توجہ ہودل زیادہ مائل ہو تو اس میں خیر ہوگا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں
ہمیں ہر معاملے میں استخارہ کو سکھاتے
تھے ایسے جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔
استخارہ کرنے کا طریقہ
دو رکعت نماز نفل استخارہ کی نیت کر کے کھڑا ہو اور یہ نفل مکروہ وقت کے
علاوہ ہو تو یہ عام نوافل کی طرح بھی
پڑھا جا سکتا ہے یا جو ہے اس میں پہلی رکعت کے اندر الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے اور دوسری رکعت میں
الحمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھے پھر اس کے بعد احادیث شریف میں دعائے استخارہ مذکور ہے اس کو پڑھے اور
اس دعا کو پڑھتے ہوئے اپنے مطلب جائز مطلب کو اپنے دل میں رکھ کر وہ دعا پڑھے تو جس طرف دل جمعی زیادہ ہو جس کا کام
کے کرنے پر دل زیادہ مطمئن ہوتا ہو تو وہی استخارہ ہی ہوتا ہے اور وہی استخارے
کا جواب ہوتا ہے اور جب انسان وہ کام کر گزرے گا تو اس میں خیر ہی خیر ہوگا
اور اس خیر کی طرف راہنمائی کرنے والا رب تعالی ہوتاہے۔
ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ –
ﻳﻌﻠﻤﻨﺎ اﻝاﺳﺘﺨﺎﺭﺓ ﻓﻲ اﻷﻣﻮﺭ ﻛﻠﻬﺎ، ﻛﻤﺎ ﻳﻌﻠﻤﻨﺎ اﻟﺴﻮﺭﺓ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ.ﻳﻘﻮﻝ:
نماز استخارہ پڑھ کر یہ دعا پڑھے
ﺇﺫا ﻫﻢ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﺑﺎﻷﻣﺮ ﻓﻠﻴﺮﻛﻊ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ اﻟﻔﺮﻳﻀﺔ، ﺛﻢ ﻟﻴﻘﻞ:
یہاں سے دعا پڑھنا شروع کرے
” اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺃﺳﺘﺨﻴﺮﻙ ﺑﻌﻠﻤﻚ، ﻭﺃﺳﺘﻘﺪﺭﻙ ﺑﻘﺪﺭﺗﻚ، ﻭﺃﺳﺄﻟﻚ ﻣﻦ ﻓﻀﻠﻚ اﻟﻌﻈﻴﻢ
ﻓﺈﻧﻚ ﺗﻘﺪﺭ ﻭﻻ ﺃﻗﺪﺭ، ﻭﺗﻌﻠﻢ ﻭﻻ ﺃﻋﻠﻢ، ﻭﺃﻧﺖ ﻋﻼﻡ اﻟﻐﻴﻮﺏ، اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻥ ﻛﻨﺖ ﺗﻌﻠﻢ ﺃﻥ ﻫﺬا اﻷﻣﺮ ﺧﻴﺮ ﻟﻲ ﻓﻲ
ﺩﻳﻨﻲ ﻭﻣﻌﻴﺸﺘﻲ ﻭﻋﺎﻗﺒﺔ ﺃﻣﺮﻱ، ﺃﻭ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ ﻋﺎﺟﻞ ﺃﻣﺮﻱ ﻭﺁﺟﻠﻪ، ﻓﻴﺴﺮﻩ ﻟﻲ ﺛﻢ ﺑﺎﺭﻙ ﻟﻲ ﻓﻴﻪ، ﻭﺇﻥ ﻛﻨﺖ
ﺗﻌﻠﻢ ﺃﻥ ﻫﺬا اﻷﻣﺮ ﺷﺮ ﻟﻲ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ﻭﻣﻌﻴﺸﺘﻲ ﻭﻋﺎﻗﺒﺔ ﺃﻣﺮﻱ،
یہاں تک دعا ہے۔ﺃﻭ ﻗﺎﻝ: ﻓﻲ ﻋﺎﺟﻞ ﺃﻣﺮﻱ ﻭﺁﺟﻠﻪ، ﻓﺎﺻﺮﻓﻪ ﻋﻨﻲ، ﻭاﺻﺮﻓﻨﻲ ﻋﻨﻪ، ﻭاﻗﺪﺭ ﻟﻲ اﻟﺨﻴﺮ
ﺣﻴﺚ ﻛﺎﻥ ﺛﻢ ﺃﺭﺿﻨﻲ ﺑﻪ "، ﻗﺎﻝ: ﻭﻳﺴﻤﻰ ﺣﺎﺟﺘﻪ.ﻭﻓﻰ اﻟﺒﺎﺏ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ، ﻭﺃﺑﻲ ﺃﻳﻮﺏ.ﺣﺪﻳﺚ
ﺟﺎﺑﺮ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﻴﺢ ﻏﺮﻳﺐ، ﻻ ﻧﻌﺮﻓﻪ ﺇﻻ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﻤﻮاﻝ، ﻭﻫﻮ ﺷﻴﺦ
ﻣﺪﻳﻨﻲ ﺛﻘﺔ، ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺣﺪﻳﺜﺎ، ﻭﻗﺪ ﺭﻭﻯ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﻏﻴﺮ ﻭاﺣﺪ ﻣﻦ اﻷﺋﻤﺔ. اﻟﺠﺎﻣﻊ اﻟﺼﺤﻴﺢ (2/345) .
ﻭاﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﺧﺮﺟﻪ: اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ، ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺪﻋﻮاﺕ، ﺑﺎﺏ اﻟﺪﻋﺎء ﻋﻨﺪ اﻝاﺳﺘﺨﺎﺭﺓ ﺻ (1138) ﺭﻗﻢ (6382) .
ﻭﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ، ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺼﻼﺓ، ﺑﺎﺏ ﻓﻲ اﻝاﺳﺘﺨﺎﺭﺓ (1/481) ﺭﻗﻢ (1538) .
