جماعت سےنمازپڑھنے کی فضیلت
جماعت سےنمازپڑھنے کی فضیلت کابیان

آپ کو anwar-e-mohammadiah.onlineویب سائیٹ پر خوش آمدیدکہتےہیں۔
تحریر کے ٹائٹل میں آپ نے پڑھ لیاجماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت کے
بارے میں یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت27 درجہ زیادہ ہے
احادیث میں نماز کی فضیلت کا بیان
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنےکی فضیلت تنہا نماز پڑھنے سے 27 درجہ بڑھ کرہے۔(متفق علیہ)
دوسری بات یہ ہے کہ صحابہ کرام کے زمانے کو آپ تصور کریں کہ وہ کیسے جماعت
کے ساتھ نماز پڑھنے جاتے تھے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ
ایک مرتبہ بازار میں تشریف رکھتے تھے کہ جماعت کا وقت ہو گیا دیکھا کہ تمام مسلمان اپنی دکانیں بند کر
کے مسجد میں داخل ہو گئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان بزرگوں کی شان میں ہی یہ آیت
نازل ہوئی (یہ ایسے مردان خدا ہیں کہ ان کو نہ تجارت نابیع(خریدوفروخت)ذکر خدا سے روکتی ہے۔(سورہ نور آیت،34)
وَارْكَعـوْا مَعَ الرّٰاكِعِيْنَ
ترجمہ: رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔(سورہ بقرہ آیت،43)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھا جائے یعنی جو رکوع
کر رہے ہیں جو رکوع کرنے والے ہیں ان کے رکوع کے ساتھ رکوع کرو
جماعت کےساتھ نماز پڑھنےسےدوزخ سےآزادی
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے
سے دوزخ سے آزادی ملتی ہے اور یہ حدیث شریف سے ثابت ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
جو شخص اللہ کے لیے(اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر) 40 دن جماعت کےساتھ
نماز پڑھے اور تکبیر اولی (پہلی رکعت کو) پالے اسکے لیے دو آزادیاں لکھ دی جاتی ہیں
ایک آزادی دوزخ سے اور ایک آزادی نفاق سے۔(ترمذی شریف)
کیسے کیسے بخشش کےبہانے رب نے اپنے محبوب کی امت کو عطافرمائے بس صرف عمل کی دیر ہے۔
عشاءاورفجرکی نماز جماعت کےساتھ پڑھنےکی فضیلت
عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے یہاں تک کہ حدیث شریف میں ہے
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
فرمایا جو عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اس کو نصف رات کے قیام کا ثواب ہے اور جو عشاء اور
فجرجماعت کےساتھ پڑھے اس کو ساری رات کے قیام عبادت کا ثواب ملتا ہے۔(ترمذی شریف ج اول)
ایک اورروایت میں آتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی
سلیمان بن حشمہ رضی اللہ عنہ کو نماز صبح میں نہ پایا دن کے وقت جب آپ رضی اللہ عنہ بازار تشریف لے
گئے تو راستہ میں ان کا مکان تھا جب وہاں سے گزرے تو ان کی والدہ سے دریافت کیا کہ سلیمان صبح فجر
کی جماعت میں حاضر نہ تھا انہوں نے عرض کیا کہ وہ ساری رات نماز پڑھتے رہے
اور آخری حصہ میں ان پر نیند غالب آئی اور سو گئے تو
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا
ساری رات کی عبادت سے افضل ہے۔(ابن ماجہ)
جماعت کےساتھ نماز نہ پڑھنے کی برائی
جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے کی برائی بہت سخت ہے یہاں تک کہ آقا علیہ
الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا
جس نے اذان سنی اور مسجد میں پہنچ کر اس کی اجابت نہیں کی اس کی نمازنہیں مگر کسی عذر سے۔(دارقطنی)
کوئی انسان اذان سن کر فورا نہیں آتا یاوضو کی تیاری میں مصروف ہوجاتا
ہے تویہ بھی اذان کا جواب ہی ہے
اگر کسی کو وضو پہلے سے ہے اور اذان کی آواز آجائے تو وہ اسی اذان
کے کلمات کو دہراتے جائے اور مسجد کی طرف چل پڑے۔
دوسری حدیث شریف میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دو عذر کا
بھی ذکر کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نےرسول خدا صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کے جو شخص مؤذن کی اذان سنے اور اس کےاتباع سے اس
کو کوئی عذر نہیں روکتا جو اس نےنماز پڑھی ہے وہ قبول نہیں کی جائے گی
عرض کیا گیا عذر کیا ہے فرمایا خوف یا بیماری۔(کشف الغمہ،ج 1)
اس آیت سے جماعت سےنمازپڑھنے کی فضیلت ثابت ہوتا ہے
یعنی جو رکوع کر رہے ہیں جو رکوع کرنے والے
ہیں ان کے رکوع کے ساتھ رکوع کرو۔
