اسلامی تحاریر » اسلامی-مضامین » اذان و اقامت
Skip to content
anwar-e-mohammadiah.online

anwar-e-mohammadiah.online

  • اسلامی تحاریر
  • اسلامی مضامین
  • About us
  • Contact us
  • ہماری سروسز
  • Cookie Policy (EU)
  • Terms and Conditions
Facebook FacebookX XInstagram InstagramYouTube YouTubeLinkedin Linkedin
anwar-e-mohammadiah.online
anwar-e-mohammadiah.online
Facebook X Instagram YouTube
اذان کے مسائل

اذان و اقامت

Byمولانازبیر احمدنقشبندی 22 ستمبر, 202519 جنوری, 2026

اذان و اقامت کے مسئلے

اس تحریر میں آپ اذان و اقامت کے مسائل کامطالعہ کریں گے جنہیں

مختصر طور پر بیان کیاجائےگا

اذان و اقامت کے مسائل
اذان و اقامت کے مسائل
سوال :ـ اذان و اقامت کے لیے وضو کرنا ضروری ہے؟

جواب :ـ اذان و اقامت کےلیے وضو کرنا سنت ہے۔

جماعت کے لیے اقامت پڑھی گئی اس وقت
سنت یانفل ادا کرنے کا حکم

جب اقامت ہوجائے تو اس وقت سنت نماز یا نوافل پڑھنا مکرو ہ ہے

سوائے فجر کے سنتوں کے ان سنتوں میں تاکید

زیادہ ہےاگر آخر جماعت تک

مکمل پڑھ سکتا ہے تو ٹھیک وگرنہ جماعت نکل جانے کا خطرہ ہوتو

فرض کی جماعت میں شامل ہونا اولی (زیادہ مناسب) ہے کیوں کہ

فرض کا درجہ زیادہ ہے سنت سے۔(عالمگیری)

اذان و اقامت کے جواب کا طریقہ

ابن عساکر کی حدیث ہےکہ آقا علیہ السلام نے عورتوں کے گروہ سے فرمایا

جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان و اقامت کہتے سنو تو ایسے کہو جیسے بلال کہے۔

یعنی وہی کلمات ہی پڑھے جیسے وہ پڑھتے ہیں۔ کلمات کی صورت میں جواب

دینا مستحب ہے اور چل کر مسجد حاضر ہونا واجب ہے اور یہی اصل جواب ہے اذان کا ۔

اذان دینے والے کے علاوہ کسی دوسرے کا اقامت پڑھنا

جو اذان دے اسی کا اقامت پڑھنا سنت ہے
دوسرا کوئی اقامت پڑھے

تو اسے اذان دینے والے سے اجازت لینی چاہئے
ترمذی شریف میں حدیث ہے ایک صحابی کو حضور

علیہ السلام نے اذان دینے کا حکم دیا تو اقامت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پڑھنا

چاہا آقا علیہ السلام نے فرمایا صدائی رضی اللہ عنہ نے اذان دی وہی اقامت پڑھے گا۔

یہ حدیث دلیل ہے کہ جو اذان دے اسی شخص کا ہی اقامت پڑھنا سنت ہے۔

اذان کے بعد اذان کی دعا

ںخاری شریف میں حدیث ہے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو اذان سن کے

بعد میں یہ دعاپڑھے اس کے لیے میرے شفاعت واجب ہوگئی

اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ  نِ الْوَسِیْلَۃَ

وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَحْمُوْدَ   نِ   الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ ط

اذان د اقامت کا جواب دینے کا ثواب

حاکم کی حدیث ہے آقا علیہ السلام نے فرمایا مؤذن کو نماز پڑھنے والے پر دوسونیکیاں زیادہ ملیں گی

مگر وہ جو اس کی مثل کہے (جیسے مؤذن نے کلمات کہے) اور اگر جو اقامت کہے 140 نیکی

زیاہ ہے (140 نیکی اقامت پڑھنے کی) مگر وہ جو اس کی مثل کہے۔

یعنی عام مومن مسسلمان جو اذان و اقامت نہیں پڑھتا وہ بھی اسی ثواب میں مؤذن کے ساتھ اس وقت شامل

ہوگا جب انہی کلمات کے ذریعے اذان اقامت کا جواب بھی دے اس صورت میں یہ بھی معلوم

ہوا کہ اقامت کا جواب دینا بھی سنت ہے کئی حضرات اس سنت کو بھی ترک کردیتے ہیں۔

اذان کی فضیلت

ابوداؤد شریف کی حدیث ہے کہ اذان و اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔(حدیث نمبر:521،جلد1)

بغیر اذان و اقامت کے جماعت کرانا کیسا ہے

مسجد میں بغیر اذان و اقامت کے جماعت کرانا مکروہ ہے۔ (عالمگیری)

مسجد محلہ میں جماعت ثانی کے وقت اذان و اقامت کا حکم

محلہ کی مسجد میں جماعت ثانی (دوسری جماعت) کےلیے اذان دینا منع ہے اقامت کہہ سکتے ہیں۔

(فتاوی رضویہ،جلد 5،صفحہ نمبر156،امام احمد رضاخاں بریلوی)

اذان و اقامت سے پہلے درود پڑھنے کا جواز

اذان و اقامت سے پہلے درود پڑھا جاسکتاہے مستحب ہے اس کے علاوہ درود پڑھنے کا

کوئی وقت مقرر نہیں جب چاہے پڑھ سکتے ہیں جیساکہ اللہ رب العزت نے "سورۃ الاحزاب” آیت 56 میں

مطلقا درود پڑھنے کا حکم فرمایا ہے جس میں کسی وقت کا کوئی قید نہیں

یہی وجہ ہے کہ اذان و اقامت سے پہلے درود پڑھ سکتے ہیں۔

ابو داؤد شریف کی حدیث کے مطابق حضرت بلال اذان سے پہلے دعا پڑھتے ہوتے تھے

اور اس دعا کو ہر رات یعنی صبح کی اذان کے وقت بلا ناغہ پڑھتے تھے۔

(ابوداؤد شریف،کتاب الصوہ،حدیث نمبر،519)

ایک ہی شخص کے دو مسجدوں میں اذان پڑھنے کا حکم

ایک ہی شخص کا ایک ہی وقت کے اندر دومسجدوں میں اذان پڑھنا مکروہ۔

مبسوط للسرخسی اور علامہ عینی نے البنایہ شرح الھدایہ ، مفتی امجد علی اعظمی علیہم الرحمہ

نے بہار شریعت میں لکھا ہے۔اقامت کے وقت کب کھڑا ہوا جائے

جب مؤذن اقامت پڑھنے کے لیے کھڑا تو دوران اقامت وہ "حی علی الفلاح” پڑھیں تو

سب مقتدیوں کو کھڑا ہونا سنت ہے۔ کچھ لوگ اس مقام کے آنے سے پہلے

کھڑے ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ شروع تکبیر سے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ خلاف

سنت ہے۔ اور اگر "حی علی الصلوہ” پر کھڑا ہونا شروع کرے "حي على الفلاح” پر مکمل

سیدھے ہوجائے تو ایسا کرنے سےبھی سنت ادا ہوجائے گا کیوں کہ حدیث شریف میں

دونوں کلمات پر کھڑے ہونے کا ذکر آیا ہوا ہے۔

اذان و اقامت میں غلطی ہوجانے کا حکم

اذان و اقامت کے دوران جس کلمے کے ادائیگی کے دوران غلطی ہوجائے

تو اسی کلمے کو درست کرے شروع سے دوبارہ اذان و اقامت پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم

اذان دینے کے بعد مسجد سے بلا ضرورت بغیر نماز پڑھے نکلنا جائز نہیں

یہ حکم ایسے شخص کے لیے ہے جو نکلنے بعد واپس اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا ارادہ

نا رکھتاہو اگر واپس آنے کا ارادہ ہوتو نکلنا جائز ہے
جیسے مؤذن کو وضو تازہ کرنے کی حاجت ہو

یا مسجد میں بیٹھے کسی شخص کو فورا کوئی کام یاد آیا اور جماعت کھڑی ہونے سے

پہلے لوٹ آئے گا یا کسی دوسرے مسجد کا امام ہے جاکر نماز پڑھائے گا تو نکلنا جائز ہے وگرنہ جائز نہیں۔

بہار شریعت حصہ سوم میں حدیث ہےکہ "مسجد سے نہیں نکلتا مگر منافق جو شخص کسی

کام کےلیے جائے واپسی کے ارادے کے ساتھ یادوسری مسجد کا امام ہے تو چلا جائے۔ ( مفہوم حدیث)

اذان بیٹھ کر سنا جائے یا لیٹ کر

اذان بیٹھ کر سننا اچھا عمل ہے لیٹ ہوا ہو اور اٹھنا نہیں چاہتا یا بیمار ہے اٹھ

نہیں سکتا تو پاؤں سمیٹ لے۔

اذان پڑھتے وقت دونوں کان میں انگلی ڈالنا ضروری ہے

اذان پڑھتے وقت دونوں کان میں انگلیاں ڈالنا مستحب ہے


اگر بغیر انگلیاں ڈالے اذان پڑھ دی تو ہوگئی ایسا کرنا نہیں چاہئے۔

اذان کے وقت کان میں انگلیاں ڈالنے پر حدیث

سنن ابن ماجہ میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو فرمایا

اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں ڈال لو اس سے تمہاری آواز بلند ہوگی۔

(سنن ابن ماجہ،جلد 1،صفحہ نمبر 236)

دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں ڈال کر اذان دینے میں

یہی حکمت ہے کہ اس سے آواز بلند ہوتی ہے اذان دینے والا یہی سمجھتا

ہے کہ آواز کم نکل رہی ہے اور وہ آواز نکالنے کی کوشش کرتاہے۔

اقامت کے وقت مکبر امام کے سامنے کھڑاہو یا دائیں جانب

مکبر تکبیر پڑھنے والے کے متعلق کوئی تعیین نہیں البتہ فقھاء نے

بالکل امام کے پیچھے یا امام سے تھوڑا دائیں طرف ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔

(فتاوی رضویہ،جلد5،صفحہ نمبر372،رضافاؤنڈیشن لاہور)

تکبیر کے وقت لفظ "قدقامت الصلوۃ” پڑھنا رہ جائے تو اقامت کا کیا حکم ہوگا

اس سے اقامت ہوجائے گی دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

جماعت کے لیے اقامت کہنا شرط ہے ؟

جماعت کےلیے اقامت کہنا سنت مؤکدہ ہے اس میں اذان سے بھی زیادہ تاکید ہے۔

تکبیر میں دومرتبہ اللہ اکبر پڑھنے سے تکبیر کاحکم

ایسے میں تکبیر ہوگئی دوبارہ تکبیر پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

اذان و اقامت کا مسنون طریقہ

فتاوی ہندیہ اور فقہ کے دوسرے کتابوں کے مطابق اذان کے کلمات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے

اور اقامت کو جلدی جلدی پڑھے اذان کی طرح ٹھہر ٹھہر کر نا پڑھے۔

اذان و اقامت کے کلمات کون سے ہیں ؟

اذان و اقامت کے یہ کلمات ہیں

اﻷﺫاﻥ ﺧَﻤْﺲَ ﻋَﺸْﺮَﺓَ ﻛَﻠِﻤَﺔً ﻭَﺁﺧِﺮُﻩُ ﻋِﻨْﺪَﻧَﺎ ﻻَ ﺇﻟَﻪَ ﺇﻻَّ اﻟﻠَّﻪُ. ﻛَﺬَا ﻓِﻲ ﻓَﺘَﺎﻭَﻯ ﻗَﺎﺿِﻲ ﺧَﺎﻥْ

ﻭَﻫِﻲَ: اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ، اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ، اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ، اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ

ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻻَ ﺇﻟَﻪَ ﺇﻻَّ اﻟﻠَّﻪُ، ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻻَ ﺇﻟَﻪَ ﺇﻻَّ اﻟﻠَّﻪُ

ﺃَﺷْﻬَﺪُ، ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًا ﺭَﺳُﻮﻝُ اﻟﻠَّﻪِ، ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًا ﺭَﺳُﻮﻝُ اﻟﻠَّﻪِ

ﺣَﻲَّ ﻋَﻠَﻰ اﻟﺼَّﻼَﺓِ، ﺣَﻲَّ ﻋَﻠَﻰ اﻟﺼَّﻼَﺓِ

ﺣَﻲَّ ﻋَﻠَﻰ اﻟْﻔَﻼَﺡِ، ﺣَﻲَّ ﻋَﻠَﻰ اﻟْﻔَﻼَﺡِ

اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ، اﻟﻠَّﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ، ﻻَ ﺇﻟَﻪَ ﺇﻻَّ اﻟﻠَّﻪُ. ﻫَﻜَﺬَا ﻓِﻲ اﻟﺰَّاﻫِﺪِﻱِّ.

(اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ اﻟﻬﻨﺪﻳﺔ
كتاب الصلاة وفيه اثنان وعشرون بابا

الفصل الثاني في كلمات الأذان والإقامة وكيفيتهما
صفحة -55،مطبوعہ دارالفکر)

اذان کے پندرہ کلمات ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں رہی بات اقامت کی تو اس میں

حَيَّ عَلَى الْفَلَاح کے بعد ان دوکلموں
"قَدْ قَامَّتِ الصَّلٰوةِ” ،قَدْ قَامَّتِ الصَّلٰوةِ کا اضافہ کرنا ہوگا

اذان فجر دینے کا طریقہ

اذان فجر دینے کا طریقہ بقیہ اذان جیسا ہی ہے لیکن اس میں بھی ان دو کلموں

"اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌمِّنَ النَوْمِ” ، اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌمِّنَ النَوْمِ کا اضافہ ہوگا


اذان و اقامت کے الفاظ ساکن جزم کے ساتھ پڑھے۔

نابالغ سمجھدار بچے کے اذان و اقامت کا حکم

نابالغ سمجھدار اذان و اقامت پڑھ سکتاہے اگر وہ صحیح طرح پڑھنا اور

الفاظ کی صحیح طرح ادائیگی کو جانتاہو تو حرج نہیں۔

نابالغ سمجھدار کا بچے کے کان میں اذان و اقامت پڑھنے کا حکم

کوئی نابالغ سمجھدار ہے توہ چھوٹے بچے کے کان میں اذان و اقامت پڑھ سکتا ہے۔

بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ

چھوٹے بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ

یہ ہے کہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جائے

اور بائیں کان میں اقامت تکبیر پڑھی جائے۔(فتاوی رضویہ،جلد 24)

ایسا کرنا مستحب ہے۔(ایضا،جلد 3،صفحہ 355،مکتبۃ المدینہ کراچی)

فون کال کے ذریعے بچے کے کان میں اذان و اقامت کا حکم

فون کال کے ذریعے بچے کے کان میں اذان اقامت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

نو مولود کے کان میں غسل دینے سے پہلے اذان دینے کا حکم

نومولود کے کان میں غسل سے پہلے بھی اذان دے سکتے ہیں البتہ بہتر یہی ہے کہ غسل دینے

کے بعد اذان دی جائے جبکہ زیادہ ٹائم نہ گزرا ہو۔

Post Tags: #اذان
مولانازبیر احمدنقشبندی

امامت و خطابت

درس نظامی کی تعلیم 2013 سے شروع کی
اور 2021میں جاکر تعلیمی سلسلہ مکمل ہوگیا

اس تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت سےفارغ
ہوکر اب لکھنا شروع کیاہے
باقاعدہ تعلیم حاصل کرکے یہ سلسلہ شروع کیاہوا
ہے تو یہاں پر جوبھی لکھا جائےگا وہ علمی ہی ہوگا
دھوکہ پر مبنی کچھ ناہوگا سب تحاریر جہاں سے
لیے جاتے ہیں اس کا حوالہ بھی پیش کیاجاتاہے۔

Facebook YouTube

پوسٹوں کی نیویگیشن

Previous Previous
زید بن حارثہ فدیہ دینے کا واقعہ
NextContinue
اِستخارہ کیوں کیا جاتاہے

تازہ دینی تحاریر

  • نکاح کے علاوہ مرد و عورت کا ایک دوسرے سے فائدہ لینا
  • دعا کی فضیلت پر تقریر
  • دوستی کے اثرات پر اسلامی گفتگو
  • مزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات
  • سیفی ٹوپیاں اور دستاریں

تمام کیٹیگوریز

  • 02 hijri
  • ahkam
  • Deeni boards
  • hijri 08
  • laptops
  • Online saifi topi & dastar shop
  • Tauheed
  • اذان کے مسائل
  • اسلامی سلطنتیں
  • اسلامی قصے اورکہانیاں
  • اشعار مصطفی رضاخان قادری
  • اولیاء
  • جنرل نالج
  • دینی جامعات
  • سحر و جادو کے متعلق احکام
  • سیرت رسول
  • صحابہ
  • فقہی سوال و جواب
  • مختلف
  • مسائل وضو
  • وحی کی ابتدا
  • وحی نازل ہونے سے پہلے جاہلیت کے حالات

© 2026 anwar-e-mohammadiah.online{Created by Zubair ahmad}{Contact us for new website creation}

Scroll to top
  • اسلامی تحاریر
  • اسلامی مضامین
  • About us
  • Contact us
  • ہماری سروسز
  • Cookie Policy (EU)
  • Terms and Conditions
Search