ظالم بادشاہ
ظالم بادشاہ
غور افغانستان کے ایک علاقے کا نام ہے اس علاقے میں ایک ظالم بادشاہ
دیہاتیوں کے گدھوں کو قبضے میں لے لیتا اور حد سے زیادہ بوجھ ڈالتا کھانے کو کچھ نا دیتا دو دن میں گدھے فوت ہو جاتے
شیخ سعدی علیہ الرحمہ بوستان میں لکھا ہے کہ جب زمانہ کسی کمینے کو اختیار دیتا ہے تو وہ ظلم کا بازار گرم کر دیتا ہے
گدھے کو مارنے میں مصلحت
آگے ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
جیسے مغرور اونچے مکان والا اپنے گھر کا کوڑا نچلے مکان کے چھت پر پھینک دیتا ہے
بادشاہ بھی ایسے مغرور اپنے نیچے والوں پر ظلم کرتا ہے
آگے لکھتے ہیں کہ ایک بار بادشاہ شکار کے لیے نکلا اور
شکار کرتے کرتے اپنے لوگوں سے بچھڑ کر راستہ بھول گیا
کسی شخص کے پاس رات رہنے کے لیے گیا تو وہ اپنے تندرست گدھے کو مار رہا تھا
بادشاہ نے پوچھا کہ اس بیچارے کو کیوں مار رہے ہو تو اس نے جواب دیا
چپ کر اس لیے میں مصلحت ہے بادشاہ نے کہا بھلا گدھے
کو مارنے میں کیا مصلحت ہے تو اس نے جواب دیا کہ جس طرح خضر علیہ السلام کی کشتی توڑنے میں مصلحت تھی
تو بادشاہ نے کہا ہاں ایک ظالم بادشاہ اس وقت صحیح سلامت کشتیوں پر قبضہ کر لیتا تھا تو دیہاتی نے جواب
دیا یہاں بھی ایک ظالم بادشاہ تندرست گدھوں پہ قبضہ کر لیتا ہے
اس وجہ سے اس گدھے کی ٹانگیں توڑ رہا ہوں اپنے پاس
اس طرح سے ہونا اس کا بہتر ہے نہ کہ تندرست حالت میں اپنے دشمن کے پاس کیونکہ ٹوٹا ہوا مال اپنے پاس تو
رہے گا بجائے اس کے کے تندرست حالت میں دشمن کے پاس ہو
پھر دیہاتی بادشاہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ اے بادشاہ اج یہ گدھے تمہارا بوجھ اٹھا رہے ہیں لیکن کل
قیامت کے دن تو اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا ایسا ظالم تو سویا ہوا بہتر ہے
جس کا آرام دوسروں کی تکلیف میں ہے دیہاتی کی باتوں نے بادشاہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور ساری رات
سوچتا رہا اور ستارے گنتا رہا صبح اس کا لشکر بھی اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کو آکر پا لیا
رات والی نصیحت بادشاہ بھول گیا
اور صبح ہوتے ہی وہ رات والے نصیحتوں کو بھول گیا اور دیہاتی کے قتل کرنے پر آگیا کہ
اس نے میری توہین کی ہے
جو اس کے منہ میں آیا دیہاتی کو کہا
دیہاتی نے بادشاہ کو کہا تیرے دور میں ظلم بہت زیادہ ہوا ہے تیرے لیے بہتر ظلم کرنا نہیں ظلم چھوڑ دینا ہے
ظالم یہ امید نہ رکھے کہ اس کی نیک نامی دنیا میں پھیلے گی تجھے نیند کیسے آسکتی ہے؟
جبکہ تیرے ہاتھ سے ستائے ہوؤں کو نیند نہیں آتی صرف دربار کی خوشامد تجھے قابل تعریف نہیں بنا سکتی منہ
پر تعریف کا کیا فائدہ جبکہ پیٹھ پیچھے ہر کوئی لعنتیں برسا رہا ہے
دیہاتی کی ان باتوں سے بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں انہیں انعام اکرام سے نواز کر اس علاقے کی حکومت بھی اسے بخش دی۔
