شیخ سعدی اور نوشیرواں
شیخ سعدی اور نوشیرواں کا تذکرہ

حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی کتاب بوستان صفحہ نمبر 28 اور 30 سے لیا ہوا ایک قصہ جو نوشیرواں بادشاہ کے نام سے ہےاس کے اندر نوشیرواں بادشاہ نے اپنے بیٹے کو کچھ نصیحتیں کیں کہ
حکومت کو کیسے چلانا ہے اور عوام کو کیسے رکھنا ہے
ایک اچھے حکمران کے لیے یہ نصیحت بہت بہترین ہے
مرتے وقت اپنے بیٹے کو وصیت
نو شیرواں بادشاہ نے مرتے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ اے بیٹا
صرف اپنی ہی آرام کا خیال نہ رکھنا غریب کی دل جوئی
کی فکر بھی کرنا کیونکہ اگر تو اپنی ہی آرام کی فکر میں رہا تو پھر
تیرے ملک میں کوئی بھی آرام سے نہ رہ سکے گا کوئی
عقلمند اس بات کو جائز نہیں سمجھتا کہ چرواہا سویا رہے اور بکریاں
بھیڑیے کے سپرد کر دے عوام کا خیال رکھ اس لیے کہ
بادشاہ اگر درخت ہے تو عوام اس کی جڑیں ہیں اور درخت جڑ ہی سے
مضبوط ہوتا ہے جو عوام کے دل کو ستاتا ہے وہ اپنی ہی
پاؤں پہ کلہاڑا چلاتا ہے سیدھا راستہ وہی ہے جو پرہیزگاروں کا ہے اور وہ امید اور خوف کے درمیان کا راستہ ہے
( ایمان خوف اور امید کی درمیانی کیفیت کا نام ہے )
جو بادشاہ چاہتا ہے کہ میرے ملک کو نقصان نہ پہنچے وہ مخلوق کو ستانا
کبھی پسند نہ کرے گا اگر کسی بادشاہ میں یہ صفت
نہیں تو اس کے ملک میں امن کہاں؟ تو جس کا بندہ ہے
اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کر اور اگر تو خود سر ہے تو جا
اپنا سر کھا خوشحالی اس ملک میں نہیں آتی جہاں کی
مخلوق بادشاہ کے ہاتھوں تنگ ہو طاقتوروں سے ڈرنے کی بجائے ان سے
ڈر جو اللہ سے نہیں ڈرتے وہ تجھے ضرور نقصان پہنچانے کی
کوشش کریں گے رعایا کو ستانے والا خواب ہی میں ملک کے
اندر امن دیکھ سکتا ہے ظلم سے خرابی اور بدنامی ہوتی ہے رعایہ
کو ظلم سے نہ مار کیونکہ وہی تو حکومت کی پشت پناہ ہوتی
ہے اپنے فائدے کے لیے کسان کو نہ ستا کیونکہ مزدور خوش دل
ہوگا تو کام زیادہ کرے گا کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ
برائی کرنا بہت برا ہے جس سے تو نے کئی بار بھلائی دیکھی ہو.
تشریح
لوگوں کے ساتھ سلوک
قرآن مجید فرقان حمید میں رب تعالی نے قارون کو نصیحت کرتے ہوئے
ارشاد فرمایا اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے
اخرت کے گھر کی تلاش کرو اور دنیا کی حصہ کو نہ بھولو لوگوں کے ساتھ
اچھا سلوک کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اور ملک
میں سرکشی نہ کرو بے شک سرکشی کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا
(سورۃ القصص ایت نمبر 77 )
اج بھی کسی بھی ملک کا کوئی بھی بادشاہ ہے قرآن مجید فرقان
حمید ان کے لیے نصیحت ہے قرآن مجید فرقان حمید کے راستے
پر کوئی بھی چلے گا وہ کامیابی تک جائے گا
نافرمانی کی سزا
قارون نے رب تعالی کی نافرمانی کی اور سزا کے طور پر رب تعالی
نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور یہ قارون حضرت
موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے قوم میں سے تھا اس کے پاس خزانہ
جمع ہوا حضرت موسی علیہ السلام نے زکوۃ دینے کا کہا تو
اس نے کہا یہ میرا اپنا مال ہے میں کسی کو نہیں دوں گا رب تعالی کا
حصہ جو اس پر فرض تھا اس نے وہ نہ نکالا اور اس کے
سبب ہلاک ہو گیا آج بھی کوئی رب تعالی کی نافرمانی کرے گا تو اس
کے لیے سزا آخرت میں ضرور مقرر ہے اور اسے وہ سزا مل کر ہی رہے گا
نوشیروا کون تھا
خسرو اول جو کہ نوشیرواں کے لقب سے مشہور ہوا ساسانی حکومت
کے ایک بادشاہ گزرے ہیں عرب ان کو کسری کے نام سے
جانتے تھے اور یہ حکومت کرتے رہے ہیں ایران پر یہ مشہور ہے نوشیرواں
عادل کے نام سے بھی نوشیرواں سے بھی اور
خسرو اول کے نام سے بھی 531 عیسوی میں یہ تخت نشین ہوا اور بغداد کو اپنا دارالحکومت
بنایا 48 سال اس نے حکومت کی 579
عیسوی کو یہ انتقال کر گیا اس کے بعد اس کا بیٹا ہرمز تخت نشین ہوااور اسی ہی بیٹے کو وہ یہی نصیحتیں کر رہے
تھےاورحضرت شیخ سعدی نے ایک اور جگہ پر شرویہ نام لکھا ہے۔ اور
مذہبانوشیرواں زرتشت تھااس کا دور حکومت ساسانیوں کے عروج کا دور تھا
