حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کے حالات
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کے حالات زندگی

نام اور لقب
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ
کا نام شرف الدین ہے اور لقب مصلح اور تخلص سعدی، آپ علیہ الرحمہ کا وطن شیراز ہے وہ شراز جو صدیوں ایران کا پایہ تخت تھا اور علوم و فنون کا مرکز رہ چکا ہے
سعدی تخلص قرار دینے کی وجہ
آپ کے "سعدی تخلص” کے بارے میں یہ بات آئی ہے کہ شیخ کا باپ عبداللہ شیرازی بادشاہ اتابک زنگی کا ملازم
تھا اور شیخ نے اسی بادشاہ کے زمانہ میں شاعری شروع کی اس لیے اس کے نام کی نسبت سے اپنا تخلص سعدی قرار دیااور اسی وجہ سے آپ کو "سعدی شیرازی” کہا جاتا ہے
پیدائش اور وفات
حضرت "شیخ سعدی” علیہ الرحمہ کی پیدائش غالبا 579ہجری 1333 عیسوی میں اور وفات 691 ہجری میں ہوئی اس طرح شیخ نے ایک سو سال سے زیادہ عمرپائی کسی نے 120 سال عمر لکھی۔
شیخ سعدی کا بچپن بچپن
شیخ کاپاپ عبداللہ بخدا آدمی تھا اور گھر میں دینداری کا چرچہ تھا اسی لیے بچپن ہی میں اسے روزہ نماز کی ضروری مسائل یاد کرا دیے گئے تھے اور اس چھوٹی سی عمر میں بھی عبادت شب بیداری اور تلاوت کلام اللہ کا کمال شوق اس میں پیدا ہو چکا تھا باپ اس کی تربیت
میں بڑا چست تھا کڑی نگرانی رکھتا تھا اور بے موقع زبان کھولنے پر بھی زجر و توبیخ (یعنی جھٹکتے) کرتاتھا شیخ نے اپنی تربیت کا بڑا سبب اسی باپ کی تادیب اور زجر و توبیخ کو قرار دیا۔
شیخ سعدی کا تعلیم
بغداد ابھی تک ہلاکو خان کے ہاتھوں برباد نہیں ہوا تھابدستور دار الخلافہ تھا اور علم اور علماء کا مرکز شہرہ آفاق دارالعلوم نظامیه اباد تھا یہ دارالعلوم نظام الملک طوسی نے 459 ہجری میں قائم کیا تھا اور اس کی شہرت
پوری اسلامی دنیا میں گونج رہی تھی شیخ کو نظامیہ کی کشش بغداد میں کھینچ لائی اور نظامیہ میں داخل ہوگیابغداد میں شیخ نے جن علماء اور فضلاء سے علم حاصل کیا ان میں ایک بزرگ ایسے بھی ہیں جن کی کفش
برداری (جوتےاٹھانے) پر ہر صاحب علم کو فخر ہوناچاہیے یہ علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن جوزی ہیں جواپنے زمانہ کے امام وقت تھے ابن جوزی سے شیخ کاتلمذ ہی شیخ کی بڑائی کے لیے کافی تھا اگر اور بہت سی بڑائیاں اس میں موجود نہ بھی ہوتیں۔
شیخ سعدی کی توبہ
حضرت شیخ سعدی کی طبیعت تصوف اور درویشی کی طرف مائل تھی اور وجد اور سماع کی مجلسوں میں وہ شریک ہوا کرتا تھا اس کے استاد ابن جوزی اس چیز کوبرا سمجھتے اور شیخ کو سختی سے منع کرتے تھے مگروہ بعض نہ آتا تھا آخر ایک بد آواز قوال سے پالا پڑ گیااور ساری رات اسی مکروہ صحبت میں بسر ہوئی جب
صحبت ختم ہوئی تو شیخ نے سرسےعمامہ اتارا اور جیب سے ایک دینار نکالا پھر یہ دونوں چیزیں قوال کی نظرکر دیں ساتھیوں نے تعجب کیا تو شیخ نے کہا قوالصاحب کرامت بزرگ ہے استاد کی نصیحت نے وہ اثرنہیں کیا جو اس کے "لحن داؤدی” نے کیا ہے اور اب میں سماع سے توبہ کرتا ہوں ۔
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی سیاحی
شیخ نے تقریبا 30 برس طالب علمی اختیار کی علم کوپڑھا بہرحال جب شیخ تحصیل علم سے فارغ ہوئے تودفتر کائنات کے مطالعہ کی ٹھانی اور سیاحی پر کمر بستہ ہو گئےکچھ نے لکھا ہے کہ شیخ کی سیاحی بھی 30 برس جاری رہی یہ صحیح ہو یا نہ ہو مگر یہ واقعہ ہے کہ شیخ بہت بڑا سیاہ گزرا ہے۔
سعدی قاضی کے دربار میں
شام یا عراق کے ایک شہر میں شیخ کو ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا قاضی شہر کی مجلس جمی ہوئی تھی شیخ بھی پہنچ گیا مگر پھٹے پرانے کپڑے پہنا تھا خدام نے اٹھا دیااور بڑی مشکل سے وہ کسی کونے میں دبک بیٹھا مجلس میں کسی مسئلے پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی مگر عقدہ
کسی سے کھلتا نہ تھا شیخ سے رہا نہ گیا اور سر اٹھا کربلند آواز سے گفتگو کی اجازت چاہی شاندار لباس میں ملبوس علماء خرقہ پوش درویش کو دیکھ کر متعجب ہوئے مگر جب شیخ نے مسئلے کو نہایت خوبی اورفصاحت سے صاف کر دیا تو قاضی صاحب نے مسندچھوڑ دی اور عمامہ سر سے اتار کر شیخ کے سامنےرکھ دیا شیخ نے کہا یہ غرور کا اوزار ہے مجھے نہیں چاہیے۔1
حضرت سعدی ننگے پاؤں
حضرت شیخ سعدی نے گلستان میں لکھا ہے کہ میں نےزمانے کی سختی کا کبھی شکوہ نہیں کیا لیکن ایک موقع پر دامن استقلال ہاتھ سے چھوٹ گیا نہ میرے پاؤں میںجوتی تھی اور نہ جوتی خریدنے کا مقدور تھا یعنی پیسےنہیں تھے اسی حالت میں غمگین اور تنگ دل کوفہ کی جامع مسجد میں پہنچا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پڑاہے جس کی سرے سے پاؤں ہی نہیں ہے اس پر میں نےخدا کا شکر ادا کیا اور اپنے ننگے پاؤں غنیمت سمجھے۔
صاحب بوستان بھوک کی سختیاں
شیخ صبر و قناعت کے ساتھ عزت نفس کی دولت سےبھی مالا مال تھا وہ اسکندریہ میں سخت قحط کےزمانے میں موجود تھا اور دوسرے درویشوں کے ساتھ بھوک کی سختیاں جھیل رہا تھا شہر میں ایک ہیجڑا بلادولت مند تھا اور غریبوں پردیسیوں پر اس کی ڈیوڑھی کھلی رہتی تھی شیخ کے بعض رفقاء نے اس ہیجڑے کی دعوت میں چلنے کی ترغیب دی تو شیخ سعدی نے نہایت خوددارانہ جواب دیا شیر بھوک سے مر بھی جاتا ہے مگرکتے کا جھوٹا نہیں کھاتا۔
- بوستان ↩︎
