غزوہ ذوالعشیرہ
اس غزوہ یعنی غزوہ ذوالعشیرہ(ینبوع کےاطراف میں ایک مقام کانام ہے یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہے)
کی تاریخ کے بارے میں بات کریں کہ یہ کب پیش آیا

تو اس بارے میں ابن اسحاق کی بقول رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم جمادی الاولی کے آخر میں روانہ ہوئے
اور جمادی الاخرہ میں واپس آئے غالبا یہی وجہ ہے کہ
اس غزوے کے مہینے کی تعین میں اہل سیرکا اختلاف ہے
علم اور علمبردار
کوئی بھی غزوہ ہو اس کے لیے ایک علمبردار(جھنڈااٹھانےوالا) ہوتا تھا اور ایک علم ہوتا تھا
اس غزوہ میں علمبردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور علم (جھنڈا)کا رنگ سفید تھا.
مدینہ کی سربراہی
اس غزوہ میں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
خود بھی ساتھ تھے تو ایام سفر میں مدینہ کی سربراہی کا
کام حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ نے انجام دیا۔
ذوالعشیرہ میں صحابہ کی تعداد
اس غزوہ میں تقریبا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کے ہمراہ ڈیڑھ یا 200 مہاجرین تھے لیکن آپ صلی اللہ
علیہ وسلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کسی کو روانگی پر مجبور نہیں کیا تھا۔
اور سواری کے لیے صرف 30 اونٹ تھے اس لیے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے
غزوہ ذوالعشیرہ کے وقوع کا سبب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس غزوہ کے لیے اس
وجہ سے روانہ ہوئے کہ قریش کا ایک قافلہ تھا جو ملک
شام جا رہا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ یہ مکے سے چل چکا
ہے اس قافلے میں قریش کا خاصہ مال تھا آپ اس کی
طلب میں ذوالعشیرہ تک پہنچے لیکن آپ کی پہنچنے سے
کئی دن پہلے ہی قافلہ جا چکا تھا یہ وہی قافلہ ہے جسے
شام سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے گرفتار
کرنا چاہا تو یہ قافلہ تو بچ نکلا لیکن جنگ بدر پیش آگئی۔
(الرحیق المختوم،صفحہ 272/73)
