مزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات
مزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات
دنیا میں مزدور کی دیہاڑی کے قوانین لوگوں نے بنائے لوگوں کی قوانین سے مراد غیر مسلمین ہیں
باقی جب بات آئے مزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات کے بارے میں تو اسلام میں مزدور کی دیہاڑی پر بہت سارے احکام موجود ہیں۔پاکستان سمیت دنیا میں یکم مئی کو لیبر ڈے یعنی یوم مزدور منایا جاتا ہے
یکم مئی کا پس منظر
مزدور طبقہ ہمیشہ ظلم کا شکار رہا ہے کہیں مزدور کو اس کی دیہاڑی نہیں دی جاتی اور کہیں مزدور کو دیہاڑی بہت دیر سے دی جاتی ہے کہیں مزدور سے زیادہ کام لے کر مزدوری کم دی جاتی ہے اور کہیں کسی معمولی غلطی کے سبب مزدور کے مزدوری کو ضبط کیا جاتا ہے۔ پہلے پہل یورپین ممالک میں انسانوں کو انسان نہیں بطور مشین سمجھ کر کام لیا جاتا اور مزدوری بہت کم دی جاتی تھی اس وجہ سے 1886 میں مزدوروں نے بہت احتجاج کیے جن میں مزدوروں کے جو سربراہان تھے ان کو گرفتار کر کے اور احتجاج کے دوران مزدوروں کو مار دیا گیا تھا اسی ضمن میں یکم مئی کو ان مزدوروں کی یادداشت میں یوم مزدور یعنی لیبر ڈے منایا جاتا ہے اتنا کام لینے کے باوجود مزدوروں کو مزدوری بہت کم دیا جاتا تھا تو ان احتجاجات کے دوران مزدوروں نے یہ مطالبہ رکھا کہ کام کے وقت کو کم کر کے مزدوری اتنا دیا جائے جس میں عام بندے کا گزارا ہو سکے۔امریکہ سمیت اسٹریلیا نیدرلینڈ نیوزی لینڈ میں مزدور ڈے ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے
مزدوری کرنا انبیاء کی سنت ہے
حضرت داؤد علیہ السلام جنگ لڑنے کے لیے زرہ بناتے تھے جس کا بیان سورۃ الانبیاء کے آیت نمبر 80 میں موجود ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے جنگ کے دوران جسم کی حفاظت کے لیے زرہ کو ایجاد کیا اور اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھ پر لوہے کو بہت نرم کیا جس کو بغیر آگ کے آپ جس طرح چاہتے کوئی بھی چیز بناتے تھےتفسیر کبیر میں ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کو پگھلائے بغیر دھاگے کی طرح ذرہ بنتے تھےاس کے علاوہ دیگر انبیاء کے بارے میں بھی تذکرہ آتا ہے کہ ان انبیاء نے مختلف کام کر کے اپنا گزر بسر کیا۔حضرت آدم علیہ السلام کاشتکاری کیا کرتے تھے۔حضرت نوح علیہ السلام لکڑیوں سے چیزیں بناتے یعنی ترکھان تھے۔حضرت لقمان علیہ السلام درزی تھے اور حضرت طالوت علیہ السلام کپڑا رنگنے کا کام کرتے تھے۔(تفسیر کبیر)
تمام انبیاء کا بکریاں چَرانا
مشکوۃ شریف حدیث نمبر 258 میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنے بھی انبیاء آئے ان تمام نے بکریاں چرائیں۔اس فرمان کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی شامل ہیں۔اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے حضرت شعیب علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی بکریاں چرائیں سورۃ القصص میں اس کا بیان موجود ہے
مزدور کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں ایک مرتبہ ایک صحابی حاضر ہوئے اور وہ بہت محنت اور مزدوری کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آکر ہاتھ ملایا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے ہاتھوں پر کچھ نشانات بھی دیکھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بارے میں اس سے سوال کیا تو اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں عرض کیا یا رسول اللہ میں محنت کرتا ہوں اس وجہ سے میرے ہاتھوں پر نشانات ہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر شفقت کرتے ہوئے فرمایا "مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو” (سنن ابن ماجہ:2443)
مزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات یہی ہے کہ اس کو مزدوری جلدی ادا کی جائے اتنی جلدی کہ اس کا پسینہ بھی خشک نہ ہو۔
مزدور کی اجرت نادینے پر رسول اللہ کی مخاصمت کا اعلان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تین لوگوں کے ساتھ مخاصمت کروں گا جن میں تیسرا وہ آدمی جس نے مزدور کو اجرت پر طلب کیا اور اس کو مکمل اجرت نہیں دی۔(مسند احمد:جلد 2/358)
ایسے آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قیامت کے دن جھگڑا کریں گےمزدور کی دیہاڑی پر اسلامی تعلیمات بہت زیادہ ہیں یہاں مختصر بیان کئے جارہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حدیث شریف کے لحاظ سے مسلمانوں کو بتا دیا ہے کہ کبھی بھی کسی مسلمان پر ظلم نہ کرنا خصوصا مزدور کی مزدوری کھا کر ظلم مت کرنا اگر تم نے ایسا کیا تو قیامت کے دن میں تم سے جھگڑا کروں گا یعنی قیامت کے دن مزدور کا حق تم سے لے کر اس کو ادا کروں گا
