دعا کی فضیلت پر تقریر
دعا کی فضیلت
دعا کی فضیلت پر بہت ساری احادیث ہیں اس کے علاوہ قرآن مجید فرقان حمید میں بھی اللہ رب العزت نے دعا کرنے کا حکم فرمایا کبھی بیان فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا تو کبھی بیان فرمایا کہ مشکل وقت میں ایک انسان دعا کرتا ہے جب ہم ان سے مشکل کو دور کرتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے جیسے کبھی اس کو مشکل پیش آئی ہی نہیں (یونس:12)کبھی بیان فرمایا کہ جو مجبور اور بے قرار ہے اللہ عزوجل اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے (النمل:62)
دعا کا لغوی اور اصطلاحی معنی
"دعا کا لغوی معنی” ہے پکارنا،عبادت کرنا ، مدد طلب اور سوال کرنا ہے ۔اور دعا کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ رب تعالی کے حضور انتہائی عاجزی، تواضع اور محتاجی کا اظہار کرنا۔
رب تعالیٰ کے حضور دعا کرنے کی فضیلت
سنن ترمذی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا دعا عبادت کا مغز ہے. (رقم 3371)ترمذی شریف میں ایک اور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا دعا عین عبادت ہے۔(الرقم:3247)مسند ابویعلی میں حدیث ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(الرقم 1812)
تنگی اور خوشحالی دونوں اوقات میں دعا کرنے کا حکم
تنگی اور خوشحالی میں دعا کا حکمسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ تنگی اورمشکلات کے وقت میں اس کی دعا قبول ہو تو اسے چاہیے کہ خوشحالی کے وقت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرے۔ (ترمذی،الرقم:3382)
دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی دعاہی ہے جس سے تقدیر بدل جاتی ہے کبھی عام مسلمان کی دعا سے کبھی کسی ولی کی دعاسے۔دعا سے عمر میں اضافہ ہوتی ہےاسی اوپر والے حدیث کا دوسرا حصہ ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا عمر میں اضافہ دعا ہی کے ذریعے ہوتی ہے ۔(ترمذی :2139)
دعا کا دروازہ رحمت کا دروازہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھولا گیا اللہ تعالی سے جو بھی چیز مانگی جاتی ہے ان میں سب سے پسند رب تعالی کو عافیت مانگنا ہے (ترمذی:3548)
دعا مصیبت کے لئے نافع ہے
اسی حدیث کے تسلسل میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزید فرمایا دعا اس مصیبت کے لیے بھی نافع ہے جو اتر چکی ہے اور اس کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو مستقبل میں اترے گی ۔ (ایضا)
اس حدیث سے ثابت ہوا جسے رب تعالی نے دعا کی توفیق عطا فرمائی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھل گیا اس کے علاوہ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مصیبتیں جو اتری ہوئی ہوتی ہیں یا آنے والی ہوتی ہیں ان سے چھٹکارے کے لیے سب سے زیادہ جو چیز فائدہ دیتی ہے وہ دعا ہی ہے انسان خود بھی دعا مانگے اور دوسرے مسلمانوں سے بھی کہے کہ وہ اس کے لیے دعا مانگیں تکلیف سے چھٹکارے کے لیے دعا مانگیں بیماری سے شفاء کے لیے دعا مانگیں رزق میں تنگی ہے تو وسعت کا دعا کریں کاروبار میں تنگی ہے تو ترقی کے لیے دعا مانگیں۔اللہ عزوجل کو پسند ہے اس سے مانگا جائےحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے اور بہترین عبادت (صبر کے ساتھ) فراخی کا انتظار کیا جائے۔(ترمذی:3571)
تین لوگوں کی دعا مقبول ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا والد کی اپنے بیٹے کے لیے دعا ۔(ترمذی:1905)
غافل کی دعا قبول نہیں ہوتی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی سے قبولیت کی یقین کے ساتھ دعا مانگو اور اللہ غافل دل کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔(ترمذی:3479)
حرام کھانے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے شخص کا ذکر کیا جس نے لمبا سفر کیا ہو اس کے بال غبار آلود ہوں اور ہاتھ اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کرے یارب یارب حالانکہ اس کا کھانا پینا حرام ہو اس کالباس حرام ہو اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کہاں قبول ہوگی؟(ترمذی:رقم :2989)
جمعہ کا دن دعا کی قبولیت کا وقت
جمعہ کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے جس کو مسلمان نماز کے دوران پالےتو اللہ تعالی سے جس چیز کا بھی سوال کرے گا پا لے گا۔(مسلم:الرقم 852)
اذان و جہاد وقت دعا قبول ہوتی ہے
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی ایک اذان کے وقت کی دعا دوسرا جہاد کے وقت کی دعا جب بعض بعض کو تہ تیغ کر رہے ہوں۔(ابوداؤد:2540)
دعا کی فضیلت میں بہت ساری احادیث ابھی کچھ احادیث دعاکی فضیلت پر بیان ہوئے ہیں اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے
