دوستی کے اثرات پر اسلامی گفتگو
دوستی کے اثرات کے بارےمیں
کوئی بھی انسان ہو وہ دوستی کے اچھے اور برے اثرات سے بچ ہی نہیں سکتا اگر دوست نیک عادتوں والا ہوگا تو دوسرا دوست اس نیک عادتوں کی وجہ سے نیک بن جائے گا نمازی دوست اپنے دوست کو نماز کی طرف کھینچے گا بے نمازی کے ساتھ بیٹھنے والا ممکن ہے وہ بے نمازی ہو جائےجس کا عمل زیادہ قوی ہوگا دوست بھی اس قوی عمل والے کی طرح با عمل یا بے عمل ہو جائے گا اس لئے کہاجاتا ہے کہ انسان دوستی کے اثرات سے بچ نہیں سکتا یہی وجہ ہے کہ دوست نیک عمل کرنے والا ہو اچھے عمل والا ہو تاکہ ہم بھی اچھے بن جائیںانسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
"انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تم میں سے ہر کوئی خوب غور کر لے کہ کس سے دوستی کرتا ہے”
دوستی کے اثرات انسان کے زندگی میں بہت گہرے ہوتے ہیں اس لئے آقا علیہ السلام نے غور کرنے کا حکم فرمایا ہے
بھائی نیک ہوئے تو میں بھی نیک ہو جاؤں گا
کشف المحجوب میں داتا علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے لکھا ہے کہ ایک شخص کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دعا کر رہا تھا اللهم أصلح اخواني اے اللّٰہ عزوجل میرے بھائیوں کو نیک کردےاس سے کہا گیا بہترین جگہ پہ صرف اپنے بھائیوں کے لیے دعا کر رہے ہو اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتے وہ کہنے لگا إن لي اخوانا يرجع إليهم فإن صلحوا صلحت معهم وإن فسدوا فسدت معهممیں
یہاں سے اپنے بھائیوں کی طرف لوٹ کر جاؤں گا اگر وہ نیک ہوئے تو ان کی برکت سے میں بھی نیک ہو جاؤں گا وہ بگڑے ہوئے تو ان کی نحوست سے میں بھی بگڑ جاؤں گا چنانچہ ان کے لیے دعا کر کے حقیقت میں اپنے لیے بھی کر رہا ہوں۔
(کشف المحجوب فارسی،باب الصحبۃ ومایتعلق بھا و 401،سنگ میل پبلی کیشنز)
اس واقعے کی مناسبت سے انسان جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے جن کے ساتھ اکثریت کے ساتھ تعلق ہے ان کے نیک ہونے کے بارے میں دعا کی جائے تو جب ان کے نیک ہونے کے بارے میں دعا کرے گا تو دوست دعا کرنے والے دوست کو بھی نیک اعمال کی طرف لے جائیں گے
کسی بزرگ نے اچھے دوست اور برے دوست کے فرق کو شعر کی صورت میں کس پیارے انداز میں بیان فرمایا
چنگے بندے دی صحبت یارو جیویں دکان عطاراں سودا بھانویں مل نہ لئیے حلے آن ہزاراں
برے بندے دی صحبت یارو جیویں دکان لوہاراں
کپڑے بھاویں کنج کنج بیِّے چنگا پین ہزاراں
اچھے انسان کی صحبت کو عطر کی دکان سے تشبیہ دی کہ عطر اگرچہ لیں یا نہ لیں لیکن خوشبو ضرور مل جاتی ہے اور برے بندے کے ساتھ بیٹھنا ایسا ہے جیسے لوہار کے دکان پر بیٹھنا کیونکہ لوہار کی بھٹی سے چنگاریاں اڑ اڑ کر کپڑوں پر پڑتی ہیں اور کپڑوں کو جلا دیتی ہیں
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دوست کو توبہ کروایا
روایت میں آتا ہے کہ ملک شام سے ایک قریب شخص امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دربار میں آیا کرتا تھا کچھ عرصہ وہ حاضر نہ ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں پوچھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ وہ تو شراب کا عادی ہو گیا ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے لکھنے والے کو بلایا اور فرمایا کہ لکھو عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف السلام علیکم پھر سورہ مومن کی تیسری آیت کریمہ سے اخذ شدہ حمد باری تعالی لکھوائی فاني احمد إليك الله الذي لا اله الا هو غافر الذنب وقابل التوب شديد العقاب ذول لا اله الا هو اليه المصيرمیں تیرے سامنے اللہ تعالی کی حمد کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا ہے سخت عذاب دینے والا بڑے انعام سے نوازنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے پھر امیر المومنین نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا دعا کرو کہ وہ دل سے متوجہ ہو جائے اور اللہ تعالی اسے توبہ کی توفیق سے نواز دے جب اس شخص کو خط پہنچا تو اس خط کو وہ بار بار پڑھتا اور اس کی زبان پر یہ کلمات جاری رہتے "وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا ہے سخت عذاب دینے والا بڑے انعام سے نوازنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے”پھر روتے ہوئے کہتا میرے رب نے مجھے اپنے عذاب سے بھی ڈرایا ہے اور مغفرت کا وعدہ بھی فرمایا ہے البتہ اس نے سچی توبہ کر لی جب امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی تو اپ نے نہایت سبق آموز جملہ ارشاد فرمایاتم بھی ایسا ہی کیا کرو جب تمہیں پتہ چلے کہ تمہارے کسی مسلمان بھائی سے لغزش ہو گئی ہے تو اسے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرو اور رب تعالی سے دعا کرو وہ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اس کے خلاف شیطان کی مدد کرو (حلیۃ الاولیاء جو:4ص:97 مطبوعہ السعادہ)
بات ہو رہی تھی دوستی کے اثرات کے بارے میں بہترین دوست اپنے دوست کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بہترین دوست کون ہو سکتا ہے تو لہذا امیر المومنین نے دوستی کا تقاضا نبھاتے ہوئے اپنے دوست کو نصیحت بھرا خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد اپنے دوسرے دوستوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اب ان کے لیے دعا کرو کہ وہ دل سے متوجہ ہو جائے جب انسان دل سے اپنے دوست کے لیے یا کسی بھی انسان کے لیے دعا کرتا ہے تو رب تعالی اس کی دعا کو ضرور بالضرور قبول فرماتا ہے
