فتح مکہ کا دن رحم کا اعلان
فتح مکہ کا دن رحم کا اعلان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن رحم کا اعلان کرتے ہوئے آپ نے تمام دشمنوں کو
معاف کر دیا یہ درگزر کی اعلی مثال ہے جو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لیے چھوڑ گئے
فتح مکہ کے تذکرہ سے پہلے ہم آپ کے سامنے صلح حدیبیہ کے بارے میں
کچھ بتاتے ہیں کہ اس کے تذکرے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

فتح مکہ سے پہلےحدیبیہ کے شرائط کی مخالفت
صلح حدیبیہ کے کئی شرائط ہیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ فریقین کے
درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہیں ہوگی اور یہ صلح ہوئی بھی ہجرت کے
چھٹے سال اور جب ہم فتح مکہ کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ مکمل دو سال بعد کا واقعہ ہے
لیکن اس میں ایک شرط یہ تھی کہ عرب کے قبائل کو یہ اختیار ہے کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہے معاہدہ کر لیں
صلح حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹنے کا سبب
صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ دس سال تک دونوں فریقین میں سے کوئی
بھی جنگ کے لیے نہیں آئے گا دوسری طرف ایک شرط یہ ہے کہ عرب کے قبائل
کو یہ اختیار ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں معاہدہ کر لیں تو اس ضمن میں دو قبیلے تھے ایک بنو بکر ایک
بنو خزاعہ بنو بکر نے معاہدہ کر کے قریش کو اپنا حلیف بنا لیا اور بنو خزاعہ نے معاہدہ مسلمانوں کے ساتھ کر لیا
بنو بکر اور بنو خزاعہ کے درمیان دشمنی تھی دو سال کے بعد بنو بکر قریش کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ پر
حملہ آور ہو گئے اور ان کے تیئیس 23 لوگ اس حملے میں مارے گئے
اس طرح قریش نے جو معاہدہ کیا تھا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ اسی
ہی معاہدے کو انہوں نے بنو بکر کے ساتھ مل کر خود ہی توڑ دیا
تو بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن سالم خزاعہ چالیس 40 آدمیوں کا وفد لےکر مدد کے لیے آقا علیہ الصلوۃ
والسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ان کے حاضر ہونے کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام
نے کفار کی طرف اپنا قاصد روانہ کیا اور تین شرطیں پیش فرمائیں
1 مقتولوں کا خون بہا دیاجآئے 2 قریش قبیلہ بنی بکر کی حمایت سے الگ ہو جائیں
3 اعلان کر دیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد نے ان شرطوں کو قریش کے سامنے رکھا تو قریش
کے ایک سردارقرطہ بن عبد عمر نے قریش کا نمائندہ بن کر جواب دیا کہ
"نہ ہم مقتولوں کا معاوضہ دیں گے نہ قبیلہ بنی بکر کی حمایت چھوڑیں گے ہاں
تیسری شرط ہمیں منظور ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا”
اس کے بعد قریش کے کچھ سرداروں کو اس پر پشیمانی ہوئی اور ابو سفیان کو بعد میں معاہدہ کی
دوبارہ تجدید کے لیے بھیجا ۔(زرقانی جلد دوم صفحہ 292)
ابوسفیان کا تجدید معاہدہ کا خود سے اعلان
ابو سفیان پھر تجدید معاہدہ کے لیے روانہ ہو گئے ابو سفیان کی بیٹی ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ مبارک تھیں جبکہ اس وقت تک ابو سفیان مسلمان نہیں تھے
یہ جب روانہ ہوئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر پہنچے ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے
پاس چارپائی پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا بستر بچھا ہوا تھا اس پر ابو سفیان بیٹھنے ہی لگے تھے تو
ام المومنین نے بسترا کھینچ لیا تو اس پر ابو سفیان نے کہا کہ میں بسترے کے لائق نہیں یا بستر میرے لائق نہیں
اس پر ام حبیبہ نے جواب دیا کہ تم مشرک ہو اور نجس ہو میں کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ
آپ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بستر مبارک پر بیٹھیں
ابو سفیان کو یہ بات پسند نہیں آئی اور گھر سے نکل کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ
میں پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تجدید معاہدہ کا
ذکر کیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے علاوہ بعد میں
یہ حضرت عمر حضرت ابوبکر صدیق بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت
علی کے پاس بھی گئے تو کسی نے بھی ان کی کوئی بات نہیں سنی اس وجہ سے
کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں چاہتے تو ہم بھی کچھ نہیں کر سکتے
حضرت علی کا معاہدہ کی تجدید کے لیے مشہورہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ابو سفیان نے کہا کہ کوئی تو مشورہ
دے دیں کوئی چارہ بتا دیں کہ مسئلہ حل ہو جآئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب
دیا کہ میں تمہیں اس بابت کوئی مفید مشورہ نہیں دے سکتا سوآئے اس کے کہ تم ایک سردار ہو اور خود ہی
لوگوں کے سامنے جا کر اعلان کر دو کہ میں معاہدہ کی تجدید کا اعلان کرتا ہوں
ابو سفیان نے سوال کیا کہ کیا میرا یہ اعلان مفید ہو سکتا ہے فائدہ دے سکتا ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک طرف اعلان البتہ فائدہ نہیں دے سکتا
مگر تمہارے پاس اس طرح کے علاوہ کوئی اور چارہ ہے ہی نہیں اسی طرح ابو سفیان نے
جا کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے لوگوں کے بیچ میں یہ اعلان
کر دیا تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کوئی التفات نہیں کیا
جب مکہ پہنچے تو قریش کفار کو اس نے جا کر اسی طرح بتایا تو انہوں نے یہی سوال کیا کہ اس پر
مسلمانوں کے نبی نے کیا جواب دیا تو انہوں نے کہا انہوں نے
کوئی بھی جواب نہیں دیا یہ سن کر قریش نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہ ہوا یہ نہ تو صلح ہے کہ ہم اطمینان سے
بیٹھیں نہ یہ جنگ ہے کہ لڑائی کا سامان کیا جآئے۔ (زرقانی جلد دوم صفحہ 292تا 293)
آقا علیہ السلام کا لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دینا
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم
دے دیا اور بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی حکم دیا کہ وہ جنگ کے ہتھیار
درست کرے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کسی کو بھی نہیں بتایا کہ جنگ کا ارادہ
کس سے ہے یعنی جنگ کس سے ہوگی اور جنگ کے لیے سفر کس علاقے کے
لیے ہے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو بھی کام و
کان کچھ بھی نہیں بتایا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں
بتایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بی بی عائشہ سے پوچھا تو بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا
کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی خبر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی نہیں بتایا۔
(زرقانی جلد دوم صفحہ 291)
حضرت ابی بلتعہ کا مکہ والوں کو جنگ کے بارے میں خط لکھنا
حضرت ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا خاندان مکہ میں تھا انہوں نے جنگ کے بارے میں
ایک خط لکھا کہ وہ کفار قریش کو بتآئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام تمہاری
طرف جنگ کے لیے آرہے ہیں انہوں نے یہ خط لکھ کے ایک کافرہ عورت کو پکڑا دی
اور وہ خط لے کر روانہ ہو گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ رب
العزت نے اس کے بارے میں اطلاع دی تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ
اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو فورا ہی روانہ
فرمایا کہ تم لوگ "روضہ خاخ”پہنچو وہاں ایک عورت ہوگی اس کے پاس ایک خط ہے
وہ چھین کر میرے پاس لاؤ چنانچہ تینوں اصحاب تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو
کر اسی مقام پر پہنچے اور عورت کو پا لیا انہوں نے عورت سے کہا کہ تمہارے
پاس ایک خط ہے اس کو ہمارے حوالے کر دیں تو عورت نے کہا کہ میرے پاس
کوئی بھی خط نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اس عورت سے مخاطب ہوئے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی ہم نے نعوذ باللہ جھوٹ نہیں سنا لہذا
تمہارے پاس خط ہے خط ہمارے حوالے کر دو وگرنہ تمہیں ننگی کر کے بھی وہ خط ہم لے لیں گے اس دھمکی
کو سن کر اس عورت نے آپنے بالوں سے وہ خط نکال کر حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے حوالے کر دیا۔
جب یہ خط حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو حضرت
حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلب کیا تو
انہوں نے حضور کی بارگاہ میں یہ عرض کی کہ آپ میرے بارے میں جلدی
نا فرمائیں نہ میں نے اپنا دین بدلا ہے نام مرتد ہوا ہوں میرے اس خط لکھنے کی وجہ
صرف یہ ہے کہ مکہ میں میرے بیوی بچے ہیں مگر مکہ میں میرا کوئی رشتہ دار
نہیں ہے جو میرے بیوی بچوں کی خبر گیری اور نگہداشت کریں میرے سوا دوسرے
تمام مجاہدین کے عزیز و آقارب مکہ میں موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی
دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں اس لیے میں نے یہ خط لکھ کر قریش پر اپنا ایک احسان رکھ
دیا تاکہ میں ان کی ہمدردی حاصل کر لوں اور وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ کوئی
برا سلوک نہ کریں یا رسول اللہ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ضرور ان کافروں کو شکست
دے گا اور میرے اس خط سے کفار کو ہرگز ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا
حضور نے حضرت حاطب کے اس بیان کو سن کر ان کے عذر کو قبول فرما لیا مگر حضرت
عمر اس خط کو دیکھ کر اس قدر طیش میں آگئے کہ آپےسے باہر ہو گئے اور عرض
کیا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں دوسرے
صحابہ بھی غیض و غضب میں بھر گئے لیکن رحمت عالم کی جبین رحمت پر اک
ذرا شکن بھی نہیں آئی اور آپ نے حضرت عمر سے ارشاد فرمایا اے عمر کیا تمہیں
خبر نہیں کہ حاطب اہل بدر میں سے ہے اور اللہ تعالی نے اہل بدر کو مخاطب
کر کے فرما دیا کہ تم جو چاہو کرو تم سے کوئی مواخذہ نہیں
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابی کو معاف فرما دیا
(بخارہ شریف جلد 2 صفحہ 612 غزوہ الفتح)
فتح مکہ کے لیے روانگی کی تاریخ اور تعداد لشکر
10 رمضان اٹھ ہجری کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ
سے 10 ہزار کا لشکر ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے
کچھ روایتوں میں 12 ہزار تعداد کے بارے میں بھی ذکر ہے تو اس لحاظ سے ان روایات میں کوئی اختلاف نہیں
کہ مدینہ سے روانہ ہوئے ہوں 10 ہزار اور مکہ تک پہنچتے پہنچتے بعض قبائل
کا بعد میں شریک ہونے کے بعد لشکر کے تعداد میں اضافہ ہو گیا ہو
مقام کدید میں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مانگا اور تمام لشکر کو دکھایاکہ آپ نے اپنا
روزہ افطار کر لیا اور تمام لوگوں نے بھی اپنا روزہ افطار کر لیا
چنانچہ سفر میں ہونے کی وجہ سے آپ نے روزہ رکھنا موقوف کر دیا۔
(بخاری جلد 2 صفحہ 613)
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ مدینہ سے 10 ہزار کا لشکر روانہ ہوا لیکن مکہ پہنچتے
ان کی تعداد 12 ہزار ہو گئی تو اس کے لیے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب حضور علیہ
الصلوۃ والسلام مقام "جحفہ” میں پہنچے تو وہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا حضرت عباس
رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر
ہوئے اور یہ یہاں مسلمان ہو کر آئے تھے بلکہ اس سے بہت پہلے مسلمان ہو چکے تھے تو یہ معاملات دلیل ہے
اس بات کی کہ بعد میں بھی لوگ لشکر میں شامل ہوتے رہے اور مکہ
پہنچ کر لشکر کی تعداد 12 ہزار ہو گئی۔
مکہ سے ایک منزل کے فاصلے مرالظہران پر آگ روشن کرنے کا حکم
مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر مرالظہران پہنچ کر اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تو
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فوج کو حکم دیا کہ ہر مجاہد اپنا الگ الگ چولہا جلائے
10 ہزار مجاہدین نے الگ الگ چولہے جلائے تو مرالظہران کے پورے
میدان میں میلوں تک آگ ہی آگ نظر آنے لگی۔
(مواھب المدنیہ مع شرح الزرقانی جلد 3 صفحہ نمبر 399)
قریش کے جاسوس
اس مقام تک آنے کے بعد قریش کو معلوم ہو گیا تھا کہ مسلمان لشکر کی صورت میں
حملہ کرنے کے لیے آرہے ہیں مگر صورتحال کی تحقیق کے لیے قریش نے ابو
سفیان بن حرب حکیم بن حزام اور بديل بن ورقاء کو اپنا جاسوس بنا کر بھیجا
جب یہ تینوں مرالظهران تک پہنچے تو دیکھ کر حیران رہ گئے اور ابو سفیان نے کہا کہ میں نے زندگی میں
اتنی دور تک پھیلی ہوئی آگ اس میدان میں جلتے ہوئے نہیں دیکھی
آخر یہ کون سا قبیلہ ہے بدیل بن ورقاء نے کہا کہ بنی عمرو معلوم ہوتے ہیں ابو سفیان نے کہا نہیں بنی عمرو
اتنی کثیر تعداد میں کہاں ہے جو ان کی آگ سے پورا مرالظہران میدان بھر جآئے گا ۔
(بخاری جلد 2 صفحہ 613)
دوسری طرف مسلمانوں کے لشکر سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ قریش کے
انجام کا فکر کرتے ہوئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے
سفید خچر پر روانہ ہو کر اس ارادے سے چلے تھے کہ قریش کو خطرہ سے
آگاہ کر کے انہیں اس بات پر راضی کیا جائے
کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر معافی مانگ لیں
تو ابو سفیان کی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ہو گئی اور پوچھا کہ
تم کہاں سے آرہے ہو اور یہ آگ کیسی ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کی آگ ہے حضرت عباس نے ابو سفیان بن حرب سے
کہا تم میرے خچر پر پیچھے سوار ہو جاؤ وگر نہ مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا
تو تمہیں قتل کر ڈالیں گے جب یہ لوگ لشکر گاہ میں پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ
اور دوسرے چند مسلمانوں نے جو لشکر کا پہرہ دے رہے تھے ابو سفیان
کو دیکھ لیا اور حضرت عمر آپنے جذبہ انتقام کو ضبط نہ کر سکے ابو سفیان کو دیکھتے
ہی ان کی زبان سے نکلا ارے یہ تو خدا کا دشمن ابو سفیان ہے دوڑتے ہوئے بارگاہ
رسالت میں پہنچے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ابو سفیان آگیا ہے اگر اجازت ہو تو
ابھی اس کا سر اڑا دوں اتنے میں حضرت عباس ان تینوں مشرکیوں کو آپنے ساتھ لیے
دربار رسول میں حاضر ہو گئے اور ان لوگوں کی جان بخشی کی سفارش کر دی
اور یہ کہا کہ یا رسول اللہ میں نے ان سبھوں کو امان دے دی۔
( مدارج النبوت قسم سوم جلد دوم صفحہ نمبر 281-82)
یہاں بخاری شریف کی روایت کے مطابق ابو سفیان جب بارگاہ اقدس میں
حاضر ہوئے تو فورا ہی اسلام قبول کر لیا۔
(بخاری شریف جلد دوم صفحہ نمبر 613)
مکہ داخل ہوتے وقت اعلان
تاجدار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کی سرزمین پر جیسے ہی قدم رکھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان فرمایا
جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کے لیے امان ہے
جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے
گا اس کے لیے امان ہے
جو شخص کعبہ میں داخل ہوگا اس کے لیے امان ہے
اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بارگاہ میں عرض کیا یا رسول اللہ
ابو سفیان کے لیے بھی کوئی امتیازی بات فرما دیجئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ
جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کے لیے امان ہے
مکہ میں داخل ہوتے رسول اللہ کی سواری اور دستار مبارک کا رنگ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹی "قصواء” پر
سوار تھے ایک "سیاہ رنگ کا عمامہ” باندھے ہوئے تھے اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر "مغفر” تھا
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے
مکان پر تشریف لے گئے وہاں غسل فرمایا اور پھر اٹھ
رکعت نماز چاشت کی پڑھی۔
(بخاری شریف جلد دوم صفحہ نمبر 615)
یہیں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں خشک روٹی کے ٹکڑے
پیش کیے حضور نے پانی میں بھگویا اور سرکہ کے ساتھ روٹی کو تناول فرمایا
اور یہیں پہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سرکہ کتنا اچھا سالن ہے
رسول اللہ کا بیت اللہ میں داخلہ
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جھنڈا جنت المعلی میں گاڑا گیا مسجد الفتح کے
قریب پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے حضرت اسامہ بن زید کو آپنے
پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال اور کعبہ کے چابی اٹھانے والے حضرت
عثمان بن طلحہ بھی آپ کے ساتھ تھے آپ نے مسجد حرام میں آپنی اونٹنی کو بٹھایا
اور کعبہ کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا (ایضا صفحہ نمبر 614)
کعبہ کو بتوں سے صاف کرنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کا لقب بت شکن ہے ان کی یادگار خانہ کعبہ کے اندرونی
حصار 360 بتوں کی قطار تھی فاتح مکہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا حضرت خلیل کا
جانشین جلیل ہونے کی حیثیت سے فرض اولین تھا کہ یادگار خلیل کو بتوں کی نجس
اور گندی الائشوں سے پاک کریں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بنفس
نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکیں
مار مار کر گراتے جاتے تھے اور جاءالحق و زهق الباطل ان الباطل
(زبر زیر کے لیے قرآن پاک سے دیکھ لیاجآئے) کی آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے یعنی
(ترجمہ: حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔(پ 15 آیت نمبر 81)
جب کعبہ بتوں سے صاف ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپنے ساتھ
حضرت اسامہ بن زید حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم کو لے کر خانہ
کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی
اور دو رکعت نماز بھی ادا فرمائی اس کے بعد باہر تشریف لائی۔ (ایضا 218)
عثمان بن طلحہ کعبہ کے چابیوں کی حوالگی
یہیں اسی مقام کے اندر سے جب آپ باہر نکلے تو حضرت عثمان بن طلحہ
کو بلا کر کعبہ کی کنجی ان کے ہاتھ میں عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ
"لویہ کنجی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تم لوگوں میں رہے گی یہ کنجی تم سے وہی چنے گا جو ظالم ہوگا” ۔(زرقانی جلد 2 صفحہ نمبر 239)
فتح مکہ کے دن مکہ والوں سے خطاب
فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپنے دشمن کفار کی طرف متوجہ ہوئے اور
حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان سے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ تم کو معلوم ہے آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں
تو سب نے یک زبان ہو کر کہا آپ کرم والے بھائی اور کرم والے بآپ کے بیٹھے ہیں
تو فتح مکہ کے دن سبھی دشمن اسی انتظار میں تھے کہ پتہ نہیں ہمارے بارے میں کیا حکم جاری ہوگا
ایک دم فاتح مکہ نے اپنے کریم لہجے میں ارشاد فرمایا کہ آج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو
(زرقانی جلد دوم صفحہ نمبر 328)
مکہ والوں نے مہاجرین کے زمینوں پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا تو اس کے بارے میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
کہ میں مہاجرین کو حکم دیتا ہوں کہ وہ آپنی تمام جائیدادیں خوشی خوشی مکہ والوں کو ہبہ کر دیں
کعبہ کی چھت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان
جب نماز کا وقت آیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کعبہ کی
چھت پر چڑھ کر اذان دے جس وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کی ایمان افروز صدا بلند ہوئی تو حرم کے حصار اور
کعبہ کے در و دیوار پر ایمانی زندگی کے آثار نمودار ہو گئے۔
بیعت اسلام
اس کے بعد فتح مکہ کے دوسرے دن کوہ صفا کی پہاڑی کے نیچے ایک بلند مقام پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام
بیٹھے اور لوگ جوق در جوق آکر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دست حق پرست پر اسلام کی بیعت کرنے لگے
مردوں کی بیعت ختم ہو چکی تو عورتوں کی باری آئی حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہر بیعت کرنے والی سے
جب وہ تمام شرائط کا اقرار کر لیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اس سے فرما دیتے تھے کہ میں نے تجھ سے بیعت لے لی حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کا
بیان ہے کہ خدا کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں
بیعت کے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا صرف کلام ہی سے بیعت فرما لیتے تھے۔
(بخاری شریف جلد اول صفحہ نمبر 375 باب کتاب الشروط)
اور انہی عورتوں میں سے نقاب اوڑ ہے اوڑ کر ہند بن عتبہ بن ربیعہ بھی
بیعت کے لیے آئیں جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔
فتح مکہ کے دن جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں سے بیعت لی کہ
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے مصافحہ نہیں کیا ہاتھ ملا کے بیعت نہیں کی
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں کسی عورت کو چھوا تک نہیں جب ایک
نبی ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ ہو کر بھی کسی عورت کی طرف ہاتھ نہیں
بڑھاتے تو آج ہمارے معاشرے کے لوگ کس کے طریقے پر عمل کر کے غیر محرمات کے ساتھ ہاتھ ملآئے پھرتے ہیں
فتح مکہ کس تاریخ کو ہوا
فتح مکہ کی تاریخ کے بارے میں بڑا اختلاف ہے کہ مکہ کون سی تاریخ میں
فتح ہوا اور آپ کس تاریخ کو مکہ میں فاتحہ میں داخل ہوئے امام بیہقی نے 13 رمضان اور امام
مسلم نے 16 رمضان اور امام احمد نے 18 رمضان بتایا اور بعض روایات میں 17 رمضان اور 18 رمضان بھی
مروی ہے مگر محمد بن اصحاب نے آپنی مشائخ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہوئے
فرمایا کہ 20 رمضان 8 ہجری کو مکہ فتح ہوا واللہ اعلم (سیرت مصطفی 453)
فتح مکہ کے دن کے بارے میں مکمل تفصیل کے ساتھ پڑھنا ہے تو سیرت مصطفی صفحہ نمبر 411 سے لے کر 453 ک مطالعہ کیا جا سکتا ہے
