معجزہ کرامت اور جادو میں فرق
معجزہ کرامت اور جادو میں فرق
نبی سے معجزہ اورولی سے کرامت ظاہرہوتاہے اور جادو کا صدور کسی سے بھی ہوسکتاہے
ان میں پھر فرق بھی ہوتاہےجادو کرنے والا نہ نبی ہوسکتاہے اور نہ ولی ہوسکتاہے
معجزہ کو سمجھنے کے لیے کچھ شروط ہیں، کرامت و جادو میں فرق یہ ہے کہ کرامت ولی سے اتفاقی طور پر صادر ہوتاہے
جبکہ جادو گر بہت ساری مشقت والے کام بھی کرتاہے۔
آئیے اس تمام بحث یعنی معجزہ کرامت اور جادو میں فرق کو سمجھتے ہیں۔
معجزہ کے ظاہر ہونے کے پانچ شرائط
معجزہ کے ظاہر ہونے کے لیے پانچ شرائط ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک شرط نا پائی جائے تو وہ معجزہ نہیں ہوگا۔
ظہور معجزہ کےلیے پہلی شرط
ایسا کام جسے صرف رب تعالی ہی کرسکتاہو۔
ظہور معجزہ کےلیے دوسری شرط
وہ ایسا کام ہو جو عام عادت و معمول کے خلاف ہو۔
ظہور معجزہ کےلیے تیسری شرط
جو شخص یہ دعوی کرے کہ مجھے اللہ عزوجل نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ اس معجزہ کو بطور دلیل پیش کرے
اور کہے کہ میرے سچے رسول ہونے کی یہ اور یہ نشانی ہے جب رب تعالی اس نبی کے منشاء کے مطابق نشانی
ظاہر کر دےوہ اور سچ ثابت ہو جاتا ہے اور دنیا کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔
ظہور معجزہ کےلیے چوتھی شرط
چیلنج کرنے والے اور معجزہ کے پورا ہونے کو بطور دلیل پیش کرنے والے کے دعوے کے عین مطابق
معجزہ اسی طرح واقع ہو جیسے کہا گیا ہو مثال کے طور پر وہ کہے کہ میرے نبی ہونے کی نشانی یہ ہے
کہ میرے حق میں میرا ہاتھ بولے گا یا میرا جانور گواہی دے گا اگر واقعتاً اس کا ہاتھ بولے یا جانور گواہی
دے تو وہ سچا معجزہ ہوگا اگر وہ اس کے خلاف گواہی دیں یا کچھ بھی واقع نہ ہو تو یہ جھوٹا معجزہ ہوگا۔
ظہور معجزہ کےلیے پانچویں شرط
چیلنج دینے والے نے جو چیز پیش کی ہے اس طرح کا معارضہ کوئی بھی پیش نہ کر
سکےتو اس جیسی کوئی بات تو لائیں اگر وہ سچے ہیں۔(پارہ 27 ،سورۃ الطور،آیت نمبر 34)
مسیح دجال کے ہاتھ پر عجیب و غریب چیزوں کا ظاہر ہونا
اب کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مسیح دجال کے بارے میں بھی عجیب و غریب
چیزوں کے ظاہر ہونے کے بارے میں ذکر آیایہاں تک کہ وہ لوگوں کو جنت اور دوزخ میں داخل کرے گا
مردہ لوگوں کو قبر سے اٹھائے گا زندوں کو مار دے گا کئی میل مسافت کو جلدی میں طے کر لے گا بارش
برسائے گا ان سب عجیب و غریب چیزوں کے ہونے کے باوجود وہ سچا ثابت نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ
مسیح دجال رب ہونے کا دعوی کرے گا اللہ کے کسی نبی نے رب ہونے کا دعوی نہیں کیا اس لحاظ
سے مسیح دجال کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔
کرامت اور جادو میں فرق
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس شخص کے ہاتھ پر خلاف عادت یا خلاف معمول
کوئی بات ظاہر ہوئی ہو اس کی حالت کو دیکھ لینا چاہیے اگر وہ شریعت کا پابند ہے
اور بڑے گناہوں سے بچتا ہے تو وہ کرامت ہے وگر نہ جادو ہے۔
(فتح الباری،جلد 10،حافظ ابن حجر،مصنف)
آج تک کسی جادوگر کو عبادت کرتا ہوا یا عبادت کے لیے دعوت دیتا ہوا نہیں دیکھا گیا
یہاں تک کہ کوئی جادوگر ایسے ہوتے ہیں جو رب تعالی کے وجود پر بھی ایمان نہیں رکھتے اور وہ ستاروں پر ایمان رکھتے ہیں
اور یہ جادوگر بڑے سے بڑا گناہ بھی کر گزرتے ہیں جو اللہ کا دوست ہوگا وہ اپنے آپ کو صغیرہ گناہوں سے بھی بچائے گا
چہ جائے کہ اس سے گناہ کبیرہ سرزد ہو۔
اب نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جس میں چیلنج ہوتا ہے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا
جوکہ کرامت میں ایسانہیں ہوتا،کرامت صاحب شرع سے ظاہرہوتاہے جبکہ جادو کامقابلہ ہوسکتاہے
