خودکشی پر عذاب کیوں؟؟؟
مسئلہ بیان ہوگا خودکشی پر عذاب کیوں؟؟؟ اس کے علاوہ تقدیر
کے متعلق بھی بات ہوگی آئیے اب سوال کا جواب دیتے ہیں
الجواب خودکشی کے حرام ہونے کی وجہ سے عذاب کی سزا کا مستحق ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھیں وائی فائی یا انٹرنیٹ کا کنیکشن کروانے اور دینے کا حکم
تقدیرکیاہے؟
اولا یہ سمجھنا چاہیے کہ تقدیر کیا ہے
تقدیر یہ ہے کہ دنیا میں جوکچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی بدی وہ سب اللہ تعالی کے
علم ازلی (جس کی ابتدا نہ ہو) کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ بندہ کرنے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم
میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔ اسے تقدیر کہتے ہیں۔1
اللہ نے اچھے اور برے کا اختیار بندےکودیاہے؟
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بندے کو اللہ تعالی نے اچھے اور غلط فیصلے کرنے کا
اختیار دیا ہے چاہے تو بندہ خود کشی نہ کرکے آزمائش پر صبر رکھے اور اجر عظیم پائے
چاہے تو خودکشی کرکے عذاب جہنم کا مستحق بنے۔
سوال یہ (پیدا) ہوتا ہے کہ اگر صبر کر جائے خودکشی نا کرے تو موت کا وقت
تو مقرر ہے تو کیااس وقت اسے موت آئے گی جس وقت وہ صبر کرے گا خودکشی سے؟
جب آزمائش پر صبر رکھے گا اور بندہ اپنے اختیار سےجسے رب نے دیا ہے خودکشی نہیں کرے گا تو
لازمی بات موت اس وقت اس سبب سے نہیں آئے گی اور اس کا یہ عمل کرنا اس
کی تقدیر میں لکھ دیا گیا۔
صاحب بہار شریعت فرماتے ہیں
قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتےان میں زیادہ غور و فکر کرنا سبب ہلاکت ہےصدیق رضی اللہ عنہ
وفاروق رضی اللہ عنہ اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ما و شما (ہم اور آپ)کس گنتی میں ہیں
اتنا سمجھ لو کہ ﷲ تعالی نےآدمی کو مثل پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و
حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک طرح کا اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے2
اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان
اور اسباب مہیا کر دیے ہیں ، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہے۔
اب آئیں اصل بات پر کہ خودکشی کیوں حرام ہے یہ جتنی باتیں ہم پڑھتے ہیں خودکشی حرام ہونے ضمنی
وجوہات ہیں اصل اللہ پاک اور اس کے نبی کا حکم (یہ ہے) کہ خودکشی کو حرام فرمایا
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہےکہ : اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔
یعنی ایسے کام کر کے جو دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔3
تفسیر آیت
خود کو ہلاک کرنے کی ایک صورت خود کشی کرنا ہے۔ خود کشی بھی حرام ہے۔
حدیث شریف میں ہےکہ حضرت ابو ہریرہرضِی اللہ عنہ سے مروی ہے، سرکارِ دوعالم (علیہ السلام) نے ارشاد
فرمایاجس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنم کی آگ میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کو نیزہ ماراوہ جہنم کی آگ میں خود کو نیزہ مارتا رہے گا۔4
واللہ اعلم ورسولہ
