NFT این ایف ٹی میں انویسٹ کرنا یا پیسے کمانا کیسا
اس تحریر میں آپ مطالعہ کریں گے NFT این ایف ٹی میں انویسٹ کرنا یا پیسے کمانا کیسا

این ایف ٹی کیاہے؟
نان فنجیبل ٹوکن ایک ڈیجیٹل سڑٹیفیکیٹ ہے جو ڈیجیٹل اثاثے یاحقوق کی نمائندگی کرتاہے
کئی شرعی خرابی کی وجہ سے ناجائز و حرام ہےNFT این ایف ٹی کا جو طریقہ کار بیان کیاگیا ہے اس کے مطابق اس میں انویسٹ کرنا، منافع
کمانا، دوسرے لوگوں کوشامل کرنے کی ترغیب دینااور ممبر بنانا سب ناجائز وحرام ہے۔جو لوگ اس NFT میں ملوث ہیں یا دوسروں کواس پر لگا رہے ہیں ، وہ
سب گنہگار ہو رہے ہیں، ایسوں کو چاہیے کہ فورا اس کام سے باز آئیں اور اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سےتوبہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں خود کشی کرنے کا حکم و عذاب
NFT کی مزیدتفصیل
اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اولاً اکاؤنٹ میں موجود رقم سے جو کارٹونزکے سٹیکر خریدے جاتے ہیں ان کی
خرید و فروخت ہی باطل ہے اس لیے کہ یہ مال نہیں ہے
مال کی تعریف فقہاء کے نزدیک
تعریف جو فقہاء نے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ جس کی طرف طبیعتوں کا میلان ہو
اور وقت حاجت تک اس کوذخیرہ کیا جا سکے جبکہ ان سٹیکرز کی طرف نہ
توطبیعتوں کا میلان ہوتا ہےاور نہ ہی ان کو ذخیرہ کیاجاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر اس ایپ کے علاوہ
کہیں ایسے سٹیکرز کو فروخت کیا جائے تو کوئی ان کو
نہیں خریدے گا۔نیز بیع کے درست ہونے کےلیے شریعت مطہرہ نے یہ معیار مقرر
کیا ہے کہ جس چیز کی خرید و فروخت ہو
رہی ہے وہ فی نفسہ قابل انتفاع ہو اگر فی نفسہ قابل انتفاع نہیں تو اس کی بیع
بھی شرعاً درست نہیں جیسے گندم کا ایک دانہ یا مٹی کی ایک چٹکی یا مٹی
کے کھلونے وغیرہ اور اس ایپ میں موجود سٹیکرز بھی اس نوعیت کے ہیں
کہ یہ فی نفسہ قابل انتفاع مال نہیں۔ لہذا ان اسٹیکرز کی بیع باطل ہو گی۔
اصطلاح شرع میں مال کی تعریف
اصطلاح شرع میں بیع نام ہی مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنے کا ہے۔پھر اگر اس کو مال اور قابل انتفاع یعنی فائدہ مند
تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی اس کی بیع یعنی خریدوفوخت جائز نہیں ہو گی اس لیے کہ بیع کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جو چیز
بیچی جارہی ہے وہ حقیقتا یا حکماً بائع یعنی چیز لینےوالے کے قبضہ میں ہو جبکہ
ان سٹیکرز پر قبضہ نہیں پایا جاتا کہ ان کو خریدنے کے بعد اکاؤنٹ میں تو شو
ہوتا ہے کہ آپ نے یہ سٹیکر خرید لیا ہے لیکن نہ تو اس کو ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے اور
نہ ہی اس میں کسی قسم کا تصرف کر سکتے ہیں یعنی کسی کو بھیج بھی
نہیں سکتے اور نہ اس ایپ کے ذریعے کہیں ان کو فروخت کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔
لہٰذا بغیر قبضہ کےآگے بیچنا جائز نہیں ہو گا بلکہ یہ بیع فاسد ہو گی
جس کے سبب عاقدین (دونوں طرف عقدکرنےوالے) گنہگار ہوں گے۔اور اگر یہ اسٹیکرز ڈاؤنلوڈہو بھی
جائیں جیسا کہ بعض لوگ یہ بیان کرتے ہیں تو بھی مال اور قابل انتفاع (منافع بخش)نہ ہونے
کے سبب اس کی بیع درست نہیں ہو گی۔(تفصیل اوپر بیان کر دی گئی ہے)
رشوت کا پہلو
مزید اس میں رشوت کاپہلو بھی پایا جاتا ہے وہاس طرح کہ اس کی ممبرشپ میں
وہی داخل ہوسکتاہے جو پہلے 30 ہزار روپےجمع کرائے جو کہ رشوت ہے
مفتی نظام الدین صاحب لکھتے ہیں ماہنامہ اشرفیہ میں ہیں ہے ” اپنا یا کسی کا بھی کام بنانے کے لیے ابتداء یعنی شروع میں صاحب امر
(کمپنی وغیرہ) کو کچھ روپے وغیرہ دینا رشوت ہےاور یہاں کمپنی کو فیس اس لیے دی جاتی ہے کہ
اسےاجرت پر ممبر سازی کا حق دے دیا جائے اور فیس کےمقابل کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ “1
NFT این ایف ٹی میں انویسٹ کرنا یا پیسے کمانا کیسا ہے
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہرہوا کے ساتھ دوڑنا شروع نہ کردیں فقہاء احناف کے فقہی قواعد کے تحت یہ تمام حکم بیان کیے گئےہیں۔
یہ بھی پڑھیں کہ جائے نماز پر کپڑے استری کرنا کسا
- ماہنامہ اشرفیہ، مئی 2008ء، صفحہ 38 ↩︎
