امامِ مالک
امامِ مالک

امام مسلم اپنے معاصرین کے نظر میں ایک تحریر
حضرت امامِ مالک وہ سب سے پہلے شخص ہیں جو دنیاعلم میں بیک وقت حدیث اور فقہ کے امام کہلائے ایک طرف مغرب اور مشرق میں ان کے مقلدین کا سلسلہ پھیلا
ہوا ہے تو دوسری طرف امہات کتب حدیث میں سے اکثر
ایسی ہے جن کی کچھ نہ کچھ احادیث کا سلسلہ سند امام
مالک تک پہنچتا ہے فن حدیث میں سب سے پہلے انہوں
نے باقاعدہ ایک کتاب لکھی اور اس کے بعد تصنیفات کتب حدیث کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
(تذکرۃ المحدثین،ص 89)
عمدہ لباس پہنتے اور درس حدیث سے پہلے غسل فرماتے یہاں تک کہ ایک دن کسی بچھو نے ڈنگ مارا
تو درس حدیث کے دوران اپنا پہلو بھی نہیں بدلا
اور سترہ سال کی عمر میں درس حدیث شروع کیا
مسجد نبوی میں بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے
بچھو کا ڈنگ مارنا
حضرت عبداللہ ابن مبارک بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں
درس حدیث میں حاضر ہوا امام مالک روایت حدیث فرما
رہے تھے اسی دوران ایک بچھو کی نیش زنی کے
باوجود آپ نے نہ پہلو بدلا نہ سلسلہ روایت ترک کیا اور نہ
ہی آپ کی تسلسل کلام میں کچھ فرق واقع ہوا بعد میں آپ
نے فرمایا میرا اس تکلیف پر اس قدر صبر کرنا کچھ اپنی
طاقت کی بنا پر نہ تھا بلکہ محض رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے تھا۔
( شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی متوفی 748 بستان المحدثین صفحہ نمبر 20)
تذکرۃ المحدثین ص 94
عمدہ لباس
حضرت قطیبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب امام
مالک ہمارے پاس تشریف لاتے تو عمدہ لباس زیبتا ہوتا
اور خوشبو لگائی ہوئی ہوتی تھی۔(ایضا ص 93)
امام مالک کی رہائش گاہ
حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے جس
مکان میں رہتے تھے وہ عبداللہ ابن مسعود کی رہائش گاہ
تھی۔اور اس جگہ بیٹھا کرتے تھے جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھا کرتے تھے۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ مدینہ منورہ میں رہتے تھے
آپ کی عادات
حضرت امام مالک عموما تنہائی میں کھانا کھاتے تھے
اس لیے کسی شخص نے آپ کے خورد و نوش کے احوال بیان نہیں کیے۔
وقار اور دبدبہ کے باوجود امام مالک اپنے اہل و عیال اور
خدام کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے مدینہ
منورہ کا بے حد احترام کرتے تھے آپ نے حرم مدینہ میں
کبھی قضائے حاجت نہیں کی قضائے حاجت کے لیے تمام
عمر حرم مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے رہے امام
مالک مدینہ منورہ میں کبھی سوار ہو کر نہیں نکلتے تھے
اور اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ جس
شہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضہ ہو
اس شہر کی سرزمین کو سواری کے سموں سے روندتے
ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔
(بستان المحدثین صفحہ نمبر 13 تا 22)تذکرۃ المحدثین،ص 92تا 93)
اس کے علاوہ حضرت امام مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
بے حد محبت فرماتے تھے اور حدیث اور آپ کے شہر کا ادب بھی اسی
محبت کی وجہ سے کرتے تھے
حضور سے محبت کا عالم
مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب امام مالک کے سامنے
حضور کا ذکر کیا جاتا تو شدت جذبات سے ان کا رنگ
متغیر ہو جاتا اور اسم مبارک کی تعظیم کے لیے بے
اختیار جھک جاتے تھے مدینہ کے ذرہ ذرہ سے انہیں
عشق تھا اور وہ حرم رسول کی گلیوں اور بازاروں کا
بھی احترام کرتے تھے اسی وجہ سے حضور کی بارگاہ
سے امام مالک کو بیش بہا نعمتیں نصیب ہوئی تھی۔
امام ابو نعیم اصفہانی اپنی سند کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ
خلف سے امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام
مالک نے فرمایا دیکھو تمہارے مصلے کے نیچے کیا ہے
انہوں نے دیکھا ایک کاغذ تھا جس میں امام مالک کے
بعض احباب نے اپنا خواب لکھا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا
کہ حضور کی مجلس میں لوگ جمع ہیں آپ نے فرمایا
میں نے تمہارے لیے اپنے ممبر کے نیچے علم چھپا رکھا
ہے اور مالک کو حکم دیا کہ وہ اس علم کو لوگوں میں تقسیم کریں۔
اسماعیل بن مزاحم کا خواب
حضرت اسماعیل بن مزاحم مروزی بیان کرتے ہیں کہ میں
نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت
کی اور آپ سے استفسار کیا کہ حضور ہم آپ کے بعد
کسی سے سوال کریں فرمایا مالک بن انس سے۔
کوئی رات حضور کی زیارت سے خالی نہیں
مثنی بن سعید بیان کرتے ہیں کہ امامِ مالک فرماتے تھے
کہ میری کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں میں نے
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت نہ کی ہو۔
حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی متوفی 430 ہجری حلیۃ الاولیاء جلد 6 صفحہ نمبر 316 تا 317)
تذکرۃ المحدثین،ص 96تا 97)
امام مالک کا کس سن ہجری میں وصال ہوا
حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا وصال 179 ہجری ہے البتہ مہینے میں اختلاف ہے
امامِ مالک کاتذکرہ تو بہت وسیع مگر ہم نے یہاں مختصر تذکرہ کیاہے
