عمرفاروق رضی اللہ
اس تحریر میں آپ پڑھیں گےعمرفاروق رضی اللہ عنہ کے حالات کےبارےمیں۔اور خلافت کے سپرد ہونے کے بارے میں

فاروقِ اعظم کا نام نامی اسم گرامی
دورِ جاہلیت اور دورِاسلام دونوں میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ’’عمر ‘‘ہی رہا۔ ’’عمر‘‘ کے
معنی ہیں ’’آباد رکھنے والا‘‘ یا ’’آباد کرنے والا‘‘۔
حضرت عمر فاروق کے والد کا نام
آپ کے والد کا نام خطاب ہے جیسے کہ عموما آپ کا نام ایسے لیا جاتاہے عمر بن خطاب
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے والدہ کا نام
آپ رضی اللہ عنہ کے والدہ کا نام حنتمہ بنت هاشم تھا
عمر فاروق کو بارگاہِ رسالت سے عطا کردہ نام
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی
ہیں : ’’سَمَّى رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عُمَرَ الْفَاُروْقَ یعنی رسول اللہ ﷺنے امیر المؤمنین
حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم کا نام ’’فاروق‘‘ رکھا۔
کنیت
آپ رضی اللہ عنہ کی کی کنیت ’’ابو حفص‘‘ ہے اگرچہ آپ کی اولاد میں سے کسی کا نام’’ حفص‘‘ نہیں ہے۔
شواہد النبوۃ میں ابومسعود انصاری سے مروی ہے کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر کا اسلام مشابہ بالوحی ہے
کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے میں نے خواب میں
دیکھا کہ ایک عظیم نور آسمان سے نیچے آیا اور کعبہ کی چھت پر اترا ہے الخ شواہد النبوۃ میں یہ بھی ہے
کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دورِ جاہلیت
میں ایک دن ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہواتھا اچانک وہ درخت میری طرف
جھُک گیا اور اس درخت سے میرے کانوں میں یہ آواز آئی کہ فلاں وقت اللہ کا پیغمبر آئے گا تو ان کے
ساتھیوں میں نہایت ہی سعادت مند ہوگا الخ اور یہ بھی شواہد میں حضرت ابوبکر صدیق سے منقول ہے
کہ آپ نے آخری مرضِ وصال میں فرمایا کہ آج میں نے خلافت کے معاملات کو سپرد کرنے کے لئے باربار استخارہ کیا ہے الخ ملتقطا
(قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۳)
جب خلافت حضرت فاروقِ اعظم کے سپرد ہوئ
تو آپ نےسیاست کو اس طرح بہتر انداز میں نبھایا کہ کسی غیر نبی سے ایسا ممکن نہ تھا اگر عقلِ سلیم کو امورِ
خلافت بروئے کار لایا جائے تو محسوس ہوگا کہ انبیاء کی خلافت کا کام ان سے بہتر نبھایا نہیں جاسکتا
کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن دو معاملات کی طرف بہت ہی زیادہ توجہ دیتے تھے ان میں سےایک
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت ہجرت کے تیرھویں 13 سال سے شروع ہوکر ہجرت کے تیئسویں 23 سال تک رہا۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد دس سال تک آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت رہا۔
جمادی الثانی کے 22 تاریخ کو خلافت پر متمکن ہوئے۔
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کتنے رقبے پر حکومت کی
عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس شان سے حکومت کی کہ آپ کے زمانے میں اسلامی سرزمینوں کی بہت وسعت ہوئی اور 23 لاکھ مربع میل تک پھیل گیا۔
تعلیم
علم ہے اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے مسائل میں کھود کرید کرکے اور نہایت ہی محنت و کوشش کے ساتھ کتاب وسنت،اجماع و قیاس کی
ترتیب کو قائم فرماکر تحریف کے تمام راستے بند کردئے،چنانچہ تمام صحابہ نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ وہ اپنے دور میں سب سے زیادہ عالم تھے۔
معاملہ جہاد
دوسرا معاملہ جہاد کاتھا فاروق اعظم نے اس معاملہ کو اس طرح نبھایا کہ اس سے بہتر تصور نہیں کیا جاسکتا۔یافعی کہتے ہیں کہ ۱۴ھ میں دمشق اور
فتح ہوگیا۔
فتوحات فاروق اعظم اور مساجد و شہروں کی تعداد
روضۃ الاحباب میں ہے کہ فاروق اعظم کے دور میں ایک ہزارچھتیس(1036) شہر مع مضافات فتح ہوئے.
چارہزار(4000) مساجد کی تعمیر ہوئی،چار ہزار(4000) کنیسے تباہ کئے گئےچار
ایک ہزارنوسو(1900) منبر تیار ہوئے۔ بالالتقاط۔
(قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۰)
نماز سے محبت
مالک، ابن شہاب سے وہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہین کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ
تعالٰی عنہ سے سلیمان ابن ابی حثمہ کو نماز صبح میں نہ پایا آپ صبح کو جب بازار کی طرف گئے اور سلیمان
کاگھر بازار اور مسجد نبوی کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس سے گزرے اور پوچھا
میں نے سلیمان کو آج نمازصبح میں نہیں پایا تو انہوں نے عرض کیا وہ رات بیدار رہے نماز پڑھتے رہے صبح کو نیند غالب آگئی۔
فجرکی جماعت
تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا مجھے نماز فجر میں حاضر ہونا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ساری رات قیام کروں۔
(مؤطا امام مالک باب ماجاء فی العتمۃ والصبح مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵)
فتاوی رضویہ جلد7
ہم میلےکپڑےیاکام والےکپڑوں کےساتھ نمازمیں
حاضرہوتےہیں اور انہی کپڑوں کےساتھ کسی بڑےچوہدری کےپاس جانا ہمیں گوارا نہیں اسی میں
آکر نمازپڑھتےہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ایسےکپڑوں میں دیکھاتوکیافرمایا
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو ایسے ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے دیکھا
: بھلا بتاؤ تو اگرمیں کسی آدمی کے پاس تجھے بھیجوں تو انہیں کپڑوں سے چلاجائے گا؟ کہانہ۔ فرمایا
فرمایا: تو اللہ تعالٰی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے دربار میں زینت وادب کے ساتھ حاضر ہو۔
فتاوی رضویہ جلد7
عمرفاروق کےزمانےمیں ایک عورت کامردپرعاشق ہونےکا واقعہ
ابن عساکر نے ایک طویل حدیث روایت کی جس کا حاصل یہ ہے کہ عہد معدلت مہد فاروقی میں ایک
جوان عابد تھا۔ امیرالمؤمنین اس سے بہت خوش تھے، دن بھر مسجد میں رہتا،بعد نماز عشاء باپ کے پاس
جاتا ، راہ میں ایک عورت کا مکان تھا اس پر عاشق ہوگئی ، ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی، جوان
نظر نہ فرماتا، ایک شب قدم نے لغزش کی، ساتھ ہولیا، دروازے تک گیا، جب اندر جانا چاہا خدا یاد آگیا اور بے ساختہ یہ آیہ کریمہ زبان سے نکلی:
ڈر والوں کو جب کوئی جھپٹ شیطان کی پہنچتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
(القرآن ۷ /۲۰۱)
آیت پڑھتے ہی غش کھا کر گرا، عورت نے اپنی کنیز کے ساتھ اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال۔ باپ منتظر تھا۔
آنے میں دیر ہوئی، دیکھنے نکلا، دورازے پر بیہوش پڑا پایا۔ گھر والوں کو بلا کر اندر اُٹھوایا، رات گئے ہوش
آیا، باپ نے حال پوچھا،کہا خیر ہے، کہا بتادے، ناچار قصہ کہا۔ باپ بولا جان پدر ! وہ آیت کو ن سی ہے؟ جوان نے پھر پڑھی، پڑھتے ہی غش آیا، جنبش دی
پایا، رات ہی کو نہلا کفنا کر دفن کردیا، صبح کو امیر المؤمنین نے خبر پائی، باپ سے تعزیت اور خبر نہ مُردہ
دینے کی شکایت فرمائی، عرض کی: یا امیرالمومنین! رات تھی، پھر امیرالمؤمنین ہمراہیوں کو لے کر تشریف لے گئے آگے لفظ حدیث یوں ہیں
یعنی امیر المومنین نے جوان کا نام لے کر فرمایا: اے فلان! جو اپنے رب کے پاس کھڑے ہونے کا ڈر کرے اس
کے لیے دو باغ ہیں، جوان نے قبر میں سے آواز دی، اے عمر! مجھے میرے رب نے یہ دولت عظمی جنت میں دو بار عطا فرمائی۔
(کنز العمال بحوالہ ک حدیث ۴۶۳۴ موسستہ الرسالہ بیروت ۲ / ۱۷۔۵۱۶)
حق مہر پرخطاب
امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک بار خطبہ میں مغالاۃ فی المھور یعنی حیثیت سے
زیادہ مہر باندھنے پر انکار شدید فرمایا، حاضرین میں سے ایک بی بی اٹھیں آیہ کریمہ
ترجمہ:(تم ان عورتوں کوڈھیر مال دیتے ہو)
(۲؎ القرآن ۴/۲۰)
تلاوت کی جس میں سونے کا ڈھیر عورت کے مہر میں مقرر کرنا جائز فرمایا گیا فوراً امیر المومنین
نے انکار سے رجوع فرمائی اور بکمال تواضع فرمایا:
اے اللہ! عمر سے ہر ایک زیادہ فقیہ ہے حتی کہ پردہ دار عورتیں بھی۔
(سنن الکبرٰی للبیہقی باب لاوقت فی الصداق الخ دارصادر بیروت ۷/۲۳۳)
عمرفاروق کاذکراحادیث میں
الہٰی اسلام کی خاص عمر بن خطاب کے اسلام سے عزتیں بڑھا۔سنن ابن ماجہ فضل عمر رضی اللہ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱)
ہم ہمیشہ معززرہے
ولہذا سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ:ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔(صحیح البخاری کتاب مناقب
اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰)
3 عمر کہیں ہو حق اس کی رفاقت میں رہے گا۔( کنزالعمال حدیث ۳۲۷۱۵ و ۳۲۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۳ و۵۷۷)
4 فرمایا کہ : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔(جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۹)
آپ رضی اللہ عنہ کاعدل
ایک مصری نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ
تعالٰی عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یا امیر المومنین عائذبک من الظلم۔امیر المومنین !میں حضور کی پناہ لیتا ہوں ظلم سے ۔
سچی جائےپناہ
امیر المومنین نے فرمایا : عذت معاذاً ، تو نے سچی جائے پناہ کی پناہ لی۔ہمارا مطلب توحدیث کے اتنے ہی
لفظوں سے ہوگیا ، پناہ لینے والوں نے امیر المومنین کی دہائی دی اورامیر المومنین نے اپنی بارگاہ کو سچی
جائے پناہ فرمایا، مگرتتمۂ حدیث بھی ذکر کریں کہ اس میں امیر المومنین کے کمال عدل کا ذکر ہے ۔عمرو
بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ مصر پر امیر المومنین کے صوبیدار تھے ، یہ فریادی مصری عرض کرتاہے کہ میں
نے ان کے صاحبزادے کے ساتھ دوڑ لگائی میں آگے نکل گیا صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اورکہا : میں دو
معزز وکریم والدین کا بیٹاہوں ۔ اس کی فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرو بن عاص مع
اپنے بیٹے کے حاضر ہوں ،حاضر ہوئے ۔ امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا: کوڑالے اور مار ۔ اس نے بدلہ لینا
شروع کیا۔ اورامیر المومنین فرماتےجاتے ہیں : مارد لئیموں کے بیٹے کو ۔ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے
ہیں : خدا کی قسم !جب اس فریاد نے مارنا شروع کیا ہمارا جی یہ چاہتا تھا کہ یہ مارے اوراپنا عوض لے ۔
اس نے یہاں تک مارا کہ ہم تمنا کرنے لگے کاش !اپنا ہاتھ اٹھا لے ۔ جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے
فرمایا: اب یہ کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا پر رکھ (یعنی وہاں کے حاکم تھے انہوں نے کیوں نہ داد رسی
کی ، بیٹے کا کیوں لحاظ پاس کیا) مصری نے عرض کی : یا امیر المومنین !ان کے بیٹے ہی نے مجھے مارا تھا
اس سے میں عوض لے چکا ۔ امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمر وبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
فرمایا :عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی : یا امیر المومنین ! نہ مجھے کوئی خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس فریادی آیا۔
کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم حدیث ۳۶۰۱۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۶۶۰و۶۶۱)
وفات حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو زخمی ہوئے اس کے تین بعد زخمی ہونےوالے دن کے علاوہ یکم محرم الحرام 24ھ مغرب کے بعد وفات پاگئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وفات پر جمہور کا قول
مذکورہ بالا تاریخ وفات پر جمہور کا قول ہے کچھ نے زخمی ہونے والے دن کو شامل کرکے فرمایا کہ چار دن بعد آپ وفات پاگئےاور کچھ نے اس دن کو نکال کر تین دن کا قول کیا ہے۔
عمرفاروق کے وفات کی تاریخ میں اختلاف کیوں ؟
تاریخی کتابوں میں حضرت عمر فاروق کی وفات کی تاریخ میں اختلاف ہے ایسے میں یہ اختلاف صرف عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے وفات پر نہیں بلکہ آقا
علیہ السلام کے تاریخ وفات میں بھی اختلاف ہےایسے میں اس طرح کے اختلافات کو اگر کھنگالا جائے یا ترتیب دیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے تو اس
طرح کے اختلافات سے نکلنے کا بہتر طریقہ یہی ہوتاہے کہ جمہور یعنی اکثر کا جو قول ہوگا اسی پر عمل کیا جائے گا۔
