امام ابو عیسی ترمذی اور جامع ترمذی کا تعارف
امام ابو عیسی ترمذی اور جامع ترمذی کا تعارف

شان امام ابو عیسی ترمذی اور جامع ترمذی کا تعارف
امام ابو عیسی ترمذی ایک محدث گزرے ہیں خدمت حدیث کے لحاظ سے
امام ابو عیسی ترمذی کا تعارف اور ان کا نام بہت مشہور ہے
نابینا ہونا
یہی امام ابو عیسی ترمذی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ
نابینا پیدا ہوئے لیکن اس بارے میں اصل بات یہی ہے
کہ امام ابوعیسی ترمذی آخر میں نابینا ہو گئے تھے یعنی آخری عمر میں امام
ابو عیسی ترمذی نابینا ہو گئے اور شروع سے ہی نابینا پیدا نہیں ہوئے۔
(سیر اعلام النبلاء،ج13،ص 270،بیروت،مؤسسۃ الرسالہ)
ابن کثیر کا نابینا کے متعلق قول
حافظ ابن کثیر سے ابتدا ایک قول یہ نقل کیا کہ کہا گیا کہ
آپ پیدائشی نابینہ تھے۔(البدایہ والنہایہ،ج11،ص 77)
لیکن اس کے بعد لکھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں امام ابو
عیسی ترمذی کے حالات سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ
ہے کہ نابینائی ان پر علم دین کے لیے سفر احادیث کے سماع، کتابت
احادیث،مذاکرے،مناظرے اور تصنیف کے بعد طاری ہوئی۔
(البدایہ والنہایہ،خلافۃ المعتضد،ج11،ص78،احیاءالتراث العربی،بیروت)
ان بزرگوں کی قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے جو آج ہم میں
احادیث بہترین طریقے سے محفوظ ہیں۔
امام ابو عیسی ترمذی کا نام و نسب
حضور امام ابو عیسی ترمذی کا نام محمد اور کنیت
ابو عیسی اور والد صاحب کا نام عیسی ہے۔
حافظ ابن کثیر(متوفی 606ھ) امام ترمذی کا نسب بیان کرتے ہوئے
لکھتے ہیں: ابو عيسى محمد بن عيسى بن موسى بن الضحاك السلمي الترمذي.
(جامع الاصول،الامام ترمذی جلد 1 صفحہ نمبر 193 مکتبہ دار البیان)
امام ابو عیسی ترمذی رحمہ اللہ کی جائےپیدائش
حضرت”امام ابو عیسی ترمذی” کے تعارف میں جائے پیدائش کو ذکر کرنا بھی ضروری ہے
چنانچہ امام ترمذی 209 ہجری میں بلخ کے نواہی
قصبہ "ترمذ”کے ایک دیہات "بوغ” میں پیدا ہوئے
اس کی نسبت سے آپ ترمذی اور "بوغی” کہلائے۔(جامع الاصول،ایضا)
امام ترمذی کا تحصیل علم کے لیے سفر
حافظ ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب میں فرماتے
ہیں امام ابو عیسی ترمذی نے بہت سے شہروں کا سفر
کیا اور خراسان عراق اور حجاز کے بہت سے علماء سے حدیث کا سماع کیا۔
(تہذیب التہذیب،جلد 9،صفحہ نمبر387،مکتبہ دائرۃ المعارف النظامیہ،الہند)
ان علماء کےپاس جاکر علم حدیث حاصل کیاسیکھااورماہربنے۔
ترمذی امام بخاری کے شاگرد اور شیخ بھی
امام ابو عیسی ترمذی امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد
بھی ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے امام ترمذی
سے حدیث کا سما بھی کیا اس لحاظ سے امام بخاری
رحمہ اللہ امام ابو عیسی ترمذی کے شاگرد ٹھہرے۔
علامہ عبدالحئی بن احمد بن محمد ابن العماد عکری حمبلی متوفی 1089 ہجری
لکھتے ہیں: امام ترمذی امام بخاری کے شاگرد ہیں اور
کئی مشائخ سے احادیث سننے میں ان کے شریک بھی ہیں
اور ان کے شیخ امام بخاری نے ان سے سماع بھی کیا۔
(شذرہ الذہب فی اخبار من ذہب،سنۃ تسع وسبعین ومآتین،ج3،ص327،دارابن کثیر،بیروت)
حدیث عطیہ
حافظ ابن کثیر نے لکھا کہ امام ترمذی فرماتے ہیں
امام بخاری نے مجھ سے حدیث عطیہ لکھی ہے
جو کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(البدایہ والنہایہ،خلافۃ المعتضد،ج11،ص77،داراحیاءالتراث العربی،بیروت)
امام ترمذی کا زہد و تقوی
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں امام حاکم نے کہا کہ
میں نے شیخ عمر بن علک کو فرماتے سنا کے
امام بخاری دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد خراسان میں
علم و حفظ اور زہد و تقوی میں ابو عیسی ترمذی جیسا کوئی
نہیں چھوڑا وہ اس قدر روتے کہ آنکھوں کی بصارت چلی گئی
اور کئی سال اس طرح نابینا حالت میں زندگی گزار دی۔
(سیر اعلام النبلاء،الترمذی محمد بن عیسی جلد 13
صفحہ، 273 مؤسسۃ الرسالہ ،بیروت)
ترمذی علیہ الرحمہ کا سخاوت
امام ابو عیسی ترمذی علیہ الرحمہ بہت زیادہ سخی تھے
اللہ تعالی نے آپ کو فیاضی عطا فرمائی تھی
اچھی صفات اور اچھے اخلاق کے مالک تھےآپ
اللہ تعالی نے ان کو وہ تمام فضائل عطا فرمائے تھے
جو علماء اور ائمہ حدیث کی شان کے لائق ہیں۔
(قوۃ المغتذی،الامام ابو عیسی ترمذی مقدمہ،جلد 1،صفحہ 8،جامعہ ام القری مکۃ المکرمہ)
قوت حافظہ
علامہ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں نقل کیا ہے کہ ابو سعد ادریسی
فرماتے ہیں کہ امام ترمذی کی قوت حافظہ ضرب المثل تھی۔
(سیر اعلام النبلاء،الامام ابوعیسی ترمذی،جلد 13 صفحہ، 273 مؤسسۃ الرسالہ،بیروت)
حافظ ابو سعد ادریسی نے اپنی سند کے ساتھ امام ابو عیسی ترمذی
رحمۃ اللہ علیہ کی قوت حافظہ کے متعلق ایک واقعہ نقل کیا ہے
قوت حافظہ کے متعلق ایک واقعہ
امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ایک شیخ سے ان کی
روایت کردہ احادیث کےدو باب نقل کیے تھے
ایک مرتبہ مکہ کے سفر میں وہ میرے ہمراہ تھے مجھے
ابھی تک ان کی بیان کردہ احادیث کے اجزاء کی
دوبارہ جانچ کا موقع نہیں ملا تھا میں نے شیخ سے
درخواست کی کہ آپ ان احادیث کی قراءت کریں اور میں سن کر ان کا
مقابلہ کرتا جاؤں شیخ نے منظور فرما لیا پھر میں نے
ان اجزاء کو سامان میں تلاش کیا مگر
وہ نہ مل سکے بالاخر میں نے ان اجزاء کی مثل سادہ کاغذ اپنے ہاتھوں میں پکڑ
لیے اور شیخ سے قراءت کی درخواست کی شیخ
قراءت کرتے رہے اور میں سن کر ان کو ذہن میں
محفوظ کرتا رہا اتفاق سے شیخ کی نظر ان سادہ کا غذوں پر پڑ گئی
اور وہ ناراض ہو کر کہنے لگے، تمہیں شرم نہیں آتی مجھ سے مذاق کرتے ہوئے،میں نے پھر
تمام واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنا عذر پیش کیا اور عرض کی کہ آپ کی
بیان کردہ تمام روایات مجھے یاد ہو گئی ہیں شیخ نے کہا سناؤ میں نے وہ تمام احادیث
من وعن بیان کر دیں، شیخ نے دوبارہ امتحانا 40 روایات ایسی بیان کی جو صرف
انہی سے روایت کی جاتی تھیں امام ترمذی نے سننے کے بعد ان احادیث
کو بترتیب من وعن سنا دیا ایک حرف کی بھی غلطی نہیں کی۔
(سیر اعلام النبلاء،الترمذی محمدبن عیسی،ایضا)
جامع ترمذی کاتعارف،اور”جامع”کس کتاب کوکہتےہیں
اصطلاح حدیث میں "جامع”کس کتاب کوکہتےہیں
اصطلاح حدیث میں”جامع”اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں
آٹھ عنوانات ہوں اور وہ آٹھ عنوانات یہ ہیں
سیر،آداب،تفسیر،عقائد،فتن،احکام،اشراط،مناقب،”جامع” ترمذی میں بھی ان آٹھ عنوانات کے تحت
احادیث مبارکہ لائی گئی ہیں اس امتیاز سے امام ترمذی کی یہ کتاب "جامع” ہے
اصطلاح حدیث میں”سنن”کس کتاب کو کہا جاتا ہے
اصطلاح حدیث میں سنن اس کتاب کو کہتے ہیں جس کی ترتیب ابواب
فقہیہ کے طرز پرہو اور ترمذی کی ترتیب بھی اسی طور پر ہے
اس لیے اس کو”سنن”کہنا بھی درست ہے۔حافظ ابن کثیر کے مطابق امام ترمذی
نے اپنی جامع کو”المسند الصحیح”کا نام دیا ہے.
(البدایہ والنہایہ جلد 11 صفحہ نمبر 77)
امام ترمذی کی کتاب جامع ترمذی کامقام
ابو عیسی ترمذی کی کتاب جامع ترمذی کا مقام بہت بلند ہےآپ نے اس کی تعریف
میں خود بھی کلام کیا اور آپ کے علاوہ دوسرے جلیل القدر علماء نے
اس کی تعریف بیان کی اور اس کا مقام بیان کیا چنانچہ فرماتے ہیں،امام ابو عیسی
ترمذی خود اپنی کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں
میں نے اس کتاب کو تصنیف کرنے کے بعد علماءحجاز پر پیش کیا تو انہوں نے اس کو
پسند کیا،پھر میں نے علماء عراق پر پیش کیا تو انہوں نے اسے پسند کیا
پھر علماء خراسان پر پیش کیا تو انہوں نے بھی تحسین کی نظر سے دیکھا۔
(تذکرۃ الحفاظ،ج2،ص154،دارالکتب العلمیہ،بیروت،لبنان)
ذھبی علیہ الرحمہ کی رائے
علامہ ذھبی علیہ الرحمہ آپ کی کتاب "جامع” ترمذی کے بارے میں فرماتے
ہیں،اس کتاب میں نفع بخش علم کثیر فوائد مسائل فقہیہ کا
سرچشمہ اصول اسلام میں یکتا اور اس میں کثیر فضائل ہیں۔
(قوت المغتذی،ج1،ص 13،مکتبۃ ام القری،مکۃ المکرمہ)
جامع ترمذی کا امتیاز
حدیث کی کتاب جامع ترمذی چند لحاظ سے دوسروں کتاب سے ممتاز ہے۔پہلا امام ترمذی
ہر حدیث کے بعد اس کی صحت وسقم پر کلام فرما کر اس کی حیثیت واضح فرماتے ہیں
اور اکثر وہ صحیح یا ضعیف ہونے کی علت کی طرف بھی نشاندہی فرماتے ہیں
دوسرا ان کی ذکر کردہ تمام احادیث کسی نہ کسی فقیہ کی معمول بہ ہیں
تیسرا مام ترمذی ما قبل کے مشہور فقہاء اسلام کی آراء بیان کرتے ہیں۔
چوتھا وہ علل،رواۃ کے احوال اور ان کے مراتب بھی واضح کرتے ہیں۔
پانچواں جامع ترمذی کی تربیت بہت سہل اور طریقہ بیان نہایت واضح ہے۔
(قوت المغتذی،مقدمہ،ج1،ص 13،مکتبہ ام القری)
جامع ترمذی کا اسلوب
آپ کی کتاب جامع ترمذی کا پہلا اسلوب یہ ہے کہ امام ترمذی اپنے جامع ترمذی میں
مختلف عنوان قائم کرتے ہیں مثلا ابواب الطہارۃ، ابواب الصلوۃ وغیرہما
بسا اوقات لفظ ابواب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے
کہ ان ابواب میں آحادیث مرفوعہ ہی ذکر ہوں گی
جیسا کہ امام ترمذی لکھتے ہیں ابواب الطہارۃ عن رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم، اس اضافہ سے امام ترمذی نے اس بات کی طرف
اشارہ کیا ہے کہ ابواب الطہارۃ میں آحادیث مرفوعہ ہی مذکور ہوں گی
یعنی وہ احادیث جو قولا فعلا یا تقریرا جان عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی
جانب منسوب ہوں اورآثار صحابہ ذکر نہیں کیے جائیں گے۔
بعض اوقات لفظ ابواب کے بعد ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھتے تو اس
کے تحت آحادیث مرفوعہ کا التزام نہیں کرتے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں
ابواب العیدین اس کے تحت امام ترمذی نے بعض غیر مرفوع روایات بھی ذکر کی ہیں۔
(تذکرۃ المحدثین،سعیدی غفرلہ)
یہ رہا کچھ امام ابو عیسی ترمذی اور جامع ترمذی کا تعارف کے بیان میں
اس تحریر کو آگے پھیلائیں تاکہ لوگوں کو امام ابو عیسی ترمذی اور
جامع ترمذی کا تعارف سمجھ آجائے۔
اس تحریر کا بھی مطالعہ کریں جو کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے حالات پر مشتمل ہے
