امام زین العابدین رضی اللہ عنہ
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نےدیگر بہت سی خوبیوں کے
ساتھ ساتھ فراست میں بھی کمال عطا فرمایا تھا جس کا کئی مواقع پر اظہار ہوا
اس تحریر میں ان چیزوں کا مطالعہ کیاجاسکتاہے
- فراست مؤمن کےبارے میں
- مختارثقفی کے بارے میں
- امام زین العابدین کے بارے میں مختصرحالات
- واقعہ کربلاکےبارےمیں
- وصال امام زین العابدین کےبارےمیں
- کنیزکی آزادی
- حلم وبردباری
مؤمن کی فراست
امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھانے کے
لیےمختار بن ابو عبید ثقفی نامی ایک شخص اہل بیت کی محبت کا نعرہ لگا کر اٹھا اور امام عالی مقام کو شہید
کرنے والوں سے انتقام لینے کے لیے لوگوں کو پھنسانےلگا بہت سے لوگ
اس کے ساتھ مل گئے اور اس نے کوفہ کے گورنر ہاؤس پر قبضہ کر کے وہاں اپنی
حکومت قائم کر لی مزید لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیےاس نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام بھیجا
کہ آپ ہماری سرپرستی فرمائیں اور ساتھ ہی بطور نظرانہ بھاری رقم بھیجی۔
(بظاہر اس کا منشور بہت اچھا تھا مگر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اللہ
تعالی کی دی ہوئی فراست سے جان لیا کہ یہ شخص مفاد پرست ہے اور اس کی تحریک کا انجام اچھا نہیں)
راوی نے بیان کیا کہ آپ نے نہ تو اس کا نظرانہ قبول کیااور نہ ہی اس کے خط کا جواب دیا بلکہ مسجد
نبوی شریف میں سب کے سامنے اس کے کرتوتوں کا پردہ چاک کیا اور اس کا فسق و فجور واضح کر دیا
اور لوگوں کو بتایا کہ وہ صرف حکومت حاصل کرنے کے لیے اہل
بیت سے محبت کی باتیں کرتا ہے۔حتی کہ مختار نے کچھ دیگر اہل بیت کو اپنا ہمنوا بناناچاہا تو امام زین
العابدین رضی اللہ عنہ نے ان سے بھیفرمایا کہ یہ شخص جھوٹا اور مفاد پرست ہے۔1
مختار ثقفی
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جان جہاں
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا (قبیلہ) بنوثقیف میں ایک بڑا جھوٹا اور ایک ظالم ہوگا
امام ترمذی سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جان جہاںرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس
حدیث میں بڑے جھوٹے سےمراد مختار بن ابو عبید ثقفی ہے اور ظالم سے مراد حجاج بن یوسف ہے۔2
(ترمذی شریف،حدیث نمبر 2220)
امام زین العابدین کے حالات
شہزادہ امام حسین اسیر کربلا، سجاد، زین العابدین ابوالحسن سیدنا علی(اوسط)
رضی اللہ عنہ 38 ہجری میں مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئے تقریبا دو سال اپنے دادا
محترم مولی المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم کی آغوش محبت پائی رمضان المبارک 40 ہجری میں
مولی المسلمین کی شہادت ہوئی جس کے بعد تقریبا نو سال اپنے تایا جان
سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں رہے پانچ ربیع الاول 49 ہجری میں امام حسن مجتبی
رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو والد گرامی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے تربیت نصیب ہوئی۔
واقعہ کربلا
محرم الحرام 61 ہجری میں جب واقعہ کربلا پیش آیا توآپ بھی اپنے بابا جان امام عالی مقام رضی اللہ عنہ
کےہمراہ اس میں شریک تھے تب آپ کی عمر شریف 22سال تھی اور بیماری کی وجہ سے میدان میں
تشریف فرما نہ ہو سکے خاندان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مردوں میں صرف آپ ہی قیدی تھے
باقی سب نے جام شہادت نوش کیا۔امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسل پاک آپ ہی سے ہے۔
امام زین العابدین کا وصال
حضرت "امام زین العابدین کا وصال” محرم الحرام 94ہجری مدینہ منورہ میں ہوا اور اپنے نانا جان کے
قدموں میں اپنے تایا جان کی قبر اطہر کے پاس جنت البقیع میں آرام فرما ہوئے پہلے جنت البقیع میں مزارت
پرانوار پرگنبد موجود تھے تب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آپ کے مزار کا گنبد ایک ہی تھا۔3
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں 6 جنوری 659ء (P569)میں ہوئی۔
اور وفات 21 اکتوبر 713ء میں (54 سال)کی عمرمیں ہوئی۔4
امام زین العابدین کا جذبہ
خاندان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قافلہ کربلاکے قریب پہنچ چکا تھا کہ ایک رات امام علی
مقام رضی اللہ عنہ نے کوئی خواب دیکھا اور یہ کلمات کہتے ہوئے بیدار ہوئے۔
ترجمہ: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں(اسی کے بندے ہیں وہ جس حالت میں چاہے رکھے) اور یقینا ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔5
اور سب خوبیاں اللہ تعالی کے لیے ہیں۔
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے بابا جان سے یہ کلمات سن کر پوچھا
ابا جان صدقے جاؤں "الحمدللہ” اور "اِنَّا للہ”کہنے سبب کیا ہے؟
آپ نے فرمایا بیٹے مجھے اونگھ آئی تھی تو میں نے خواب میں ایک گھوڑ سوار
کو دیکھا اس نے کہا یعنی یہ قافلہ کربلا کی طرف جا رہا ہے اورشہادت ان کی
طرف بڑھ رہی ہے امام علی مقام رضی اللہ
عنہ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ہماری شہادتوں کی خبر دی گئی ہے۔
یقینا یہ خواب معمولی نہیں تھا کوئی اور ہوتا تو سنتے ہی اوسان خطا ہو جاتے مگر
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ ضنہایت اطمینان سے عرض کرنے لگے بابا جان اللہ پاک
آپ کو ہر مصیبت سے بچائے کیا ہم حق پر نہیں؟ امام علی مقام نے فرمایا
کیوں نہیں بیٹے قسم بخدا ہم حق پرہیں شہزادہ والا شان نے کہا جب حق پر ہیں تو کوئی
پرواہ نہیں اللہ تعالی جب چاہے جہاں چاہے شہادت عطا کر دے۔امام عالی مقام رضی اللہ عنہ یہی تو سننا چاہتے
تھےشہزادے کی جرأت کو داد دیتے ہوئے فرمایا اللہ کریم نے کسی بھی والد کی طرف سے اس کے بچے کو
جوجزا اور ثواب عطا فرمایا اللہ تعالی تجھے میری طرف سے سب سے بہتر جزا اور صلہ عطا فرمائے۔6
حلم و بردباری
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیزوضو کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے پانی کابرتن
گر گیا جس سے آپ کچھ زخمی ہو گئے آپ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی
اللہ تعالی نے اپنے پسندیدہ بندوں کا وصف بیان کیا "اورغصہ پینے والے” آپ نے فرمایا میں نے اپنا غصہ پی لیا
اس نے آیت کریمہ کا اگلا حصہ پڑھا”اور لوگوں سے درگزر کرنے والے” فرمایا میں نےتجھے معاف کیا اللہ
پاک بھی تجھے معاف کرے وہعرض گزار ہوئی "اور احسان کرنے والے اللہ کےمحبوب ہیں” ارشاد فرمایا جا تو آزاد ہے.7
