امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ

آپ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے امام گزرے ہیں
جن کے بارے میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن کثیر نے یحیی بن صالح سے کہا تم امام مالک بن انس اور امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہما کی
خدمت میں رہے ہو بتاؤ ان دونوں میں کون زیادہ فقیہ تھا تو یحیی بن صالح نے بغیر کسی تردد کے جواب دیا امام
محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے۔
امام شافعی پرعلوم فقہیہ میں محمد بن حسن شیبانی کا احسان
یہی خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ امام شافعی کہا کرتے تھے کہ علوم فقہیہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان جس شخص کا ہے وہ محمد بن حسن شیبانی ہے۔
(تاریخ بغداد ج 2/ص 165)
قرآن محمد بن حسن کی لغت پر
امام ذہبی لکھتے ہیں کہ امام شافعی کہتے تھے کہ اگر میں یہ کہنا چاہوں کہ قرآن محمد بن حسن کی لغت پر
اترا ہے تو میں یہ بات امام محمد کی فصاحت کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں۔(تذکرۃ المحدثین ص 127)
شیبانی نسبت
آپ کی شیبانی نسبت کے بارے میں مختلف آراء ہیں بعض علماء کے خیال میں یہ آپ کے قبیلہ کی طرف نسبت
ہے اور بعض محققین کے نزدیک یہ نسبت ولائی ہے کیونکہ آپ کے والد بنو شعبان کے غلام تھے۔
امام محمد کی پیدائش کی جگہ
آپ کے والد حسن بن فرقد دمشق کے شہر حرسا کے رہنے والے تھے بعد میں وہ ترک وطن کر کے عراق کے شہر واسط میں آگئے جہاں امام محمد رحمۃ اللہ کی پیدائش کی جگہ ہے
اور آپ 132 ہجری میں پیدا ہوئے۔ (تذکرۃ المحدثین،ص 128)
تعلیم و تربیت
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیم و تربیت کوفہ شہر سے حاصل کی۔
امام ابوحنیفہ کی خدمت میں امام محمد
ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ کی خدمت میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہما حاضر ہوئے
اور جب مجلس میں پہنچے تو سوال کیا امام ابو حنیفہ کہاں ہیں تو امام ابو یوسف نے آپ کی رہنمائی
کی آپ نے امام اعظم سے دریافت کیا کہ ایک نابالغ لڑکا عشاء کی نماز پڑھ کر سو جائے اور اسی رات فجر
سے پہلے وہ بالغ ہو جائے تو وہ نماز دہرائے گا یا نہیں؟ امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا دہرائے گا امام محمد نے
اسی وقت اٹھ کر ایک گوشہ میں نماز پڑھی امام ابو حنیفہ نے یہ دیکھ کر بے
ساختہ فرمایا انشاءاللہ یہ لڑکا رجل رشید ثابت ہوگا۔
( ہمارا معاشرہ )
آج کل ہمارے معاشرے میں اکثریت افراد بلوغت کے کئی سال بعد تک نماز نہیں
پڑھتے اور امام محمد رحمہ اللہ قریب البلوغ بھی نماز
ادا کررہےتھے اور جب بالغ ہوئے تو عشاء کی نماز کو دوبارہ پڑھ لیا اب آتے ہیں بقیہ حصے کی طرف۔
اس کے بعد امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ امام اعظم کی مجلس میں حاضر ہوتے رہے جب باقاعدہ تلمذ کی
درخواست کی تو امام اعظم نے فرمایا پہلے قرآن حفظ
کرو پھر آنا سات دن بعد پھر حاضر ہو گئے امام اعظم نے
فرمایا میں نے کہا تھا قرآن مجید حفظ کر کے آنا عرض کیا میں نے قرآن کریم حفظ کر لیا ہے امام اعظم نے ان
کے والد سے کہا اس کے سر کے بال منڈوا دو لیکن بال منڈوانے کے بعد ان کا حسن اور دمکنے لگا
(شیخ ابن بزاز کردری،مناقب کردری ج2 ص 155)
سات دن میں قرآن حفظ کرنا
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے سات دن میں قران مجید حفظ کرلیا آپ اتنے قوی ذہن کے مالک تھے۔
امام ابو یوسف سے تحصیل علم
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف سے تحصیل علم کیا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے رخصت ہونے کے بعد
اسماعیل بن حماد بیان کرتے ہیں کہ امام ابو یوسف صبح سویرے درس شروع کیا کرتے تھے اور امام محمد اس
وقت حدیث سننے کے لیے دوسرے اساتذہ کے پاس جاتے تھے جب امام محمد
حدیث کے درس میں پہنچتے تو ان
کے زیر درس کافی مسائل گزر چکے ہوتے تھے لیکن امام ابو یوسف امام محمد کی
خاطر ان تمام مسائل کو پھر
دہرایا کرتے تھے۔(بلوغ الامانی ص 35)
امام مالک سے امام محمد کی تحصیل علم
حضرت امام مالک سے امام محمد کی تحصیل علم کے بارے میں روایت موجود ہے
امام محمد بیان کرتے ہیں کہ وہ تین سال سے زیادہ عرصہ تک امام مالک کی
خدمت میں رہے اور ان سے 700 سے زیادہ احادیث کا سماع کیا۔
(لسان المیزان ج 5 ص 121)
امام محمد کی کتابیں
حضرت امام محمد کی متعدد کتابیں ہیں جن کے یہ نام ہیں
مؤطا امام محمد ، کتاب الآثار، کتاب الحج ، مبسوط ، الجامع الکبیر، الجامع الصغیر، السیر الصغیر، السیر الکبیر
زیادات ، ہدایۃ العارفین ، الاکتساب فی الرزق المستطاب ، الجرجانیات ، الرقیات فی المسائل ، عقائدالشیبانیہ
کتاب الاصل فی الفروع ، کتاب الاکراہ ، کتاب الحیل ، کتاب السجلات ، کتاب الشروط ، کتاب الکسب
کتاب النوادر ، الکیسانیات ، مناسک الحج ، انوار الصیام ، الہارونیات اور بہت سی کتابیں
امام محمد کی وفات کی تاریخ
حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ 190ھ میں اٹھاون سال کی
عمر پاکر رے میں بادشاہ ھارون الرشید کے ساتھ دوران سفر وفات فرماگئے۔
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کا ذکر جن سے پڑھ کر امام محمد نے امام کا رتبہ پایا
