حالات زندگی حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ
حالات زندگی حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ

اس تحریر میں آپ پڑھیں گے
- ولادت و وفات کاتذکرہ
- ابراہیم قندوزی سے ملاقات
- ثمرقندو بخاری میں علم کا حصول
- اجمیرآمد اور پتھورا رائے کی حرکت
- کچھ اقوال زریں
جامی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ جہاں اللہ کے پیاروں کا ذکر ہو وہاں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔1
اس وجہ سے ہم حالات زندگی حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کو ذکر کررہےہیں
ولادت خواجہ غریب نواز ہجری و عیسوی تاریخ
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کی ولادت ۵۳۶ ھ مطابق ۱۱۴۱ء میں سجستان میں ہوئی ۔2 ایک
اور روایت کے حساب سے آپ کی پیدائش 1141ء مطابق 536 ھ خراسان، افغانستان ہوئی۔3
بچپن میں ابراہیم قندوزی کی توجہ
بچپن ہی میں ایک بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی ان کی توجہ سے حضرت خواجہ معین الدین
چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ میں طلب حق کا جذبہ پیدا ہوا۔
ثمرقند اور بخارا
اس سلسلے میں آپ رضی اللہ عنہ نے ثمرقند اور بخارا کے سفر بھی اختیار فرمائے، مختلف اساتذہ کرام
سےعلوم ظاہری کے حصول اور اس کی تکمیل کے بعدخواجہ صاحب رضی اللہ عنہ
نے علوم باطنی کا ارادہ فرمایاحضرت
حضرت خواجہ غریب نواز کے مرشد
آپ یعنی حضرت خواجہ غریب نواز کے مرشد کاتذکرہ اور آپ اس کے بعد تکمیل
علم ظاہری کے علم باطن کےلئے حضرت خواجہ عثمان ہرونی ہی کی بارگاہ میں
حاضر ہو کر شرف بیعت حاصل کیا۔
20 سال تک اپنے مرشد کی خدمت میں
اس کے بعد وہیں 20 سال تک اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر رہ کر رُوحانی
فیوض و برکات سے مستفید ہوتے رہے۔
پیرو مرشد کے ہمراہ حرمین شریفین بھی حاضر ہوئے
اسی دوران آپ رضی اللہ عنہ اپنے پیرو مرشد کے
ہمراہ حرمین شریفین بھی حاضر ہوئے
جہاں خواجہ غریب نواز کو خرقہ خلافت عطا کیا گیا، اپنے مرشد سےرخصت کی اجازت ملنے کے بعد، آپ
راستے کے مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے لاہور (موجودہ پاکستان) تشریف لائے اور حضور داتا علی
ہجویری گنج بخش کے مزارشریف پر چند روز رہنے کے بعد ہندوستان تشریف لے گئے.4
اجمیر تشریف آوری
حضور خواجہ صاحب کی اجمیر میں تشریف آوری ۔
آپ رحمہ اللہ پتھورا رائے (پرتھوی راج) کے دورِ
حکومت میں اجمیر تشریف لائے، اور عبادت الہی میں مشغول ہو گئے ۔
پتھورا رائے نے ایک مرید کو ستایا
پتھورا رائے اس زمانہ میں اجمیر میں ہی مقیم تھا، ایک روز اس نے آپ کے ایک مرید کو کسی وجہ سے
ستایاآپ نے اُسے پیغام بھیجا کہ اسے مت ستاؤ! لیکن اس کا سر غرور و تکبر سے
بھرا ہوا تھا، وہ باز نہ آیا اور اس مرید کے بارے میں ناشائستہ کلمات کہے۔
پتھورا لشکر اسلام کے ہاتھ میں
تو آپ نے فرمایا: "پتھورا رازندہ گرفته بدست لشکر اسلام دادم ” یعنی "پتهورا کوزندہ
گرفتار کر کے میں نے لشکراسلام کے ہاتھ میں دے دیا، انہی ایام میں شہاب الدین غوری
لشکر لےکر غزنی سے ہندوستان پر حملہ آورہوئے، پتھورا نے مقابلہ کیا، لیکن اللہ
کے حکم سے زندہ گرفتار ہو گیا۔5
چشتی سلسلہ "چشت” سے منسوب
یہ سلسلہ "چشت” سے منسوب ہے اور "چشت” خراسان کے ایک مشہور
شہر کا نام ہےاسی وجہ سے چشتی کہا جاتاہے۔
وفات خواجہ غریب نواز
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ رجب 627 ھ وفات ہوئے۔
اقوال خواجہ غریب نواز
(۱) کوئی بھی شخص اللہ تعالی کی بارگاہ عزت میں نماز کے بغیر تقرب حاصل نہیں
کر سکتا، کیونکہ یہی نماز "معراج المؤمنین” ہے ، نماز ایک راز ہے جسے بندہ اپنے
پروردگارسے بیان کرتا ہے، اور راز کہنے کے لیے بندے کو ایسا قرب حاصل ہوتا ہے، جو اس راز
کے لائق ہوتا ہے، اور اصل راز کی باتیں تو صرف نماز ہی میں کہی جاسکتی ہیں۔6
(۲) نماز کو صحیح طریقے
سے ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ "جو شخص نماز کا
حق ادا نہیں کرتا (یعنی خشوع و خضوع سے نماز نہیں پڑھتا)، فرشتے اس کی نماز کو آسمان پر لے جانے
کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے ، بارگاہ الہی سے حکم آتا ہے
کہ اس نماز کو واپس لے جاؤ، اور اسے نمازی کے منہ پر مارو، اس وقت یہ نماز اپنی
زبان حال سے کہے گی کہ اے نمازی تو نے مجھے ضائع کر دیا۔7
نور فراست اور علمی جلالت
آپ کے نور فراست اور علمی جلالت کے بارے میں حضرت شیخ فیض الدین
بلخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے چند مسائل
در پیش ہوئے ، جن کی وجہ سے میں سخت پریشان تھا، مجھے ان کا حل نہیں مل رہا تھا، میں ان سوالات کو ایک
کاغذ پر لکھ کر حضرت غریب نواز رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، حاضرین
کی کثرت کی وجہ سے میں اپنے سوالات پیش نہ کر سکا، میں مجلس میں خاموش
بیٹھا رہا، کچھ دیر بعد حضرت نے مجھے قریب بلایا اور ایک کاغذ عنایت فرمایا، جب میں نے اس کاغذ کو
کھولا تو اس پر میرے انہی دریافت طلب سوالات کےتشفی بخش جوابات تھے۔8
در بارنبوی سے قطب المشائخ کا خطاب
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کو دربار نبوی سے قطب المشائخ کا خطاب
ملاخواجہ غریب نواز سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن سجزی قدس اللہ سرہ اپنے پیر و
مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ کے ملفوظات مبارکہ انیس الارواح میں تحریر فرماتے ہیں
کہ یہ دعا گو اضعف عباداللہ معین الدین حسن سجزی شہر بغداد شریف میں گیا
حضرت خواجہ عثمان ہارونی کو تلاش کیا، لوگوں نے کہا کہ
حضرت خواجہ جنید بغدادی
کی مسجد میں نماز کے لئے تشریف لے گئے ہیں، یہ سن کر میں حضرت خواجہ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ
کی مسجد میں گیا اور مولائی و مرشدی حضرت عثمان ہارونی قدس اللہ سرہ کی زیارت
و قدم بوسی سے مشرف ہوا اس وقت بہت سے مشائخ کبارخدمت اقدس میں حاضر تھے۔
آپ نے ارشاد فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھو! میں نے حکم کی تعمیل کی ، آپ کھڑے
ہو گئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی جانب منہ کیا اور زبان مبارک سے فرمایا کہ
الہی ! میں ان کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔
مکہ معظمہ کا سفر
اسکے بعد بغداد شریف سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ تشریف لائے اور یہ درویش ہم رکاب تھا، آپ مجھے پا
پیادہ کعبہ شریف لے گئے اور فقیر کے حق میں دعاء خیر کی ، آواز آئی کہ ہم نے معین الدین حسن سجزی
کو قبول کیا، وہاں سے روانہ ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوئے ، میں بھی ہمراہ تھا جب حضرت نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر پہنچے تو مجھ سے ارشاد فرمایا کہ سلام کرو! میں نے سلام عرض کیا!
روضہ مبارک سے آواز آئی ”وعلیکم السلام یاقطب المشائخ “ اس آواز کے آنے پر حضرت شیخ نے
ارشادفرمایا کہ آپ کا معاملہ درجہ کمال کو پہنچا۔9
