حکیم ابن (حزام)
حکیم ابن (حزام)
حضرت حکیم ابن (حزام ) ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجہ ہیں
حکیم ابن (حزام) کی پیدائش
ان کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی واقعہ فیل سے تیرہ برس قبل
آپ نے کتنی عمر پائی
ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی، ۵۴ھ میں وفات پائی،ساٹھ سال کفر میں گزارے
اور ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں آپ نے سو۱۰۰ غلام آزاد کیے۔(مرقات)
آپ کااسلام لانا
آپ رضی اللہ عنہ سِن 8 ہجری میں فتحِ مکّہ کے موقع پر اسلام لائے اور بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے یہ اعزاز پایا : جو
حکیم ابن (حزام) کے گھر میں داخل ہوگا اسے امان ہے ، اُمُّ المؤمنین
حضرت سیّدتُنا خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی تھیں جبکہ
حضرت زُبیر بن عوام رضی اللہ عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے ، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے
(حالات ناسازگار ہونے کی وجہ سے) رات کے وقت حضرت سیّدنا عثمانِ غنی
رضی اللہ عنہ کی تدفین کی۔( سیر اعلام النبلاء )
آپ کی اولاد
آپ رضی اللہ عنہ کے 4 بیٹے تھے سب نے صحابی ہونے کا شرف و اعزاز پایا ۔(استیعاب ، 1 / 417)
بنوہاشم کی مدد
اعلانِ نبوّت کے ساتویں سال کُفّارِ قریش نے ایک مُعاہَدہ کیا کہ
جب تک بنو ہاشم محمد (صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم )کو ان کے حوالے
نہیں کردیتے تب تک بنو ہاشم سے (میل جول ، بات چیت ، خرید و فروخت ، رشتے ناطے سب ختم یعنی مکمل ) بائیکاٹ ہے پھر
بنو ہاشم کو مکّے سے باہر ایک گھاٹی میں محصور ہونے
پر مجبور کردیا گیا ، ملکِ شام سے حضرت حَکیم بن حِزام کا قافلہ آتا تو آپ گندم
سے بھرا ہوا اونٹ گھاٹی کے قریب لاکر اسے ہنکادیتے تھے ، یوں اونٹ گھاٹی میں داخل ہوجاتا اور بنو ہاشم اس گندم کو لے لیتے۔ (سیرت حلبیہ ، 1 / 475)
مولود کعبہ
آپ ہی مولود کعبہ ہیں حضرت علی کرم اللہ کےبارےمیں آتاہےکہ
آپ بھی کعبہ میں پیداہوئے یہ بات کسی سندسے ثابت نہیں ہوتی چنانچہ
مام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حکیم ابن (حزام) رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ کوئی دوسرا شخص اس کے اندر پیدا نہیں ہوا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو ایسی بات بیان کی جاتی ہے
وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف قول ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات 166/1)
ابن عبدالبر
نے لکھا ہے کہ حکیم رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو ایسا دعویٰ کیا جاتا ہے
وہ اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے۔ (الاستیعاب بمعرفة الاصحاب 363/1)
امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں
امام زبیرابن بکارکہتےہیں حضرت حکیم ابن حزام کعبہ میں پیدا ہوئے اس کےعلاوہ
کوئی پیدانہیں ہوا(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی،النوع الستون،ص 356،دارالکتب بیروت)
حضرت علامہ شھاب الدین خفاجی(المتوفی 1069ھ) علیہ الرحمہ نے
لکھاہےکہ حضرت حکیم بن حزام کےعلاوہ کعبہ میں کوئی نہیں پیداہوا۔
(نسیم الریاض فی شرح شفاء،القسم الاول،ج 1 ص 509،دارالکتب العلمیہ بیروت،الطبعۃ الاولی)
مولود کعبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
حضرت امام ابوزکریامحی الدین شرف النووی الدمشقی(متوفی 676ھ)لکھتے ہیں کہ یہ جو کہاجاتاہےکہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہواہے یہ علماء کے نزدیک کمزورہے
(تھذیب الاسماء واللغات ،حرف الحاء ج 1 ص 409 رقم نمبر127)
