استعانت اور وسیلے کا جواز
استعانت اور وسیلے کا جواز

استعانت اور وسیلے کا جواز قرآن مجید فرقان حمید سے ثابت ہے اگر استعانت اور وسیلہ کا جوازقرآن و حدیث سے ثابت نہ ہوتا تو امت کا ایک بہت بڑا حصہ استعانت کے جواز کا قول
نہ کرتا اس وجہ سے استعانت اور وسیلہ کا جواز موجود ہے۔جس پر امت کا
بہت بڑا حصہ عمل پیرا ہے۔چنانچہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَٰوةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصّٰبرِينَ.(البقرة 153:2)
ترجمہ: اے ایمان والو مدد چاہو صبر اور نماز سے بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا؛وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۚ (البقرة 45:2)
ترجمہ؛تم مدد طلب کرونمازاورصبرکےساتھ۔
ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ
وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.(المائدة 35:5)
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور
اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
استعانت کا معنی
استعانت کا معنی ہے مدد چاہنا،انسان،دینی،دنیاوی،روحانی جسمانی ہر شعبے
میں حتی کہ مرنے کے بعد بھی مدد کا محتاج ہے اس کا ایک لمحہ بھی مدد ووسیلہ
کے بغیر گزارنا ناممکن ہے۔ہمارا ایمان ہے عقیدہ ہے کہ مستعان حقیقی صرف اور
صرف اللہ ہے یعنی حقیقی مددگار اللہ تعالی ہے ہر لمحہ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے
ہم اپنی نمازوں دعاؤں اور ہر حال میں اعلان کرتے ہیں "اِیّٰاکَ نَستَعِین” اے اللہ ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
لیکن اللہ ہی کا فیصلہ ہے کہ اس سے مدد حاصل کرنے کے لیے وسائل اور ذرائع تلاش کرو۔
اللہ عزوجل نے آیات کے اندر وسیلہ کا ذکر کیا اور مخاطب کون ہیں ایمان والے
اور رب تعالی ایمان والوں کو وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دے رہا ہے
اور پہلی آیت کے اندر اللہ رب العزت نے وسیلہ کے ذرائع بھی بتائے ہیں
یعنی صبر اور نماز کے ذریعے وسیلہ یعنی مدد تلاش کرو
استعانت طلب کرو اگر اس کا جواز ثابت نہ ہوتا تو رب تعالی قرآن
مجید فرقان حمید میں اس کا ذکر کیوں فرماتے؟
استعانت اور وسیلہ کا جواز قران مجید فرقان حمید سے ثابت ہو گیا تو اس
لحاظ سے آگے ایک حدیث شریف آپ کی نظر کرتے ہیں۔
استعانت اور وسیلہ کا جواز حدیث شریف سے
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک نابینہ صحابی نے آقا علیہ الصلوۃ والسلام
کی بارگاہ میں درخواست کی یا رسول اللہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ
مجھے بینائی عطا فرما دے آپ نے فرمایا جاؤ اس طرح دعا کرو۔
اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة يا محمد اني اتوجه
بك إلى ربك أن يكشف عن بصري اللهم شفعه لي۔(مشکوۃ،شفاشریف)
ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے دربار میں تیرے نبی رحمت کا
وسیلہ لے کر حاضر ہوں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اپ کے وسیلہ سے آپ کے رب
سے مانگتا ہوں کہ وہ مجھے نظر عطا فرما دے اللہ اپنے محبوب علیہ السلام کو میرا شفیع بنا دے۔
صحابی نے دعا کی اور اللہ نے اپنے حبیب علیہ السلام کے واسطہ اور وسیلہ
سے ان کی دعا کو قبول فرمایا کہ انہیں بینائی نصیب ہو گئی۔
استعانت اور وسیلہ کا جواز انبیاء کرام کے عمل سے۔
استعانت یعنی مدد اور وسیلہ کا جواز انبیاء کرام کے عمل سے ثابت ہے جیسا
کہ قرآن مجید فرقان حمید میں سورہ یوسف میں بیان ہے،حضرت یعقوب علیہ السلام
کی نظر واپس دلانے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام بھائیوں کو اپنا کرتا دیتے ہوئے
فرماتے ہیں،اس کو میرے باپ کے چہرہ پر ڈال دینا نظر واپس آجائے گی، کرتا چہرے
پر پڑا اور نظر واپس اگئی نظر بخشنے والا یقینا اللہ ہی ہے نبی کے کرتے کو صرف وسیلہ بنایا گیا۔
قرآن کریم سوره نمل،حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے بلقیس
کا تخت منگانے کے لیے مدد طلب فرمائی اور جب آپ کے ایک خادم اللہ کے ولی
نے تخت حاضر کر دیا تو آپ نے اللہ ہی کا شکر ادا کیا۔
اس سے استعانت اور وسیلے کاجواز ثابت ہوتا ہے
قران کریم سورہ بقرہ،حضرت موسی اور ہارون علیہم السلام کے تابوت اور اس
میں موجود تبرکات کی برکت سے بنی اسرائیل کو طالوت کی قیادت میں
جالوت اور اس کے لشکر پر غلبہ عطا فرمایا گیا۔
قرآن کریم سوره انفال میرے آقا علیہ السلام کی مدد کے لیے اللہ نے
غزوہ بدر میں فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا جس کی مدد سے 313 کمزور
مسلمانوں کو طاقتور دشمن پر غلبہ حاصل ہوا۔(تفسیریاایهاالذین آمنوا،جلد 1،ص 69تا72)
