خلیفہ اول سیدنا حضرت صدیق اکبر

خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارف
آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی عبداللہ اور والد بزرگوار کا نام مبارک عثمان اور
آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوقحافه ، صدیق اور عتیق آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ہیں
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیدائش حضور پر نور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ولادت شریف سے دو سال اور کچھ مہینے بعد تین ذوالحجہ
بروز بدھ ہوئی آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاندان میں
مرہ بن کعب سے جا ملتے ہیں مرہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ میں چھ واسطے ہیں اسی طرح مرہ اور حضور صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کے درمیان بھی چھ واسطے ہیں حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں روسائے قریش میں سے تھے
اور سب سے بڑھ کر عالم انساب تھے۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مختلف فضائل
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے عمر والوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے سب سے
پہلے دین اسلام کا تبلیغ کرنے والے عشرہ مبشرہ میں بھی آپ کا نام داخل اور آپ کی
خصوصیات میں سے یعنی انفرادیت میں سے یہ بھی ہے
کہ آپ کے والد آپ کی تمام اولاد اور پوتے سب صحابی تھے۔
تاریخ نقشبندیہ صفحہ نمبر 27، محی الدین بلڈنگ ،مطبوعہ زاویہ پبلشر داتا دربار مارکیٹ لاہور۔
حضرت ابوبکر کی شان میں قرآن کی آیتیں
اللہ عزوجل نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا ترجمہ آیت
اگر تم نے محبوب کی مدد نہ کی تو بے شک اللہ (تعالی) نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں
باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ
دونوں غار میں تھے جب اپنے یار(ابوبکر)سے فرماتے
تھے غم نہ کھا بے شک اللہ (تعالی) ہمارے ساتھ ہے۔
اس آیت میں رب تعالی نے صاحب کا لفظ استعمال کیا
مفسرین کرام کے نزدیک صاحب سے مراد حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کے ساتھ غار کے اندر تھے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہجرت فرما رہے تھے۔
(سورۃ التوبہ، آیت نمبر40)
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں دوسری آیت
اس کے علاوہ سورہ نور میں ایک آیت ہے وہ بھی
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے
حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تہمت والوں کے ساتھ
اس کی شان نزول کے بارے میں آتا ہے کہ جب حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو اس
وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد
مسطح بن اثاثہ صحابی رسول تھے اور انہوں نے
منافقین کے ساتھ شامل ہو کر حضرت عائشہ صدیقہ پر
تہمت کا افتراء باندھا کیونکہ منافقین نے جب یہ چال چلی
تو اس چال میں کئی صحابہ بھی بے علمی کی وجہ سے
شامل ہو گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
نے قسم کھائی کہ آج کے بعد مسطح بن اثاثہ کے ساتھ
کوئی معاملہ نہ کریں گے حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ ان پر خرچ کیا کرتے تھے ان کا خرچہ
اٹھاتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی
صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو
حضرت مسطح بن اثاثہ کی والدہ کے ذریعے پہلی دفعہ
اس تہمت کے بارے میں علم ہوا تھا چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں آیت ہے ترجمہ
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش
والے ہیں قرابت والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف
کر دیں اور درگزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے
کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
فضیلت والا
سورۃ النور آیت 22
اس آیت میں رب تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق کو فضیلت والا فرمایا
یعنی جو صاحب فضیلت ہیں وہ غریبوں پر خرچ کریں نہ
کہ ایسی قسمیں اٹھا کر ان پر خرچ کرنا بند کر دیں اور درگزر کر کے انہیں معاف فرما دے۔
حضرت مسطح یتیم تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ ان پر خرچ کرتے ان کی امداد کرتے تھے وہ
حضرت ابوبکر صدیق کے بارگاہ میں حاضر ہوئے معافی
بھی مانگی تو حضرت ابوبکر صدیق نے انہیں معاف نہ
کیا تو رب تعالی نے اس آیت کے ذریعے حضرت ابوبکر
صدیق کو حکم دیا کہ درگزر کر کے ان پر خرچ کریں۔
اسی طرح رب تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی
شان میں ایک اور آیت نازل فرمائی
سچ کی تصدیق کرنے والا
ترجمہ آیت ہے
اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے
اس کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں ۔(یعنی پرہیزگار یہی لوگ ہیں)
(سورۃ الزمر آیت نمبر 33)
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق
"جو سچ لے کر تشریف لائے” وہ حضور سید عالم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور "جنہوں نے ان کی تصدیق کی”
سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں
(تاریخ مشائخ نقشبندیہ صفحہ نمبر 30)
صدیق کے نام سے کیسے مشہور ہوئے ؟
حضور علیہ الصلوۃ والسلام معراج سے جب واپس ہوئے تو مشرکین کے سامنے واقعہ معراج کو بیان کیا
وہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا اے ابوبکر تمہارے نبی یہ کہہ رہے ہیں کہ
وہ گزشتہ شب ایک مہینے کی مسافت کا سفر کر کے واپس آئے ہیں تم اس بارے میں کیا کہتے ہو حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اگر واقعی آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے اور میں نبی علیہ الصلوۃ
والسلام کی تصدیق کرتا ہوں اور میں تو اس سے زیادہ بعید باتوں کی بھی تصدیق کرتا ہوں کہ آپ آسمانوں سے آنے
والی خبریں بیان کرتے ہیں اور میں ان کی تصدیق کرتا ہوں اسی دن سے ہی حضرت ابوبکر کا نام "صدیق” پڑ گیا۔
(تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 248،مطبوعہ ادارہ اندلس بیروت،1385ھ)
سب سے پرہیزگار
امت میں تمام نبیوں کے بعد سب سے بڑا پرہیزگار
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اللہ عزوجل نے
قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا ترجمہ آیت
اور بہت اس سے دور رکھا جائے جو سب سے بڑا
پرہیزگار جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس
پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے صرف اپنے
رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک
قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔
سورۃ الیل
حضرت بلال کی آزادی
اس آیت کے شان نزول کے بارے میں مفسرین کرام
لکھتے ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ قیمت پر خرید
کر آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسا کیوں کیا
شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا جو انہوں نے اتنی
زیادہ قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا
تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرما دیا گیا کہ
حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ کام صرف اللہ تعالی
کی رضا کے لیے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں اور نہ
ان پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ یا کسی اور کا کوئی
احسان ہےحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بہت
سے لوگوں کو ان کے اسلام لانے کے سبب خرید کر اآزاد کیا۔۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غلام کی طرف سے پیش کردہ حرام لقمہ
ایک بار خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام آپ کے پاس کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے اور
اس غلام کی کمائی حلال ہوتی تھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی تصدیق
کے اس سے چیز لے کر کھا لی بعد میں غلام نے بتایا کہ دور جاہلیت میں میں نے کسی شخص کے لیے کہانت
کی تھی حالانکہ یہ میرا پیشہ نہیں تھا اور میں نے جو کہانت کی وہ سچ ثابت ہوئی اور اس نے آکے مجھے اب
بدلہ دیا ہے یہ اس بدلے سے میں نے آپ کے لیے کھانا لایا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ
سے وہ لقمہ نکالنے کےلیے قئے کرنا چاہی تو آپ کو بتایا گیا کہ آپ زیادہ پانی پئیں گے تو یہ باہر نکل آئے گا
ایسے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پانی پیا اور زیادہ پانی پینے کی وجہ سے آپ نے الٹی کر کے
اس حرام لقمے کو اپنے پیٹ سے نکال دیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کسی شخص
نے عرض کیا کہ اتنی تکلیف صرف ایک لقمےکی وجہ سے اٹھائی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے
اسے جواب دیا کہ اگر یہ حرام لقمہ نکالنے کے لیے جان بھی جاتی تو میں نے نکالنا ہی تھا پھر اس کی وجہ
بیان کرتے ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا میں نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو گوشت حرام سے پرورش پائے جہنم اس کے بہت قریب ہے تو مجھے ڈر تھا کہ
کہیں اس لقمہ حرام سے میرے جسم کی پرورش نہ ہو اور میرا جسم جہنم کا حقدار نہ ٹھہرے۔(حلیۃ الاولیاء جلد1 صفحہ 31)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نیک اعمال
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ آج تم میں سے
روزہ کس کو ہے صدیق اکبر نے عرض کیا میرا روزہ ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے
پھر پوچھا آج تم میں سے جنازہ کے ساتھ کون گیا حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا
میں جنازے کے ساتھ گیا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر پوچھا آج تم میں سے
بیمار کی عیادت کس نے کی صدیق اکبر نے فرمایا عرض کیا میں نے بیمار کی
عیادت کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا آج تم میں سے مسکین
کو کھانا کس نے کھلایا صدیق اکبر نے عرض کی میں نے کھلایا حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے فرمایا یہ چار عادتیں ایک ہی دن میں جس میں جمع ہوں وہ جنتی ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث 1028)
نکاح کے معاملے میں صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بدری صحابی حضرت خُنَیس رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو
تو میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے پیغام کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو
پیغام دیا تین دن کے بعد اس نے کہا میرا نکاح کا کوئی ارادہ نہیں ایسے ہی
حضرت ابوبکر صدیق کو جب نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا
تو ان دونوں کے جواب سے مجھے بہت رنج ہوا اور آگے چل کرحضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے حفصہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے ان سے نکاح کر دیا
بعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور فرمایا کہ حفصہ کے
نکاح کے معاملے میں شاید تمہیں رنج ہوا ہو میں نے اس وجہ سے جواب دیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حفصہ کے متعلق بات کرتے ہوئے
دیکھا تھا تو اس وجہ سے میں نے رسول اللہ کے راز کو ظاہر نہیں فرمایا۔
(مسند احمد ، مسند ابی بکر، رقم الحدیث 74)
خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک یہودی نے رب تعالیٰ
کے بارے گستاخانہ الفاظ کہے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں واجب القتل قرار دیا چنانچہ واقعی کچھ اس طرح ہے کہ
فنحاس نامی یھودی کا رب تعالیٰ کو فقیر کہنا اور ابوبکر کا جواب
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیت المدراس گئے آپ نے وہاں دیکھا وہاں بہت سارے "یہودی فنحاس عالم”
کے گرد جمع تھے یہ شخص یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فنحاس سے کہا
اے فنحاس تم پر افسوس ہے تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کر لو تم کو معلوم ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم
اللہ کے رسول ہیں وہ اللہ کے پاس سے وہ دین برحق لے کر آئے ہیں جس کو تم تورات اور انجیل میں لکھا
ہوا پاتے ہو فنحاس نے کہا بخدا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی کوئی حاجت نہیں ہے بلکہ اللہ ہمارا محتاج (فقیر) ہے
ہمیں اس سے فریاد کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہم سے فریاد کرتا ہے اور ہم اس سے مستغنی (غنی)ہیں اگر
اللہ ہم سے مستغنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسا کہ تمہارے پیغمبر کہتے ہیں وہ ہم کو ربا (سود) سے منع کرتا ہے
اور خود ہم کو سود اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زیادہ اجر دیتا ہے اگر اللہ غنی ہوتا تو ہم کو سود نہ دیتا
حضرت ابوبکر یہ سن کر غضبناک ہوئے اور فنحاس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور فرمایا بخدا اگر تمہارے
اور ہمارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا فنحاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس گیا
اور حضرت ابوبکر کی شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے پوچھا تم نے اس کو تھپڑ کیوں مارا ؟
حضرت ابوبکر نے بتایا کہ اس نے اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کی اور کہا اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں
اس وجہ سے میں نے غضبناک ہو کر اس کو تھپڑ مارا فنحاس نے انکار کیا اور کہا میں نے یہ نہیں کہا تھا تب
اللہ تعالی نے فنحاس کے رد اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
بے شک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ (آل عمران آیت 181)
رب تعالیٰ کے ذات پر عقیدے کے بارے میں
اس واقعے اور آیت کی تفصیل سے واضح ہوگیا کہ رب تعالیٰ کے ذات کے بارے میں گستاخانہ الفاظ نکالنا دائرہ اسلام سے خارج کرےگا
یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کفار چوں کہ رب تعالیٰ کی ذات کو مانتے تک نہیں تو ان کا ایمان کیسا؟
اور عام مسلمان آج کل ہر طرح کی چیزوں پر مذاق شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھار وہ رب کی ذات
کو بھی اپنے مذاق کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں کبھی معزز فرشتوں پر مذاق کرتے ہیں اس سے بچنا چاہئے
اس طرح کا مذاق دین اسلام سے خارج کردےگا
اگر کوئی ایسا مذاق کرنا شروع کردے تو حضرت صدیق اکبر کی سنت پر عمل لازم ہوجاتاہے
صدیق کے شان میں موضوع روایات
ﻭَﻣِﻤَّﺎ ﻭَﺿَﻌَﻪُ ﺟَﻬَﻠَﺔُ اﻟْﻤُﻨْﺘَﺴِﺒِﻴﻦَ ﺇِﻟَﻰ
اﻟﺴُّﻨَّﺔِ ﻓِﻲ ﻓَﻀْﻞِ اﻟﺼَّﺪِﻳﻖِ ﺣَﺪِﻳﺚُ ﺇِﻥَّ اﻟﻠَّﻪَ ﻳَﺘَﺠَﻠَّﻰ ﻟِﻠﻨَّﺎﺱِ
ﻋَﺎﻣَّﺔً ﻳَﻮْﻡَ اﻟْﻘِﻴَﺎﻣَﺔِ ﻭَﻷَِﺑِﻲ ﺑﻜﺮ ﺧَﺎﺻَّﺔ
ﻭَﺣَﺪِﻳﺚ ﻣَﺎ ﺻَﺐَّ اﻟﻠَّﻪُ ﻓِﻲ ﺻَﺪْﺭِﻱ ﺷَﻴْﺌًﺎ ﺇِﻻَّ ﺻَﺒَﺒْﺘُﻪُ ﻓِﻲ ﺻَﺪْﺭِ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ
ﻭَﺣَﺪِﻳﺚ ﻛَﺎﻥَ ﺇِﺫَا اﺷْﺘَﺎﻕَ ﺇِﻟَﻰ اﻟْﺠَﻨَّﺔِ ﻗﺒﻞ ﺷﻴﺒَﺔ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ
ﻭَﺣَﺪِﻳﺚ ﺃَﻧَﺎ ﻭَﺃَﺑُﻮ ﺑَﻜْﺮٍ ﻛَﻔَﺮَﺳَﻲْ ﺭِﻫَﺎﻥٍ
ﻭَﺣَﺪِﻳﺚ ﺇِﻥَّ اﻟﻠَّﻪَ ﻟَﻤَّﺎ اﺧْﺘَﺎﺭَ اﻷَْﺭْﻭَاﺡَ اﺧْﺘَﺎﺭ ﺭﻭﺡ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ
ﻭَﺣَﺪِﻳﺚ ﻋﻤﺮ ﻛَﺎﻥَ ﺭَﺳُﻮﻝُ اﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻭَﺃَﺑُﻮ ﺑَﻜْﺮٍ
(اﻷﺳﺮاﺭ اﻟﻤﺮﻓﻮﻋﺔ ﻓﻲ اﻷﺧﺒﺎﺭ اﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺔ
فصل، صفحة -476،دارالأمانة بيروت)
حضرت ابوبکر کے فضائل میں موضوع احادیث
بعض علماء نے موضوع روایات کو بھی درج کیا ہے ایسے میں تفسیر کبیر میں امام رازی نے بھی انہی روایات کو درج کیا ہے
ان میں سے ایک حدیث ہے جو کہ موضوع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمام لوگوں
کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے جو کچھ
میرے سینہ میں ڈالا ہے وہ سب میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا ہے
(تفسیر کبیر جلد تین صفحہ نمبر 418 مطبوعہ دار الفکر بیروت 1398 ہجری)
ملا علی قاری نے کی کتاب سے صدیق کے بارے میں موضوع روایات
ملا علی قاری نے کی کتاب سے صدیق کے بارے میں موضوع روایات
ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی 1014 ہجری لکھتے ہیں جو جاہل خود کو سنت کی طرف منسوب
کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں یہ حدیثیں وضع کر لی ہیں
اللہ قیامت کے دن لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا
اور حدیث کے جو کچھ اللہ نے میرے سینہ میں ڈالا ہے وہ سب میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا
اور حدیث کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب جنت کا شوق ہوتا وہ ابوبکر کی سفید بالوں کو بوسہ دیتے
اور حدیث کہ میں اور ابوبکر گڑ دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح ہیں
یہ ضرب المثل ہے اس کا معنی ہے دونوں مساوی ہیں
اور حدیث کہ جب اللہ نے روحوں کو پسند کیا تو ابوبکر کی روح کو پسند کیا
ان تمام حوالوں کو ان روایات کو علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے تبیان القران جلد تین صفحہ نمبر 219 پر درج کیا ہے
اور اوپر عربی میں ملا علی قاری کی کتاب سے ان حدیث کا حوالہ میں نے بھی یہاں پہ دے دیا ہے
شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا ان موضوع احادیث پر تجزیہ
شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفہ 1052 ہجری ان احادیث کے متعلق لکھتے ہیں
یہ وہ احادیث ہیں جن کو محدثین نے موضوع قرار دیا اسی طرح شیخ مجددین شیرازی نے
سفر السعادہ میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ
ان حدیث کا باطل ہونا بداہت عقل سے معلوم ہے
صدیق کی فضیلت تمام مخلوق پر لازم آنا
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان احادیث سے حضرت ابوبکر کی تمام مخلوق
پر فضیلت لازم آتی ہے جن میں انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں اور حضرت ابوبکر کی سید المرسلین سے
مساوات لازم آتی ہے اگرچہ ان حدیثوں کی تاویل ممتنع نہیں ہے اور حدیث اللہ قیامت کے دن تمام لوگوں کے لیے
عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا اس کو تنزیہ الشریعہ میں حضرت انس سے
روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کو خطیب اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اس کا ضعفاء میں
ذکر کیا ہے ذہبی نے اس کو موضوع کہا ہے اور بعض نے اس کو حسن کہا ہے حاکم نے
اس کو مستدرک میں اور امام غزالی نے احیا العلوم میں درج کیا ہے ۔
(اشعۃ اللمعات،ج4 و 634مطبوعہ تیج کمار،لکھنو)
13 ہجری 22 بائیس جمادی الثانی کو اس دنیا فانی سے رحلت فرما ہوئے
دو سال تین ماہ آپ رضی اللّٰہ عنہ کی حکومت رہی
