حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جسے رسول اللہ نے نکاح میں اپنی دو بیٹیاں دیں،غزوہ ذات الرقاع اور غطفان میں مدینہ کے جانشین مقرر ہوئے
وصال نبوی کے بعد بارہ سال تک ان کے مشیر خاص رہے

یعنی عثمان صاحب قمیص ہُدٰی
حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
تصویرِ حیا جامع قرآن ہیں عثمان
کردار میں اللہ کی برہان ہیں عثمان
عثمان غنی کو اصحاب بدر میں کیوں شمارکیاگیا؟
حضرت "عثمان غنی رضی اللہ” بھی "اصحاب بدر” میں سے ہیں
لیکن بنفس نفیس بدرمیں شامل نہیں ہوئے کوئی نئی نسل کا جوان
یہ بات کہہ سکتاہے کہ جب حاضرہی
نہیں ہوئے تو اصحاب بدر میں کیسے سمجھا گیا۔
اس کا جواب یہ ہےکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جنگ میں
شامل ہونا چاہتے تھے لیکن آپ کی بیوی آقا علیہ السلام کی بیٹی
رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں اس کے لیےرسول اللہ کے حکم کے تحت ٹھہر گئے
واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حصے سے آپ کو
مال غنیمت عطافرمایا اور ثواب میں بھی اصحاب بدر والوں میں شامل فرمایا۔
(بخاری، اسدالغابہ،ج 3،ص 482)
اور آپ کا شمار ان دس صحابہ میں ہے جن کو زندگی میں رسول اللہ
نے جنت کی بشارت دی ہے۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب کیاہے؟
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف
آپ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شجرہ نسب عبد مناف پرملتاہے۔
حضرت عثمان کی کنیت کیاہے؟
آپ کی کنیت کے بارے میں دوقول ہیں ایک قول یہ ہےکہ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت
ابوعبداللہ ہے دوسری قول کے مطابق ابوعمرو ہے۔
(اسدالغابہ جلد 3 صفحہ نمبر 480،دارالفکربیروت)
ابوعبداللہ کنیت کے بارے میں یہ بھی لکھاہوا ملتاہے کہ آپ نے یہ کنیت اپنے بیٹے
عبداللہ کے نام پر رکھاہے جو حضرت رقیہ بنت رسول اللہ کے بطن مبارک سے پیداہوئے۔
چھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ہجرت کے چوتھے سال۔(ایضا،ص 482)
اور عمرو بھی آپ کے بیٹےتھے جوکہ ارویٰ بنت کریز سے پیداہوئے۔
حضرت عثمان غنی کس کے ذریعے اسلام لائے؟
ـ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اسلام لانے والوں میں چوتھے نمبر پر تھا۔
اور آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے مشرف بااسلام ہوئے۔
جب آپ رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے اپنی بیٹی رقیہ کا نکاح آپ سے کرایا اور آپ حضرت رقیہ
کے ساتھ حبشہ ہجرت کرگئے۔(اسدالغابہ ایضا صفحہ 481)
جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا تو آقا علیہ السلام نے "ام کلثوم کا نکاح”
آپ سے کرادیا پھر جب ان کی وفات ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسکم نے فرمایا
میرے تیسری بیٹی ہوتی اس کا نکاح بھی آپ سے کردیتا۔(ایضا)
جنگ بدر سے فاتح بن کر رسول اللہ لوٹے تو آپ کی بیٹی وفات پاچکی تھیں۔
جب رسول اللہ نے اعلان نبوت کیا تو اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر 34 سال تھی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کیوں کہا جاتاہے؟
ذوالنورین کے ساتھ آپ مشہور ہوئے اس وجہ سے کہ آپ نے حضور علیہ السلام کی
دوبیٹیوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے شادی کی۔
اور "ذوالنورین”کامطلب ہے "دونوروں والا”
(الاصابه فى تمييز الصحابه،ج٢،ص ٣٤٩)
شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آقا علیہ السلام نے شہادت
کی بھی خبر دی اور خلافت ناچھوڑنے کابھی حکم دیا۔
حدیث شریف ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا عثمان اللہ عزوجل تمہیں ضرور قمیص (خلافت کی)
پہنائے گا اگر منافق لوگ اسے اتارنا چاہیں
تو ہرگز مت اتارنا یہاں تک کہ تمہاری ملاقات مجھ سے ہو، اور ایسا تین مرتبہ فرمایا۔
(مسمد احمد،حدیث نمبر24566)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے باغیوں کا یہی مطالبہ تھا کہ آپ
خلافت چھوڑدیں اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے
آپ خلافت سے دستبردار ناہوئے۔
اور اس حدیث کے مطابق خلافت چھوڑنے کے
مطالبے کرنے والے منافق ثابت ہوئے۔
حضرت عثمان غنی کس سن ہجری کو شھید کئے گئے
آپ رضی اللہ عنہ کو 18 ذوالحج 35ھ کو شھادت کے مرتبے پر فائز
ہوکر خالق حقیقی سے جاملے وہ بھی روزے کی حالت میں اور 82 سال عمر پائی۔
عید غدیر کی حقیقت
ہجرت کے دسویں سال حجۃ الوداع سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے غدیرخم ایک تالاب والی جگہ کے ساتھ قیام فرمایا یہیں آکر حضرت علی بھی آپ
سے آکر ملے جنہیں رسول اللہ نے یمن کی طرف بھیجا تھا وہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں پر کچھ صحابہ نے اعتراض کیا
یہیں پر آکر اس کی اطلاع رسول اللہ کوبھی ملی تو رسول اللہ نے
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اس مقام پر فرمایا
"جس کا میں مولی علی اس کا مولی”
(مفہوم حدیث،ترمذی شریف،حدیث نمبر3713)
جشن خلافت علی رضی اللہ عنہ
روافض حضرات نے اس حدیث سے حضرت علی کی خلافت
مراد لے کر جشن خلافت علی مناتے ہیں اور خلافت کا معنی
وہ لفظ "مولی” سے لیتے ہیں حالاں کہ کسی بھی لغت سے "مولی” کا
معنی خلافت ثابت بھی نہیں ہوتا
اور پھر روافض جشن خلافت علی 18 ذوالحجہ کوہی مناتے ہیں وجہ اس کی یہ
ہےکہ روافض حضرات کا نظریہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک
کو جب جمع فرمایا تو اس میں سے کمی(نعوذباللہ) کرکے وہ سپارے
شامل ہی نہیں کئے جس میں اہل بیت کا تذکرہ تھا
یعنی ان کے نزدیک قرآن پاک میں کمی ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا دائرہ
اسلام سے خارج کروادیتاہے انسان ایمان سے محروم ہوجاتاہے
پھر عثمان غنی سے بغض رکھتے ہوئے وہ اسی دن جشن خلافت علی پر خوشیاں مناتے ہیں۔
زمانہ عثمان غنی میں قرآن کو جمع کرنے کابیان
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا اور یہ اس
نسخے پر کام کیاگیا جس پر حضرت ابوبکر صدیق نے کام کرکے جمع کرکے
بی بی حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمع کروادیا بعد میں
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین
سے یہ نسخہ منگواکر اس کی متعددنقلیں تیار کرواکر مختلف علاقوں
کی طرف بھیج دیا اور یہ حکم دے دیا
کہ پہلے والے نسخوں کے الفاظ دھوکر صفحوں کو جلا ڈالو۔
قرآن کو جمع کیوں کیاگیا
بخاری شریف کی روایت کے مطابق آرمینیا اور آذربائجان
کی طرف جہاد کے لیے حضرت حذیفہ بن
یمان جہاد کرنے کےلیے گئےتھے اور آپ رضی اللہ عنہ
نے وہاں قراءت کے متعلق لوگوں کا اختلاف دیکھا اور اس
اختلاف کی سنجیدگی حضرت عثمان غنی کے گوش گزار کیا
اور عرض کیا "اے امیر المؤمنین اس سے پہلے
کہ یہ امت اپنی کتاب میں یہود و نصارٰی کی طرح مختلف
ہوجائے اس کی کوئی تدبیر کرلیجئے” پھر
حضرت عثمان نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا
کہ حضرت ابوںکر والا نسخہ ہمیں عنایت کریں ہم نقل کرواکر آپ کو واپس بھیج دیں گے۔
حضرت حفصہ نے وہ نسخہ آپ کو بھیج دیااور حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو نقل کرنے پر مامور کردیا
دور عثمان غنی میں قرآن کونقل کرنے والے صحابہ
آپ رضی اللہ عنہ نے ان صحابہ کو نقل کرنے پر مامور کردیا۔
زیدبن ثابت،عبداللہ ابن زبیر،حضرت سعید بن العاص
اور حضرت عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم
اور حضرت عثمان نے قریشیوں کی جماعت
سے کہا کہ جب تمہارا اور زید بن ثابت کا کسی قراءت میں اختلاف
ہوتو اس کو لسان قریش میں لکھنا کیوں
کہ قرآن لسان قریش میں نازل ہوا انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(مفہوم حدیث بخاری شریف،جلد 2،صفحہ نمبر746،مطبوعہ نورمحمد کراچی 1381)
عثمان غنی کے زمانے میں عرب و عجم میں دین کاپھیلنا
عرب و عجم میں جب دین پھیل گیا تو قراءت میں اختلاف شروع ہواجس قرآن
کے تلاوت کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ سات حروف پر نازل ہوا تو جس نے جس حروف پر
پڑھا سیکھا وہ اس کے علاوہ لوگ دوسری قراءت کو سن کر انکار کرنے لگے کہ
جو میں پڑھ رہاہوں وہی صحیح ہے باقی صحیح نہیں ہےمگر یہ کچھ چند
الفاظ میں اختلاف تھا تمام قرآن میں نہیں تو حضرت عثمان نے دوبارہ نقلیں
بنواکر ایک ہی قراءت پر لوگوں کو جمع کروا دیااس کے علاوہ آقا علیہ السلام
کے زمانے میں بھی جمع قرآن پر کام ہوا لیکن اس میں قرآن کے ساتھ ساتھ تفسیر
کوبھی شامل کیاگیا تھا جسے حضرت ابوبکر نےتفسیر کو ختم کرکے
صرف قرآن کوہی لکھواکر پھیلا دیا۔
آقا علیہ السلام کا اپنی شھزادی رقیہ کو عثمان کے بارے میں نصیحت
رسول اللہ نے سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا پیاری بیٹی ابو عبداللہ یعنی عثمان کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کے اخلاق میرے اخلاق کے زیادہ قریب ہیں۔(المعجم الکبیر،رقم الحدیث: 98)
حضرت عثمان کا اپنے حیا کے بارے میں کچھ ارشادات
حیا کی تعریف یہ ہے کہ حیا اس وصف کو کہتے ہیں جو انسان کو برے کاموں اور حق والے کے حق میں کمی کرنے سے روک دیتا ہے۔(المناک شرح صحیح مسلم/2/6)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہ تو میں نے دور جاہلیت میں کبھی بدکاری کی نہ ہی اسلام لانے کے بعد میرے کردار پر کوئی دھبا لگا۔(ابوداؤد رقم الحدیث:4502)
فرمایا قسم با خدا میرے دامن پر کبھی بھی کسی شخص کے قتل ناحق کا داغ نہیں لگا۔(ترمذی رقم الحدیث:2158)
فرمایا نہ میں نے کبھی گانا گایا ہے نہ ہی کبھی جھوٹ بولا ہے۔(امن ابن ماجہ رقم الحدیث:311)
فرمایا دور جاہلیت میں بھی شراب کے قریب نہیں گیا اور اسلام کے بعد بھی اللہ تعالی نے اس سے مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔(مسند البراز رقم الحدیث:448)
فرمایا نہ میں نے کبھی دور جاہلیت میں چوری کی تھی نہ ہی اسلام لانے کے بعد کبھی اس بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔(البدایہ والنہایہ جلد سات صفحہ نمبر 203)
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیعت کرتے ہوئے مجھے اپنا دایاں ہاتھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک میں رکھنے کا شرف ملا اس کے بعد کبھی بھی میں نے یہ ہاتھ اپنے شرم گاہ کو نہیں لگایا۔
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:311)
حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے خلاف سازشوں کا پس منظر
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت بھی امن و سکون سے گزر رہا تھا کسی کو کوئی شکایت نہ تھی پھر اچانک سرزمین کوفہ میں نو دس لوگوں کا سازشی گروہ پیدا ہوا۔ (الطبری جلد 4/323)
سازشیوں نے اپنی سرگرمیوں کو کوفہ سے آگے بڑھایا تو کوفہ کے عامل کو پتہ چل گیا انہوں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا کہ کچھ لوگ میری اور آپ
کی عیب گیری کرتے ہیں اور ہمارے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں مجھے ڈر ہے ان کی سرگرمیاں جاری رہیں تو ان کی کثرت ہو جائے گی۔(ایضا)
کوفہ کے گورنر کو عثمان غنی کا جوابی خط
جواب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ ان کو حضرت امیر معاویہ کے پاس شام بھیج دو اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ کچھ لوگ تمہارے
پاس آرہے ہیں جو صرف فتنہ کے لیے پیدا ہوئے انہیں سمجھاؤ اور نگرانی کرو بھلائی کی امید دیکھو تو رکھو وگرنہ واپس بھیج دو
وہ نہ سمجھے اور حضرت امیر معاویہ نے ان کو واپس بھیج دیا۔(الطبری جلد4/318)
سازشیوں کو حمص کے گورنر عبد الرحمٰن بن خالد بن ولید کے پاس بھیجنا
اور پھر ان کو حمص میں عبدالرحمن ابن خالد بن ولید کے پاس بھیجا گیا انہوں نے کئی مہینے اپنے پاس رکھ کر سمجھایا وقتی طور پر توبہ کر لی پھر اشترنخعی
حضرت عثمان کے پاس اپنے ساتھیوں کی طرف سے نمائندہ بن کرگیا معافی طلب کی انہیں معافی ملی اور انہیں کھلی اجازت ملی کہ جہاں چاہیں رہیں۔(الطبری 4/321/322)
یہ تمام 33 ہجری کی سال کے واقعات ہیں پھر 34 ہجری میں عبداللہ ابن سبا نے اس مہم کو تیز کیا اپنے ساتھیوں کو اپنے اپنے علاقے کے عاملوں پر طعن و
تشنیع کے احکام جاری کیے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے داعی بن کر عوام میں ابھر کر سامنے آئے اور 35 ہجری میں جا کر یہ سرگرمیاں اور بھی تیز تر ہوئیں۔(الطبری 4ھ کے واقعات)
