دوسری ہجری کے غزوات کی بحوالہ تفصیل
دوسری ہجری کے غزوات کی بحوالہ تفصیل

پہلی ہجری کے غزوات پر مشتمل ایک تحریر ویب سائٹ پر موجود ہے آپ احباب اس کو مطالعہ کر سکتے ہیں
اس تحریر میں ہم دوسری ہجری کے غزوات کی بحوالہ تفصیل کو بیان کریں گے
اکثریتی طور پر الرحیق المختوم سے پیش کیا گیاہے تحریر کو تحریر میں کوئی ابہام محسوس ہوتو سیرت
کی کتابوں کی طرف رجوع کریں گے تفصیل کے ساتھ ملے گا
کوشش کی ہے کہ کوئی ابہام نہ رہے
دوسری ہجری کے غزوات کے نام
1 غزوہ ابواء یا ودان
2 غزوہ بواط
3 غزوہ صفوان
4 غزوه ذی العشیرہ اس پر مکمل تحریر ویب سائیٹ پر موجود ہے مطالعہ کریں
5 سریہ نخلہ 6 غزوہِ بنی سُلیم7 غزوہِ بنی قینقاع 8 غزوہ سویق9 سریہ زید بن حارثہ
دوسری ہجری کے غزوات کے وقوع ہونے کے مہینے اور تاریخ
غزوہ ودان صفر کے مہینے ہجرت کے دوسرے سال اور اگست 623 عیسوی میں وقوع پذیر ہوا
اور غزوہ بواط ربیع الاول دو ہجری ستمبر623 عیسوی میں وقوع پذیر ہوا
اور غزوہ سفوان ربیع الاول دو ہجری ستمبر 623 عیسوی میں وقوع پذیر ہوا
اور غزوہ ذی العشیرہ جمادی الاولی اور جمادی الاخرہ دو ہجری نومبر دسمبر 623 عیسوی میں وقوع پذیر ہوا
سریہ نخلہ جس کا دوسرا نام سریہ عبداللہ ابن جحش بھی ہے رجب دو ہجری جنوری 624 عیسوی میں وقوع پذیر ہوا
جنگ بدر کی تفصیل مطالعہ کریں
غزوہ بنو سلیم شوال کے مہینے میں وقوع پذیر ہوا اور یہ بدر سے واپسی کے صرف سات دن بعد پیش آیا
غزوہ بنو قینقاع 2 ہجری دن جمعہ 15 شوال سے ذی قعدہ کے چاند نکلنے تک محاصرہ کرکے رسول اللہ واپس ہوئے ۔
کس اسلامی مہینے میں غزوہ سویق پیش آیا
ہجرت کے دوسرے سال اسلامی مہینے کابارہواں مہینہ ذی الحجہ کے اندر جنگ بدر کے دو ماہ بعد پیش آیا
غزوات میں سربراہان کے نام
دوسری ہجری کے ان غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود شریک ہوئے
غزوہ ودان یا ابواء
غزوہ بواط
غزوہِ سفوان
ذی العشیرہ
غزوہ بنی سلیم
غزوہ بنو قینقاع
غزوہ سویق
سریہ عبد اللہ ابن جحش یعنی سریہ نخلہ میں اسی صحابی کو روانہ فرمایا
مدینہ کے امیر
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود کسی معاملے میں مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو پیچھے اپنا کوئی
نائب مقرر کر کے جاتے ایسے ہی ان تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی پیچھے نائب
مقرر کیا غزوہ ودان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم 15 دن مدینے سے باہر گزار کر واپس آئے اور اس
غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنا قائم مقام حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرما دیا
اور غزوہ بواط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب مہم کے لیے روانہ ہوئے تو پیچھے حضور علیہ
الصلوۃ والسلام نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو مدینے کا امیر بنایا
اور غزوہ سفوان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
مدینے کا امیر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا
اور غزوہ بنو سلیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینے کا
انتظام حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ یا سباع بن عرفطہ
کو سونپا اور اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تین روز قیام کرکے واپس ہوئے۔
غزوہ بنو قینقاع میں مدینے کا انتظام حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا
غزوہ سویق میں مدینے کا انتظام حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کو سونپا گیا ۔
غزوات کے علم یعنی جھنڈوں کا رنگ
سریہ عبد اللہ ابن جحش کے علاوہ سب غزوات کے جھنڈوں کا رنگ سفید ہی تھا
سریہ نخلہ کے علم کے متعلق فی الحال معلوم نہ ہوسکا کہ جھنڈے کا رنگ کیاتھا۔
ایسے ہی غزوہ بنی قینقاع اور سویق کا بھی معلوم نہ ہوسکا ۔
غزوات میں تعداد لشکر اور علمبرداروں کا بیان
غزوہ ابواء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم 70
مہاجرین کے ہمراہ تشریف لے گئے تھے یعنی اس غزوہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام کی
تعداد 70 تھی البتہ کوئی لڑائی کا معاملہ پیش
نہیں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عمر بن مخشی الضمری سے خلیفانہ معاہدہ کیا
البتہ اس جنگ میں علم بردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے
غزوہ بواط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہمراہ 200 صحابہ کرام تھے
اس غزوہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ لڑائی کا کوئی معاملہ پیش نہ آیا
اس غزوہ میں علم بردار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔
غزوه سفوان کے وقوع کی وجہ
کرز بن جابرفہری نے مشرکین کی ایک مختصر فوج کے ساتھ مدینہ
کے چراگاہ پر چھاپہ مارا اور کچھ مویشی لوٹ
لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے 70 صحابہ کرام کے ہمراہ ان کا تعاقب کیا اور
بغیر کسی ٹکراؤ کے واپس آگئے اس غزوہ میں علمبردار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے
غزوہ عبداللہ ابن جحش میں تعداد لشکر
حضرت عبداللہ ابن جحش رضی اللہ عنہ کے سربراہی میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے 12 مہاجرین کا
ایک دستہ نخلہ کے مقام کی طرف روانہ فرمایا اور حضرت عبداللہ
ابن جعفر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک خط بھی تھما دی اور فرمایا کہ دو دن سفر کرنے کے بعد اس
خط کو کھولنا جب حضرت عبداللہ ابن جحش نے اس خط کو کھولا تو اس میں درج تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر اترو
وہاں قریش کے ایک قافلے کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے خبر لاؤ”
حضرت عبداللہ ابن جحش خط پڑھنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوئے کہ جس نے واپس جانا ہے وہ
واپس چلا جائے اور جس نے میرے ساتھ جانا ہے وہ میرے ساتھ چلے
حضرت عبداللہ ابن جحش رضی اللہ عنہ
جب اپنے منزل مقصود پر پہنچے تو وہاں ایک قافلہ گزرا قریش کا،
جس میں کشمش چمڑے اور سامان تجارت تھا
اور قافلے میں عبداللہ ابن مغیرہ کے دو بیٹے عثمان اور نوفل اور
عمر بن حضرمی اور حکیم بن کیسان تھے
مسلمانوں نے باہم مشورہ کیا کہ آخر کیا کریں آج حرام
مہینے رجب المرجب کا آخری دن ہے اگر ہم لڑائی کرتے
ہیں تو حرام مہینے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور اگر
ساری رات رک جاتے ہیں تاکہ یہ مہینہ ختم ہو جائے گا تو
یہ لوگ حدود حرم میں داخل ہو جائیں گے جہاں ہمارا
حملہ کرنا مشکل ہو جائے گا چنانچہ طئے ہوا کہ اب حملہ
کرنا چاہیے تو ایک شخص نے عمروبن حضرمی کو تیر
مارا اور اس کا کام تمام کر دیا اور باقی لوگوں نے عثمان
اور حکیم کو گرفتار کر لیا البتہ اس میں نوفل بھاگ
گیا اس کے بعد یہ لوگ دونوں قیدیوں اور سامان قافلہ کو لیے
ہوئے مدینہ پہنچے انہوں نے مال غنیمت سے خمس
بھی نکال لیا تھا یہ تاریخ اسلام کا پہلا خمس پہلا مقتول اور
پہلے قیدی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
حضرت عبداللہ ابن جحش اور ان کے ساتھیوں سے
بازپرس کی (پوچھ گچھ کی)اور فرمایا کہ میں نے
تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور سامان قافلہ اور
قیدیوں کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا تھا
اس واقعے پر مشرکین کو پروپیگنڈا ہاتھ میں آگیا اور
انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے حرام مہینے
کی بے حرمتی کی اور رب تعالی نے سورۃ البقرہ آیت
نمبر 217 میں کفار کی پروپیگنڈا کی قلعی کھول دی
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دونوں قیدیوں کو آزاد
کر دیا اور مقتول کے اولیاء کو اس کا خون بہا ادا کر دیا۔
(الرحیق المختوم صفحہ نمبر 271تا275)
اس کے بعد جنگ بدر وقوع پذیر ہوا جس میں سب سے پہلے مشرکین کرز بن جابر فہری نے
مسلمانوں پر شب خون مارا بعد میں مسلمانوں نے ان پر حملہ
کیا تو کفار قریش تیش میں آگئے بدلے کی آگ میں
جلنے لگے اور قافلے والے راستے بھی غیر محفوظ ہوگئے کہ
اب مسلمان کسی حال میں نہیں چھوڑیں گے لہذا سخت حملہ کرکے ابھی سے ہی دبا دیاجائے
اس ضمن میں جہاد بھی فرض ہوگیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
دوسری ہجری کے غزوات میں سے ایک غزوہ
جنگ بدر پر تحریر ویب سائیٹ پر ہے مطالعہ کریں
غزوہ بنو سلیم میں مسلمانوں کی تعداد
غزوہ سلیم میں رسول اللہ 200 صحابہ کرام کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔
غزوه بنو سلیم کے وقوع ہونے کا سبب
بدر کے شکست کے بعد کفار مشرکین یہود مدینہ منافقین اور اطراف کے
دیہاتی مسلمانوں کے دشمن بن گئے ہر کوئی علیحدہ طور پر حملے کے درپئے تھا
ایسے میں جنگ بدر کے بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ غطفان کی شاخ بنو سلیم مدینہ پر چڑھائی
کے لیے فوج جمع کررہی ہے تو ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے قبیلے میں جاکر حملہ کیا
اور وہ سارے بھاگ نکلے اپنے پانچ سو 500 اونٹ چھوڑ کر، جوکہ مال غنیمت
میں شامل ہوکر ہر صحابی کو دودو اونٹ حصے میں آئے خمس نکالنے کے بعد اس غزوہ
میں ایک غلام ہاتھ آیا جسے آقاعلیہ السلام نے آزاد کردیا اور بنو سلیم کُد٘ر کے علاقے میں رہتے تھے ۔
غزوہ بنی قینقاع کے وقوع سے پہلے کے حالات
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے مدینہ
ہجرت کر کے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے یہود مدینہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کی تفسیر کتب سیرت میں درج ہے
جنگ بدر میں کفار کو شکست دینے کے بعد یہود مدینہ نے مل کے مسلمانوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنگ بدر کے بعد
جب مدینہ منورہ لوٹے تو تمام یہودیوں کو جمع کر کے کفار
قریش جیسی عاقبت سے ڈرایا تو الٹا یہود نصیحت
پکڑنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے ڈٹ گئے جس کی
ایک جھلک ابو داؤد شریف کی ایک حدیث سے ملتا ہے
لیکن اس سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
بنو قینقاع کو بازار میں جمع کیا اور جب بنو قینقاع سے مخاطب ہوئے
تو رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے
جماعت یہود اس سے پہلے اسلام قبول کر لو کہ کہیں ایسا نہ ہو تم
پر بھی ویسی ہی مار پڑے جیسی قریش پر پڑ چکی
ہے تو انہوں نے کہا کہ اے محمد تمہیں اس بنا پر خود فریبی
میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ تمہاری مڈ بھیڑ قریش کے اناڑی اور نہ آشنائے جنگ لوگوں سے ہوئی اور تم نے
انہیں مار لیا اگر تمہاری لڑائی ہم سے ہو گئی تو پتہ چلے گا کہ
ہم مرد ہیں اور ہمارے جیسے لوگوں سے تمہیں پالا
نہ پڑا تھا اس کے جواب میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید
سورہ آل عمران کی آیت نمبر 12/13 نازل فرمائی۔
بنو قینقاع کی افرادی قوت
بنو قینقاع کی افرادی قوت 700 تھی اور وہ مدینے کےسب سے بہادر
یہودی تھے انہوں نے ہی سب سے پہلے عہد شکنی کی۔
بنو قینقاع کی شیطانیاں
اوس و خزرج قبیلے سے کچھ افراد مسلمان ہوئے جنگ
بدر میں شکست کے بعد چونکہ یہود مسلمانوں کے خلاف
لگے ہوئے تھے تو اس طرح اوس و خزرج کے مسلمان
آپس میں بیٹھے ہوئے دوستوں کی طرح مجلس کر رہے
تھے تو اتنے میں ایک یہودی ان کے پاس سے گزرا اور
وہ بھی شیطانی کے کاموں میں مصروف عمل تھا تو
انہوں نے منصوبہ سوچا اور ان کے درمیان میں اپنا
ایک بندہ بھیج کر ان کو ایک دوسرے کے مقابل کر دیا کیونکہ
جاہلیت کے زمانے میں یہ دونوں گروہ جنگ بعاث کی صورت میں ایک
دوسرے کے مقابل تھے تو اس آنے والے نے ان کے
درمیان آکر پرانے جنگوں کے کچھ اشعار اور کچھ
باتیں ذکر کیں تو یہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابل
ہوئے اور یہاں تک کہ مقام حرہ کی طرف جنگ کرنے کے لیے نکل پڑے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجر اصحابہ کے ساتھ ان کے درمیان میں آگئے
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے
مسلمانوں کی جماعت اللہ اللہ کیا میرے رہتے ہوئے جاہلیت
کی پکار اور وہ بھی اس کے بعد کہ اللہ تمہیں اسلام
کی ہدایت سے سرفراز فرما چکا اور اس کے ذریعے تم سے
جاہلیت کا معاملہ کاٹ کر اور تمہیں کفر سے نجات دے کر تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ چکا ہے
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نصیحت سن کر
صحابہ کو احساس ہوا کہ ان کی حرکت شیطان کا ایک جھٹکا اور
دشمن کی ایک چال تھی چنانچہ وہ رونے لگے اور اوس
و خزرج کے لوگ ایک دوسرے سے گلے ملے تو اس
طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس یہود
دشمن شاش بن قیس کی عیاری کو ظاہر کر دیا اور وہ
جس طرح ان لوگوں کے درمیان ہنگامہ برپا کرنا چاہتا
تھا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے ٹھنڈا کر دیا۔(ابن ہشام جلد اول صفحہ نمبر 555/556)
اتنے پر یہودیوں نے بس نہیں کیا یہاں تک کہ بازار کے
اندر وہ مسلمان عورتوں کو بھی تنگ کرنے لگے
بنو قینقاع کا بازار میں مسلمان عورتوں کو تنگ کرنا
ایک مسلمان عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ
سامان لے کر آئی اور بیچ کر کسی ضرورت کے لیے ایک سنار
کے پاس بیٹھ گئی جو کہ یہودی تھا تو اطراف سے
آکر یہودیوں نے مسلمان عورت کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس
نے انکار کر دیا تو چپکے سے یہودی نے اس کے کپڑے کا نچلا کنارہ پچھلی طرف باندھ دیا اور اسے کچھ
خبر نہ ہوئی تو جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہو
گئی تو اس نے چیخ و پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان
نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مار ڈالا جوابا یہودیوں
نے اس مسلمان پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا اس کے بعد
مقتول مسلمان کے گھر والوں نے شور مچایا اور یہود کے
خلاف مسلمانوں سے فریاد کی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اور
بنو قینقاع یہودیوں میں بلوہ ہو گیا۔(ابن ہشام جلد 2 صفحہ نمبر 47/48)
یھود کی جلاوطنی
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے
یہود نے ہتھیار ڈالے اس شرط پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم ان کی جان مال اور اولاد اور عورتوں کے
بارے میں جو فیصلہ کریں گے انہیں منظور ہوگا اس کے
بعد حضور علیہ السلام نے سب کو باندھ دیا اس
درمیان میں عبداللہ ابن ابی نے اپنا منافقانہ کردار ادا کیا جو کہ
تازہ مسلمان ہوا تھا یھود پر احسان کی سفارش کی تو حضور علیہ السلام نے رخ انور پھیرا تو دوسری طرف
سے آکر آپ علیہ السلام کا گریبان پکڑا تو حضور اسپر غضب ناک ہوئے اور فرمایا مجھے چھوڑ تو اس نے کہا
جب تک احسان نہیں کریں گے نہیں چھوڑوں گا بالآخر
رسول اللہ نے سب کی جان بخشی کی لیکن سب کو جلا
وطن کردیا کہ میرے پڑوس مدینہ میں کوئی نہ رہے
پھر سب شام کو چلے گئے تھوڑے عرصے بعد سب مرگئے۔
بنو قینقاع سے ملی ہوئی غنیمت
رسول اللّٰہ نے سب اموال قبضے میں لیے جس میں سے
تین کمانیں دو زرہیں تین تلوار اور تین نیزے اپنے منتخب
کئے اور خمس بھی نکال لی غنیمت کی مال سے۔( زادالمعاد جلد دوئم صفحہ نمبر 71/91)
غزوہ سویق اور ابو سفیان کا حملہ
دوسری ہجری کے غزوات میں سے ایک غزوہ غزوہ سویق بھی ہے اس غزوے کی
سربراہی کفار قریش کی طرف سے ابو سفیان کر رہے تھے
چونکہ ابو سفیان جنگ بدر کے بڑے سرداروں کے قتل ہونے کے بعد
کفار قریش کا سردار بنا اس وجہ سے وہ کوئی کاروائی کر کے اپنی خفت کو مٹانا چاہتا تھا
بطور سردار اس کے لیے یہ کام بہت ضروری تھا
اور جنگ بدر میں شکست کے بعد ابو سفیان نے قسم
کھائی تھی کہ جب تک میں اپنے قوم کا بدلہ نہ لوں تب
تک میں جنابت کا غسل نہیں کروں گا چنانچہ جلدی
میں وہ کوئی بدلہ لے کر اپنے قسم کو پورا بھی کرنا چاہتا تھا
غزوہ سویق میں کفار قریش کے لشکر کی تعداد
چنانچہ ابو سفیان 200 شتر سواروں کو لے کر روانہ ہوا اور وادی قناۃ کے سرے پر
واقع نیب نامی ایک پہاڑی کے نزدیک خیمہ زن ہوا
وہ اندھیری رات میں مدینہ کے اندر داخل ہوا اور
حیی ابن احطب کے پاس جا کر اس سے دروازہ کھلوایا
اس نے انجام کے خوف سے ابو سفیان کی کوئی مدد
نہیں کی اس کے بعد ابو سفیان بنونضیر کے ایک خزانچی کے
پاس گیا جس کا نام سلام بن مشکم تھا اس نے
ابو سفیان کے لیے اپنے گھر کا دروازہ بھی کھولا اور اس کی
مہمان نوازی کی اسے شراب بھی پلایا اس کے بعد ابو سفیان اپنے دستہ کے پاس پہنچا اور اطراف مدینہ میں
عریض نامی ایک مقام پر اپنے دستے کے ذریعے حملہ کرا دیا اس دستے نے وہاں
کھجور کے کچھ درخت کاٹے اور جلائے ایک
انصاری کو کھیت میں قتل بھی کر دیا اور تیزی سے مکہ واپس بھاگ نکلا
غزوہ سویق کے موقع پر ابوسفیان کا بھاگتے ہوئے سامان پھینکنا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس
واردات کی خبر ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا
پیچھا کیا اور وہ اس تیز رفتاری کے ساتھ بھاگے کہ دستیاب نہ ہوئے لیکن انہوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے
ستو اور بہت سازو سامان پھینک دیا جو مسلمانوں کے ہاتھ لگا البتہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کرکرۃ القدر تک تعاقب کر کے واپس آگئے ۔
غزوہ سویق کو سویق کا نام کیوں دیاگیا
غزوہ سویق کو سویق اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں
کفار قریش یعنی ابو سفیان نے ستو پھینک دیا تھا جو کہ
اپنے لشکر کے خوراک کے لیے لایا تھا عربی میں سویق
ستو کو کہتے ہیں اس وجہ سے اس جنگ کا نام سویق مشہور ہوا ۔
(الرحیق المختوم:صفحہ نمبر 330)
