جوئے کی تعریف اور اس کے حرام ہونے کا بیان
اس تحریر میں ہم جوئے کی تعریف اور اس کے حرام ہونے کا بیان پر لکھیں گے
عربی میں جوئے کے لیے دو نام یا دو لفظ آئے ہیں میسر اور قمار
میسر کا لفظی معنی
میسر کا لفظ یسر سے بنا ہے جس کا معنی ہے آسانی چونکہ جوئے میں جیتنے والا آسانی سے رقم حاصل کر لیتا ہے اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں۔
جوئے کی تعریف
ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مغلوب کی کوئی چیز غالب کو دے دی جائے گی قمار ہے۔(التعریفات،ص77)
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں قمار قمر سے ماخوذ ہے جو کبھی کم ہوتا ہے کبھی زیادہ اور جوئے کو قمار
اس لیے کہتے ہیں کہ جوا کھیلنے والوں میں سے ہر ایک اپنا مال اپنے ساتھی کو دینے اور اپنے ساتھی کا مال لینے
کو شرط کے ساتھ جائز سمجھتا ہے اور یہ نص قرآن سے حرام ہے اور اگر صرف ایک جانب سے شرط لگائی جائے تو جائز ہے۔
(ردالمحتارج5 ص 258)
جوا پر عدم جواز کا فتویٰ
علامہ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں: اہل علم کا قمار کے عدم جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور باہم شرط لگانا
بھی قمار ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آپس میں شرط لگانا قمار ہے زمانہ جاہلیت میں
لوگ اپنے مال اور بیوی کی شرط لگاتے تھے پہلے یہ مباح تھا بعد میں اس کی تحریم (حرمت) نازل ہو گئی جب
سورہ روم نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر نے رومیوں کے ایرانیوں سے غالب ہونے پر مشرکین سے شرط لگائی
تھی نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا شرط میں زیادتی کرو اور مدت بڑھا دو پھر بعد میں اس سے منع
فرمایا اور قمار کی حرمت نازل ہو گئی اس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ شتر سواری گھڑسواری
اور نیزہ بازی کی سابقیت کی شرط لگانے کی رخصت ہے بلکہ سب سے آگے نکلنے والے کو انعام دیا جائے
اور پیچھے رہ جانے والے کو نہ دیا جائے اور اگر یہ شرط لگائی جائے کہ دونوں میں سے جو آگے نکل جائے
گا وہ لے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ دے گا تو یہ ناجائز ہے اور اگر وہ کسی تیسرے شخص کو داخل کر
دیں کہ اگر وہ آگے نکل گیا تو لے گا اور اگر پیچھے رہ گیا تو کچھ نہیں دے گا یہ جائز ہے اس دخیل کو نبی صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے حلال فرمایا ہے. (احکام القران جلد اول صفحہ نمبر 329)
ایپس اور ویب سائیٹس پر جوئے کا رجحان
آج کل ٹیکنالوجی کے دور میں ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے جوے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس میں لوگ
پیسہ لگاتے ہیں یا تو کماتے ہیں یا اپنا پیسہ برباد کر دیتے ہیں اور یہ شرط بھی ایک ہی طرف سے ہے یا تو کمپنی
ویب سائٹ کا مالک یا ایپلیکیشن چلانے والی کمپنی پیسے لے جاتا ہے یا اگلے کو پیسے دے دیتا ہے
ان کے درمیان میں تیسرا کوئی نہیں ہوتا
ایسے میں لوگ کرکٹ وغیرہ پر جوا کرتے ہیں ہم جیتے تو تم بوتل پلانا سب کو تم جیتے تو ہم تم سب کو بوتل پلائیں گے
اسی طرح ہر گیم جو جوئے پر مشتمل ہے اس کا یہی حکم ہے
کوئی بھی ویب سائیٹ یا ایپ خود سے نہیں چلتا اس کو چلانے والے پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں سارا سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں
اور اس ضمن میں وہ اپنا نقصان کبھی بھی نہیں کرتے اگلے کا ہی نقصان کرتے ہیں
تھوڑا بہت کسی نہ کسی کو پیسے دیتے بھی ہیں اگر نادیں تو ان کے ویب سائیٹ اور ایپ پر کوئی آئے گا بھی نہیں
پہلے وہ بہت بڑا پیسہ انویسٹ کرتے ہیں بونس دیتے ہیں ریفرل پر انعام کا لالچ دیتے ہیں
شروع میں ہر کوئی جیتتا ہے یا اکثریت منافع میں کماتے ہیں تو وہ دوسروں کو مشہورہ دیتے ہیں
ایسے میں ایپ یا ویب سائیٹ اسی لحاظ سے اپنا مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو لوٹنا شروع کرتے ہیں
پھر تمام شرعی تقاضوں کو روند کر صرف پیسے کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں
یہ تھا جوئے کی تعریف اور اس کے حرام ہونے کا بیان ۔
