حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت جنگ احدکےموقع پرہوئی اورآپ
کو وحشی نےشہید کیاکہ وہ آزادہوجائےگااورآزادی کےلئےوہ یہ کام کرگزرےاورہندبھی اپنےبھائی
کےبدلےکےدرپےتھےاسلام سےپہلےتواس نےبھی وحشی کوانعامات سے نوازاجیسےکہ تفصیل
نیچےآرہاہے اور ایسے میں بدلے کی آگ کی وجہ سے حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہوئی۔

نبوت کے چھٹے سال آپ رضی اللہ عنہ ایمان لائے
ایک روایت کے مطابق نبوت کےچھٹےسال آپ ایمان لائے۔
آقا علیہ السلام کے رضاعی بھائی
آپ رضی اللہ عنہ آقا علیہ السلام کے رضاعی بھائی بھی ہیں آقاعلیہ السلام
نے حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہ کا دودھ
پیا اورحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نےبھی پیا اس لحاظ سے حضرت امیر حمزہ
آقاعلیہ الصلوۃ والسلام کے رضاعی بھائی بھی ہیں اور چچابھی ہیں۔
ابوجہل لعین سے حضرت امیر حمزہ نے حضور کا بدلہ لیا
ایک روایت میں آتاہےکہ ایک دن ابوجہل لعین نے آقاعلیہ الصلوۃ والسلام کوبہت گالیاں
اورایذاء(نعوذباللہ)دیں تو حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ شکارسےواپس ہوئے کعبہ
کے طواف کےدوران آپ کواس کی اطلاع ملی(یہ اطلاع دینےوالی ابن جدعان کی
لونڈی اوران کی بہن بی بی صفیہ رضی اللہ عنہانےدی۔
(شرح الزرقانی علی المواہب،اسلام حمزۃ رضی اللہ عنہ)
تو آپ رضی اللہ عنہ ابوجہل کےپاس گئےاورکمان اس کےسرپردےمارااورسرپھٹ گیا۔
تو حضرت امیر حمزہ رضی اللہ
عنہ نےفرمایاتو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتااورایذاء پہنچاتاہےحالاں کہ
میں ان کے دین پرہوں اس کےبعد آقا علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور ایمان لائے۔(مدارج النبوت)
شہادت حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ
جنگ احد میں حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ انتہائی جوش جہاد میں
دو دستی تلوار مارتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔
اسی حالت میں "سباع غبشانی” سامنے آ گیا آپ نے تڑپ کر فرمایا کہ اے عورتوں کاختنہ کرنے والی عورت کے
بچے! ٹھہر، کہاں جاتا ہے؟ تو ﷲ و رسول سے جنگ کرنے چلا آیا ہے۔یہ کہہ کر اس پر تلوار چلا دی،اور وہ دو ٹکڑے ہو کر
زمین پر ڈھیر ہو گیا۔(۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،حدیث،4072)
وحشی کا امیر حمزہ رضہ اللہ عنہ کے قتل کے در پے ہونا
یہیں اسی مقام کےآس پاس وحشی چھپابیٹھاتھاحضرت امیرحمزہ کوقتل کرنےکےلئےجیسے ہی وہ ان
کےنشانےپرآئےنیزہ پھینک کرماردیااورنیزہ آپ کےناف کولگااورآرپارہوگیا۔
وحشی نےامیرحمزہ کوکیوں قتل کیا؟
اوراس شخص نےآپ رضی اللہ عنہ کوکیوں قتل کیاتومزیدتفصیل کچھ اس طرح ہے
"وحشی” جو ایک حبشی غلام تھااور اس کا آقا جبیر بن مطعم اس سے وعدہ کر چکا تھاکہ
تو اگر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے تومیں تجھ کو آزاد کر دوں گا۔
اس کےبعد جوہواوہ ہم نےپہلےبیان کردیاہے
ہند کا وحشی کو انعام دینا
جب شہداءزمین پرپڑےتھےاس وقت کفارکی تمام عورتیں لاشوں کی بےحرمتی میں
مصروف عمل تھیں انہیں میں سےہندہ زوجہ ابوسفیان بھی تھیں
انہوں نےحضرت امیرحمزہ کاسینہ چیرااورجگرنکال کرچباڈالااور اس وقت آپ
حالت کفرمیں تھیں فتح مکہ کےوقت آپ ایمان لاکرمسلمان ہوگئیں۔
ہند کا وحشی کو انعام
مدارج النبوت میں ہےکہ ہندنے وحشی کوکہاامیرحمزہ کےقتل پرمیں بھی تمہیں انعام دوں
گی تواس نےامیرحمزہ رضی اللہ عنہ کوقتل کرکےسینہ چیرکرجگرنکال کرہندہ کےپاس
لےکرگئےاوراس نےچباکرپھینک دیااس وقت ہندنے وحشی کواپنےزیوراورتمام سوناچاندی
دےدیااورکہاکہ جب مکہ پہنچوں گی توتجھےدس سرخ سونےکی اشرفیاں دوں گی۔
اور یہ وحشی بھی مسلمان ہوگیایہاں تک کہ حضرت ابوبکرکےخلافت کےزمانےمیں مسیلمہ کذاب کوحضرت
وحشی ہی نےجہنم واصل کیااسی نیزےسےجس سے اس نے امیرحمزہ رضٰی اللہ عنہ کو شہیدکیاتھا۔
