حضرت طلحہ بن عبیداللہ
- فہرست مضمون
- طلحہ بن عبیداللہ کا لقب کیاہے؟
- طلحہ بن عبیداللہ کا مزید تعارف
- حضرت طلحہ کی والدہ کا کیانام ہے؟
- حضرت طلحہ رضی اللہ کے اسلام لانے کا سبب کیابنا؟
- حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی وفات کب ہوئی
- طلحہ بن عبیداللہ کو بدری صحابہ میں کیوں شمارکیاجاتاہے؟
حضرت طلحہ بن عبیداللہ آپ رضی اللہ عنہ کو بدری صحابہ میں شامل کیاجاتاہے حالاں کہ آپ بدر میں شامل
نہیں ہوئے آپ کو رسول اللہ نے ملک شام کےراستے پر جاسوسی کےلیے بھیجاتھا جس کے درمیان میں بدر کا
وقوع پذیرہوچکاتھا واپسی پر رسول اللہ نے آپ کو حصہ بھی دیااور آپ کواجروثواب میں شامل فرمایا
آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرۃ ابن کعب بن لؤی بن غالب القرشی تیمی۔
طلحہ بن عبیداللہ کا لقب کیاہے؟
حضرت طلحہ بن عبیداللہ کا لقب ابومحمد ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ کا مزید تعارف
آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں جنہیں دنیامیں جنت کی خوشخبری ملی،آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان 8 افراد میں
سے بھی ہے جنہوں نے اسلام لانے میں سبقت کی۔اور ان 5 افراد میں سے بھی ہے جنہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ
کے دست اقدس پر ایمان لانا نصیب ہوا۔اور آپ رضی اللہ عنہ کا شمار 6 اصحاب شوری میں بھی ہے۔
حضرت طلحہ کی والدہ کا کیانام ہے؟
آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کانام صعبہ بنت الحضرمی یمنی ہے۔
حضرت طلحہ رضی اللہ کے اسلام لانے کا سبب کیابنا؟
آپ رضی اللہ عنہ خودفرماتے ہیں ایک بار بصرہ کے بازار میں حاضرہوا وہاں کھڑے ایک راہب پوچھ رہےتھے کہ تم
میں کوئی اہل حرم میں سے ہے؟ میں نے بتایا میں حرم سےہوں تو اس نے پوچھا کیا احمدکاظہورہواہے
میں نے کہا کون محمد؟ جواب دیاکہ عبداللہ ابن عبدالمطلب کا بیٹا اور وہ آخری نبی ہیں۔ حرم سے نکالے جائیں گے مدینے کی طرف ہجرت کریں گے۔تجھ پر لازم
ہےکہ تو ایمان لانے میں جلدی کرے۔فرماتےہیں راہب کی بات میرےدل کولگی اور میں نے کوئی نشانی پوچھی اس نے کہاوہ امین کے لقب سے مشہور ہوگا۔
فرماتے ہیں میں بصرہ سے جلدی نکلا مکہ پہنچا ابوبکر کو ڈھونڈھا یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچا اور ان کےساتھ آقا علیہ السلام کے بارگاہ میں حاضر ہوکر ایمان لایا۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے چارعورتوں سے شادی کی جوکہ آقا علیہ السلام کی چار بیویوں کی بہنیں تھیں۔
ام کلثوم حضرت عائشہ کی بہن،حمنہ حضرت زینب کی بہن،فارعہ حضرت ام حبیبہ کی بہن،رقیہ حضرت ام سلمہ کی بہن۔(الاصابہ،ج 3،صفحہ 432،مطبوعہ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی وفات کب ہوئی
آپ رضی اللہ عنہ کی گھٹنے کو تیر لگا جس کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہااور آپ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے اوربیی واقعہ جمادی الاعلی 36 ھ کو پیش آیا(طبرانی)
طلحہ بن عبیداللہ کو بدری صحابہ میں کیوں شمارکیاجاتاہے؟
آپ رضی اللہ عنہ بدر میں شامل نہیں ہوئے جب آپ شام سے واپس ہوئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بدر سے واپس آگئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے
غنیمت کے حصے کے بارے میں رسول اللہ سے بات کی تو اپ رضی اللہ عنہ کو حصہ عطافرمایا اور ثواب بھی عطافرمایا۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،ج2،صفحہ نمبر764،مطبوعہ دارالجیل بیروت)
ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ نے سعید بن زید اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو شام کے راستے جاسوسی کےلیے بھیجا۔(ایضا صفحہ 765)
