اللہ عزوجل کی فرمانبرداری
اللہ عزوجل کی فرمانبرداری
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے بوستان باب اول میں ایک قصہ نقل کیا فرماتے ہیں میں نے گیلان اور قزوین کےدرمیان رود بار کے میدان میں ایک شخص کو چیتے پر
سوار ہو کر آتے ہوئے دیکھا تو خوف کے مارے میرے پاؤں چلنے سے
جواب دے گئے اس شخص نے مسکرا کر مجھے کہا اے
سعدی؟ اس میں گھبرانے اور حیرت زدہ ہونے کی کون سی بات ہے تو
بھی اللہ کے حکم سے گردن نہ پھیر اللہ کی مخلوق تیری
تابعدار ہو جائے گی جب بندہ اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اللہ
تعالی اس کی مدد فرماتا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ
وہ تجھے دشمن کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے بس یہی
مردان حق کا راستہ ہے اور مقصد حاصل کر لے نصیحت
اس شخص کو نفع دے گی جو سعدی کے کلام سے محبت کرے گا.
تشریح
سورہ زمر میں ہے آیت کا ترجمہ ہے اللہ ہی کے لیے دین خالص ہے (3)
ایک اور مقام پر رب تعالی نے ارشاد فرمایا
(آپ کہیے کہ (اےمحبوب) مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ
میں اللہ کی عبادت کروں اس کی اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے ۔)(سورۃ الزمرآیت11)
اس آیت میں اللہ عزوجل نے آقا علیہ السلام کوبھی اخلاص کے ساتھ عبادت کا حکم دیا ہے
جب اللہ عزوجل اپنی فرمانبرداری کے بارے اپنے محبوب کوبھی خالص عبادت کا حکم
دے رہے ہیں توہمیں بھی اللہ عزوجل کی فرمانبرداری اور زیادہ کرنی چاہئے
کیوں کہ اللہ عزوجل کے تمام نبی گناہوں سے معصوم ،بچے ہوئے ہوتے ہیں
رب تعالی نے ایسی چیزوں سے ان کی حفاظت فرمائی ہے
ہم اور آپ تو ہر گھڑی ہر لحظہ گناہوں میں مصروف ہیں تو رب تعالی کی فرمانبرداری
ہم پر بہت زیادہ لازم ہے صوفیاء کرام بھی اللہ عزوجل کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
صوفیاء کاقول
صوفیا کرام فرماتے ہیں جو اللہ کا ہو جاتا ہے اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔
(بوستان سعدی مترجم صفحہ 28)
