انبیائےکرام مال میں وارث نہیں بناتے
حضرات انبیائےکرام مال میں وارث نہیں بناتے
اس بابت حدیث موجود ہیں کہ انبیائےکرام وارث نہیں بناتے اور ازواج
مطہرات نے اس طرح کی احادیث روایت کی ہیں۔
ہم کسی کومال میں وارث نہیں بناتے
حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہم کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے
ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہے۔(مشکوۃ شریف)
وقت وفات اشرفیوں کاصدقہ
حدیث شریف میں ہے آخری بیماری میں حضور کی ملکیت میں چھ سات اشرفیاں تھیں حضور نے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایا کہ اسے خیرات کریں مگر وہ مشغولیت
کے سبب خیرات نہ کر سکیں تو حضور نے ان اشرفیوں کو منگا
کر خیرات کر دیا اور فرمایا اللہ کا نبی خدا تعالی سے اس حال میں ملے کہ
اشرفیاں اس کے قبضہ میں ہوں تو یہ مقام نبوت کے منافی ہے۔
(رواہ احمد بن حنبل،مشکوۃ شریف)
اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ عزوجل کے نبی کے پاس یعنی اس کی ملکیت میں
جو کچھ چیز تھی وہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے صدقہ کر دی اپنے پاس کچھ بھی
بچا کر نہیں رکھا یہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے فیاضی اور سخاوت کی نشانی بھی ہے۔
رات سےپہلےگھرمیں پڑی سونےکاصدقہ
ایک اور حدیث شریف کے مطابق آقا علیہ الصلوۃ والسلام ایک بار نماز
عصر پڑھ کر فورا اٹھے اور نہایت تیزی کے ساتھ گھر تشریف لے گئے
پھر جلدی واپس آگئے لوگوں کو تعجب ہوا تو فرمایا مجھے خیال آیا کہ
سونےکی ایک چیز گھر میں پڑی رہ گئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ رات ہو جائے
اور وہ گھر میں پڑی رہ جائے اس لیے میں اسے خیرات کرنے کے لیے کہہ آیا ہوں۔(رواہ البخاری)
اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس دن کے اوقات
میں جتنا بھی ہوتا رات ہونے سے پہلے پہلے آقا علیہ الصلوۃ والسلام اسے صدقہ و خیرات کر دیتے۔
شروع میں جو حدیث بیان کی کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے
ان کے پاس جتنا بھی مال ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
اور پھر ہم نے بیان کیا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے کس طرح اپنے پاس
موجود مال سونا کو کیسے صدقہ کیا اور کس طرح سنجیدگی کے ساتھ صدقہ کر دیا۔
اب آگے ان احادیث کو بیان کیا جاتا ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ
نبی علیہ الصلوۃ والسلام جو چیز چھوڑ کر گئے وہ کسی کی وراثت میں نہیں جاتی۔
ازواج مطہرات کاوراثت کی طرف توجہ
حضور کے ازواج مطہرات کا وراثت کی طرف توجہ کرنے کا خیال آیا کہ
عثمان غنی سے اپنا حصہ تقسیم کروائیں چنانچہ اس بابت حدیث ہے کہ
ازواج مطہرات نے وراثت چاہا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور کی وصال فرما جانے کے بعد ازواج
مطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضور کے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروائیں
تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم کسی
کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔
(مسلم شریف جلد دوم)
جب ازواج مطہرات نے یہ حدیث سنی تو انہوں نے میراث طلب کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
رسول اللہ نے وصال کےوقت کچھ نہیں چھوڑا
ایک اور حدیث روایت ہے حضرت عمر بن حارث رضی اللہ عنہ سے جو حضرت
جویریہ زوجۂ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بھائی تھے انہوں نے
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصال کے وقت درہم ودینار،غلام
وباندی کچھ نہیں چھوڑا مگر ایک سفید خچر،اپنا ہتھیار
اور کچھ زمین جس کو حضور نے صدقہ کر دیا تھا۔(رواہ البخاری)
میرےوارث ایک دینار بھی تقسیم نہیں کریں گے
بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے وارث ایک دیناربھی تقسیم نہیں کریں گے
میں جو کچھ چھوڑ جاؤں میری ازواج کے مصارف اور عاملوں کا
خرچ نکالنے کے بعد جو بچے وہ صدقہ ہے۔
(مشکوۃ شریف)
وراثت کےبارےمیں صحابہ سےسوال
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے ایک مجمع میں
وراثت کے بارے میں صحابہ سے سوال کیا
بخاری اور مسلم میں ایک حدیث ہے جو کہ روایت ہے حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے
کہ مجمع صحابہ جن میں حضرت عباس حضرت عثمان حضرت علی حضرت
عبدالرحمن بن عوف حضرت زبیر بن عوام اور حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہم موجود تھے۔
عمرفاروق کا سب کو قسم دینا
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سب کو قسم دے کر فرمایا کیا آپ
لوگ جانتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے؟
تو سب نے اقرار کیا کہ ہاں حضور نے ایسا فرمایا ہے۔
باغ فدک سےازواج مطہرات کیوں محروم رہے
ان تمام شواہد سے خوب واضح ہو گیا کہ انبیاء کرام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔
اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ کو باغ
نہیں دیا نہ کہ بغض و عداوت کی وجہ سےفدک
بی بی فاطمہ کےعلاوہ بھی وراثت سےمحروم رہے
بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ حضرت سیدہ سے بغض اور عداوت کی وجہ
سے باغ فدک سے محروم رکھا گیا تو باغ فدک سے ازواج مطہرات
کیوں محروم رہے یا اس کے علاوہ حضور کے چچا کیوں محروم رہے۔
یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی جو کہ ازواج مطہرات میں سے تھی
وہ کیوں محروم رہی بلکہ حضرت عباس حضور کے چچا اور
حضرت ابوبکر کے ابتدائے خلافت سے مشیر اور رفیق تھے
جن کو تقریبا نصف ترکہ ملتا تھا وہ کس دشمنی کے
سبب وراثت سے محروم ہوئے لہذا ماننا پڑے گا کہ حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
نے ارشاد رسول کہ "ہمارا ترکہ وراثت نہیں بلکہ صدقہ کیا جاتا ہے
” پر عمل کیا اور ان پر حدیث پر عمل کرنا لازم تھا۔
اس تمام بیان سے واضح ہوگیا کہ انبیائےکرام مال میں وارث نہیں بناتے اوریہ بات احادیث سے ثابت بھی ہوگئی۔
فدک باغ سے کون کون محروم رہے؟
کچھ لوگ بہت الزام لگاتے ہیں کہ حصرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے بی بی فاطمہ
سے دشمنی رکھی نعوذ باللہ اس وجہ سے باغ فدک سے حصہ نہیں دیا
اب باغ فدک کے حقدار تو ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ
بھی ہیں وہ بھی باغ فدک کے حصے سے
محروم رہی ہیں اس کے علاوہ محروم رہنے والوں میں حضرت فاطمہ الزہراء
بھی ہیں اور محروم رہنے والوں میں آقا علیہ السلام کے چچا حضرت عباس بھی ہیں۔
