بہت زیادہ کھانے والے آدمی کی ذلت
بہت زیادہ کھانے والے آدمی کی ذلت
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے بوستان کے باب نمبر
پانچ میں زیادہ کھانے والے ایک آدمی کا تذکرہ کیا چنانچہ فرمایا
بصرہ سے میں ایسی کہانی لایا ہوں جو تر کھجور سے
بھی زیادہ میٹھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں چند دوستوں
کے ساتھ ایک کھجور کے باغ کے پاس سے گزرا ہمارے
درمیان ایک پیٹو بھی تھا جو اپنے پیٹ کی وجہ سے کئی
بار ذلیل اور رسوا ہو چکا تھا لالچ میں آکر درخت پر
چڑھا مگر جلد ہی گردن کے بل زمین پر گرا اور مر گیا
آخر ہر بار گڑ میٹھا نہیں ناں ہوتا نہ درخت پر چڑھنے والا
ہر بار کھجور کھا سکتا ہے گاؤں کا نمبردار آگیا اور ہمیں
ڈانٹنے لگا کہ اس کو کس نے مارا ہے میں نے کہا ہمیں
نہ ڈانٹ اس کو ہم نے نہیں بلکہ اس کو اس کے پیٹ نے مارا ہے۔
تشریح
پیٹ ہتھکڑی بھی ہے اور بیڑی بھی پیٹ کا بندہ خدا کا
بندہ نہیں بن سکتا مکڑی جب سراپا پیٹ بن جاتی ہے تو
چیونٹیاں چھوٹا پیٹ رکھنے کے باوجود اسے ٹانگوں سے
کھینچ لیتی ہے ایسے پیٹو کا دامن بھی لالچ نے کھینچ کر
اس کو گرایا ہے باطن کو صاف کر کیونکہ پیٹ کو مٹی
کے سوا کوئی نہیں بھر سکتا۔
(حسن قادری،بوستان مترجم صفحہ نمبر151
پیٹو صوفی
ایک پیٹو صوفی کو بھوک اور شہوت نے ستایا اس کے پاس ان دو مقاصد
کے لیے دو ہی دینار تھے اس نے دونوں خرچ کر دیے کسی نے پوچھا دینار کدھر
گئے اس نے کہا ایک سے مستی نکالی اور دوسرے سے پیٹ بھر لیا ہے اور
میں کس قدرنکمہ ہوں کہ پیٹ بھی نہیں بھرا اور پشت بھی خالی ہو گئی
سبق
پیٹ پرستی اور شہوت انسان کی ذلت کے اسباب ہیں اس
لیے ان دونوں کو قابو میں رکھنا چاہیے غذا کتنی بھی
عمدہ کیوں نہ ہو بھوک لگے گی تو مزہ آئے گا عقلمند اس
وقت تکیے پر سر رکھتا ہے جب نیند اس کو بے قرار کر
دیتی ہے ضرورت کے وقت ہی بات اچھی لگتی ہے میدان
خالی نہ ہو تو گیند کو محفوظ رکھنا چاہیے اندازے سے
زیادہ بولنا اور طاقت سے زیادہ قدم اٹھانا انسان کو ذلیل
کر دیتا ہے۔(حسن قادری،بوستان مترجم صفحہ نمبر151/52)
یہی نتیجہ ہےکہ بہت زیادہ کھانے والے آدمی کی ذلت ہوگی ہی ہوگی
