فضائل رمضان
فضائل رمضان

قرآن مجید فرقان حمید کا نزول رمضان شریف میں ہوا
فضائل رمضان کے لیے اتنا ہی کافی ہے
لیکن اس کے علاوہ احادیث شریف میں آقا علیہ الصلوۃ
والسلام نے رمضان کے فضائل کو بیان کیا ہے۔
اب سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ روزہ کی تعریف
یعنی پہچان کیسے ہو شرعی اورلغوی معنی کیاہے
یہ بھی پڑھیں روزے میں پیش آنے والے مسائل کا حکم
روزہ کا شرعی اورلغوی معنی
اب روزہ کا لغوی معنی یہ کہ "کسی چیزسے رکنا اورترک کرنا”
اور "شرعی معنی” یہ ہے کہ "مکلف اور بالغ شخص کا طلوع
فجر سے لے کر غروب آفتاب تک اپنے آپ کو
کھانے پینے جماع سے روکے رکھنا”
رمضان میں جنت کے دروازے کھلنا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان
تشریف لاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں
اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھل جاتے
ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور
شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں اور ایک
روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
(بخاری و مسلم)
جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں رمضان شریف میں
جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں یعنی رمضان
شریف کے اندر انسان روزہ رکھ کر نیک اعمال کر کے
ایسے پاک و صاف ہو جاتا ہے کہ اگر رمضان کے مہینے
میں ہی اس دنیا سے چلا جائے تو جہنم کا دروازہ تو
ویسے بھی بند ہے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں یعنی مسلمانوں پر
اللہ عزوجل کی طرف سے رمضان کے مہینے میں بے
حساب رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ۔
اور شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں یعنی ان کو قید کر دیا جاتا ہے۔
تاکہ مسلمان یکسو ہوکر رب تعالی کےاحکام پر عمل پیرا ہوجائیں۔
یہ بھی پڑھیں سنت اعتکاف کی فضیلت
اور ہر مسجد میں اعتکاف کا حکم
شیاطین قید ہیں تو لوگوں سے گناہ سرزد ہوتے ہیں
بعض نہ سمجھ اعتراض کرتے ہیں کہ جب شیاطین بند ہو جاتے ہیں تو بعض لوگ گناہ کیوں کرتے ہیں؟
اسی اعتراض کے دو جواب دیے جا سکتے ہیں پہلا جواب یہ ہے کہ
احادیث میں جہاں شیطانوں کے قید ہونے کا ذکر ہے ان
شیاطین سے سرکش اور متمرد شیطان مراد ہیں چنانچہ
بعض روایات میں سرکش کی قید موجود ہے لہذا اگر گناہ
غیر سرکش شیطانوں کے اثر سے ہوں تو حدیث پاک پر
کوئی اعتراض نہیں ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حدیث پاک میں سب شیطان
خواہ سرکش ہوں یا غیر سرکش مراد ہوں تب بھی کوئی
اعتراض نہیں کیونکہ شیطان ہر قسم کے بند ہیں مگر
گناہوں کے صادر ہونے کی وجہ اور ہے وہ یہ کہ 11 ماہ
شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے اور اپنا زہریلا اثر کرتا
رہتا ہے جس سے نفس انسانی گناہوں کے ساتھ اس قدر
مانوس ہو جاتا ہے کہ خیالات فاسدہ اور گناہ انسان کی
طبیعت ثانیہ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے گناہوں کا صدور ہوتا رہتا ہے۔
رمضان کی ہر رات امت کی مغفرت
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا رمضان
کی ہر رات ایک آواز لگانے والا آسمان سے طلوع صبح
تک یہ آواز دیتا رہتا ہے اے خیر کے طلبگار تمام کر اور
خوش ہو اور برائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت
حاصل کر کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی
بخشش کی جائے کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی
توبہ قبول کی جائے کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس
کی دعا قبول کی جائے کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا
سوال پورا کیا جائے اللہ تعالی ماہ رمضان کی ہر رات میں
وقت افطاری کے 60 ہزار گنہگار دوزخ سے آزاد فرماتا
ہے اور عید کے روز اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے
جتنے تمام مہینے آزاد فرمائے ہیں۔(زواجر جلد اول)
یہ بھی پڑھیں صدیقہ فطر کے مسائل
رمضان کی آخری رات بخشش
ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے فرمایا رمضان کی آخری رات میں میری
امت بخشی جاتی ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا وہ
شب قدر ہے فرمایا نہیں لیکن کام کرنے والے کا اجر پورا
دیا جاتا ہے جبکہ وہ اپنا کام ختم کرے۔(مشکوۃ شریف)
یعنی پوری رمضان شریف میں انسان روزہ رکھتا ہے
ایک کام کرتا ہے تو اللہ تعالی آخری رات عید کی رات
اس کو مزدوری عطا فرماتا ہے اور مزدوری یعنی انعام
عطا فرماتا ہے اور انعام کی صورت میں رب تعالی کئی
مسلمانوں کو بخش دیتا ہے جتنی کہ رمضان کی ساری
راتوں میں بخشی ہیں۔
یہ رمضان کے فضائل میں سے ہے کہ رب تعالی امت کی
بخشش فرماتا ہے شیطان سے بھی اسے چھٹکارا دیتا ہے
جنت کے دروازے کھول دیتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
اور پھر فرمایا اجر کی صورت میں بھی اسے بخش دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں شوال کے چھ روزوں کی فضیلت
روزے کب فرض ہوئے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزے کب فرض ہوئے
رمضان شریف کے روزے مدینہ طیبہ میں 10شعبان دو
ہجری کو فرض ہوئے۔
علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ تحویل قبلہ کے
ڈیڑھ سال بعد 10 شعبان المعظم کو روزہ فرض کیاگیا۔
( درالمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٨٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
سب سے پہلے نماز فرض کی گئی ‘ پھر زکوۃ فرض کی
گئی ‘ اس کے بعد روزہ فرض کیا گیا ‘ کیونکہ ان احکام
میں سب سے سہل اور آسان نماز ہے اس لیے اس کو
پہلے فرض کیا گیا ‘ پھر اس سے زیادہ مشکل اور دشوار
زکوۃ ہے کیونکہ مال کو اپنی ملکیت سے نکالنا انسان پر
بہت شاق ہوتا ہے ‘ پھر اس کے بعد اس سے زیادہ مشکل
عبادت روزہ کو فرض کیا گیا ‘ کیونکہ روزہ میں نفس کو
کھانے پینے اور عمل تزویج سے روکا جاتا ہے اور یہ
انسان کے نفس پر بہت شاق اور دشوار ہے۔
(تفسیر تبیان القرآن)
رمضان کے روزوں کی فرضیت قرآن سے
اللہ تعالی نے رمضان کے روزوں کی فرضیت کو قران پاک سے بیان کیا ہے۔
ترجمہ : اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے
جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں
پرہیزگاری ملے۔(سورہ بقرہ آیت نمبر)
جس نے رمضان کا قدر نہیں پہچانا
جس بدقسمت نے رمضان المبارک کا قدر نہیں کیا اور اس
میں نیک عمل کر کے اپنی بخشش نہیں کرائی اس نے
اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا سرکار دو عالم
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب لوگ ممبر
کے پاس حاضر ہوں ( صحابہ نے فرمایا) پس ہم لوگ
ممبر کے پاس حاضر ہوئے جب حضور ممبر کے پہلی
درجہ پر چڑھے فرمایا آمین جب دوسرے درجہ پر
چڑھے فرمایا آمین جب تیسرے درجہ پر چڑھے فرمایا
آمین جب ممبر سے اترے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ
آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے
فرمایا بے شک جبرائیل علیہ السلام نے آکر عرض کیا وہ
شخص دور ہو رحمت سے جس نے رمضان کو پایا اور
اس کی مغفرت نہیں ہوئی میں نے کہا آمین جب میں
دوسرے درجہ پر چڑھا کہا وہ شخص دور ہو جس کے
پاس تیرا ذکر ہو اور آپ پر درود نہ پڑھے میں نے کہا
آمین جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا اس نے کہا دور ہو
وہ جس کے ماں باپ دونوں یا ایک کو اس کے سامنے
بڑھاپا آئے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں۔
(الزواجر صفحہ نمبر 160)
پہلی امتوں کے روزے
ہم سے پہلے نبیوں کے امتوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے
تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام پر
ہر مہینے کی تیرھویں چودھویں اورپندرھویں تاریخ کے
روزے فرض تھے جن کو ایام بیض کہتے ہیں جو امت
مسلمہ میں نوافل کا درجہ رکھتے ہیں اسی طرح موسی
علیہ السلام کی امت پر عاشورہ کے دن کا روزہ اور ہر
ہفتہ میں سنیچر کے دن کا روزہ فرض تھا ایسے ہی
حضرت عیسی علیہ السلام کی امت پر اسی ماہ رمضان
کے روزے فرض تھے مگر جب رمضان مبارک موسم
گرما میں تشریف لاتا تو کہتے کہ ایسی گرمی میں روزہ
رکھنا دشوار ہے چلو جب سردیاں آئیں گی تو 30 کے
بجائے 50 روزے رکھ لیں گے یعنی 20 روزے زائد رکھ لیں گے۔
(تفسیر عزیزی)
روزہ ایک عبادت ہے لہذا عبادت کوئی بھی ہو
اس میں جھوٹ بولنے سے پرہیز ہی کیاجاتاہے
اور روزے میں بھی جھوٹ بولنے سے منع
کیاگیاہے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کے بارے
میں رب تعالی نے اپنے کلام میں لعنت فرمائی ہے۔
روزے میں جھوٹ بولنا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور
علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص روزے میں جھوٹ
بولنا اور برے کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی
ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔
(بخاری شریف)
محض جھوٹ بولنا ہی منع نہیں روزے کی حالت میں
کوئی بھی براکام گناہ والا کام کرنا ایسا ہے گویا اس نے
اپنا سارا ثواب ضائع کردیا۔
اس کے علاوہ احادیث میں بیان ہواکہ روزہ دار کے
منہ کی خوشبورب تعالی کو مشک سے بھی
زیادہ پسند ہے
اور روزے دار کے ہر نیک عمل کا ثواب دوگنا کردیا
جاتاہے اور دس گنا کردیاجاتاہے
روزے دار کے لیے دو مسرتیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور
علیہ السلام نے فرمایا کہ ابن آدم کا ہر نیک عمل دس گنا
سے 700 گنا کر دیا جاتا ہے اللہ نے فرمایا مگر روزہ
کیونکہ یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی بلا حساب
جزا دوں گا کیونکہ روزے دار اپنی خواہشات اور کھانے
کو صرف میرے لیے ترک کرتا ہے اور روزہ دارکے
لیے دو مسرتیں ہیں ایک خوشی اسے افطار کے وقت
ہوتی ہے دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی
اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک سے زیادہ
پسند ہے اور "روزہ ڈھال ہے” جب تم میں سے کوئی روزہ
رکھے تو فحش بات کہے اور نہ شور کرے اگر کوئی اس
کو گالی دو دے تو اسے چاہیے کہ گالی دینے والے سے
کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔(بخاری شریف)
یہ فضائل رمضان میں سے ہےکہ کئی افراد رمضان کے داخل
ہوتے ہی فحش باتیں چھوڑ دیتے ہیں نشہ چھوڑدیتےہیں
پہلے نمازیں نہیں پڑھتے پڑھنا شروع ہوجاتے
یہی تو فضائل ہیں رمضان کی
اس کے علاوہ فضائل رمضان میں سے یہ بھی ہےکہ
کئی لوگ رمضان میں گالیاں دینا چھوڑ دیتے ہیں
تلاوت کلام کرنا شروع ہوجاتے ہیں اور بھی بہت سارے
نیک اعمال کرتے ہیں
رمضان کے روزوں کی ابتدائی صورت
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث
ہے کہ نماز میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں اور روزہ میں بھی
تین تبدیلیاں کی گئیں پہلی حضور علیہ السلام جب مدینہ
تشریف لائے تو ہر ماہ تین روزے اور ایک عاشورہ کا
روزہ رکھتے تھے رمضان کے روزوں کی فرضیت کے
بعد یہ روزے نفلی ہو گئے
دوسری رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد ہر
شخص کو اختیار تھا کہ روزہ رکھے یا فدیہ دے دے لیکن
روزہ رکھنا افضل تھا پھر یہ حکم نازل ہوا کہ جو بھی
رمضان کا مہینہ پائے روزہ رکھے اس کے بعد صرف
بوڑھے آدمی کے لیے یہ اجازت باقی رہی کہ اگر وہ
روزہ نہیں رکھ سکتا تو فدیہ ادا کرے تیسری ان احکام
کے بعد بھی روزے میں یہ سختی باقی تھی کہ اس کی
ابتدا سوتے ہی ہو جاتی تھی جونہی کوئی سویا دوسرا
روزہ شروع ہو گیا اللہ تعالی نے اس دشواری کو بھی ختم
فرما دیا ان تبدیلیوں کے بعد روزہ مکمل ہو گیا اور ہمیشہ
کے لیے دین کے دیگر احکام کی طرح مکمل ہو گیا۔
ایسے ہے رمضان اس کےفضائل بہت سارے ہیں
اور رمضان کے فضائل پر تو ایک پوری کتاب لکھی
جاسکتی ہے علماء نے لکھے بھی ہیں اور رمضان کے فضائل کو جمع کیاہے
روزوں کا فدیہ
فدیہ وہ بدلہ ہے جو کسی عبادت کے نہایت ہی مجبوری
کے باعث چھوٹ جانے پر ادا کرنا شرعا لازمی ہے
روزے کا فدیہ ایک غریب کو دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلا
دینا یا اس کی قیمت دے دینا ہے اس طرح کہ غریب کو
اس کا مالک بنا دیا جائے اور اس کے عوض اس سے
کوئی خدمت نہ لی جائے ایسا مریض روزے کافدیہ دے
سکتا ہے جسے بظاہر صحت مند ہونے کی امید نہ ہو
لیکن اگر وہ صحت مند ہو گیا تو اسے چھوٹے ہوئے
روزے قضا کرنا ہوں گے
بوڑھے شخص کا فدیہ دینا
ایسا بوڑھا فدیہ دے سکتا ہے جس میں روزہ رکھنے کی
بالکل طاقت نہ ہو
روزے کافدیہ چند غرباء میں تقسیم کردینا
ایک روزے کا فدیہ دو غریبوں یا چند غرباء میں بھی
تقسیم کیا جا سکتا ہے اگر کوئی شخص فدیہ ادا کیے بغیر
مر گیا تو اس کے مال سے پہلے فدیہ ادا کیا جائے پھر وہ
ورثاء میں تقسیم ہوگا اور اگر کسی نے کچھ نہ چھوڑا تو
رشتے داروں کو چاہیے کہ استحسانا (بطوراحسان) اس کا
فدیہ ادا کر دیں تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہے۔
(تفسیر یاایھاالذین امنوا،ج1 صفحہ نمبر158/159)
