حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنی بھتیجی سے شادی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنی بھتیجی سے شادی
اصل میں یہ ایک اعتراض ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ سے شادی کی جو آپ کے بھائی کی بیٹھی تھیں۔
ہاران
اور آپ کے بھائی کانام ہاران تھا اس کا جواب کچھ علماء نے یہ دیا کہ آپ کی شریعت میں
بھتیجی سے شادی کرنا جائز تھی اس وجہ سے یہ شادی ہوئی حالانکہ یہ جواب درست
نہیں ہے اصل جواب یہ ہے کہ ہاران نام کے دو آدمی تھے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام
کے چچا تھے جس کا نام ہاران الاکبر تھا اور ایک آپ کے بھائی تھے۔(طبری)
تالمود میں لکھی بات
المود نام کی ایک کتاب ہے جو یہودیت کے قانونی احکام،اخلاقی اقوال
تفسیروں اورمذہبی مباحث پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ اس کتاب کی دواقسام ہیں ایک ہے
بابل کا تالمود دوسرا ہے یروشلم کا تالمودبابل والا تالمود مستند عام استعمال ہونےوالا ہے
اور یروشلم والا کم مستند اورمختصر ہے۔
اس کے اندر یہودیوں نے یہ بات لکھی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سارہ
یعنی اپنے بھتیجی سے شادی کی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنی بھتیجی سے شادی
ایک عام ولی جو انبیاء کے اعتبار سے درجے میں بہت کم ہوتاہے لوگ اس پر بھی اعتراضات
شروع کرتے ہیں اللہ کے نبی تو درجے کے اعتبار سے اولیاء سے بہت ہی بلندہوتے ہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد مشرک تھے ؟
سورۃ الانعام میں آیت ہے جس کا مفہوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
اپنے باپ آزر کو کہا کہ آپ بتوں کو اِلٰہ بناتے ہیں
لفظ "اب” کا عربی میں اطلاق
اس کا اطلاق چاچہ پر بھی ہوتاہے لہذا قرآن پاک میں
لفظ "ابیہ” یعنی اب کامطلب بھی چاچا ہی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ
عربی میں اب کا لفظ چاچا پر بھی بولا جاتاہے اور تاریخی اعتبار سے بھی
چاچا ہی بت بناتا اور ان کی پوجا کرتاتھا۔وگرنہ سورہ ابراھیم کے اندر
ایک آیت جسے ہم "نماز میں درود” کے بعد بطور دعا بھی پڑھتے ہیں
اس آیت میں "حضرت ابراھیم علیہ السلام” نے اپنے والدین
کے لیے بخشش کی دعافرمائی ہے اب بخشش کی دعا مسلمان کے لئے کی جاتی ہے
نہ کہ مشرک کے لئے
