صدقہ فطرکے مسائل
اس تحریر میں صدقہ فطرکے مسائل کو بیان کیاجائےگا
صدقہ فطر کس پر واجب ہے
جس پر واجب ہوگا اسے ادا کرنا بھی واجب ہوگا
چنانچہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں صدقہ فطر ہر
اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو مالک نصاب ہو خواہ وہ
روزہ رکھے یا نہ رکھے اور چاہے وہ مرد ہو یا عورت
پاگل ہو یا نابالغ۔
زکوۃ اور فطرہ کے نصاب میں فرق
صدقہ فطر اور نصاب بے زکوۃ میں یہ فرق ہے کہ زکوۃ
کے نصاب میں مال کا نامی (مال کابڑھنا) ہونا شرط ہے
یعنی ساڑھے سات تولہ سونا ساڑھے 52 تولہ چاندی یا ان
میں سے کسی ایک کی قیمت کا سامان تجارت یا روپیہ کا
حاجت اصلیہ (وہ چیزیں جن کے بغیرچارہ نہ ہو) سے زائد ہونا ضروری ہے اور وجوب زکوۃ
کے لیے صاحب نصاب کا عاقل اور بالغ ہونا بھی شرط
ہے اور صدقہ فطر کے نصاب میں مال کا نامی ہونا شرط
نہیں یعنی اگر کسی کے پاس سونے چاندی کا نصاب نہ ہو
اور نہ ان میں سے کسی ایک کی قیمت کا سامان تجارت
اور روپیہ ہو مگر حاجت اصلیہ سے زائد سامان غیر
تجارت ہو تو صدقہ فطر واجب ہو جائے گا مثلا کسی کے
پاس تانبے پیتل کے برتن ہوں مگر تجارت کے لیے نہ
ہوں اور حاجت اصلیہ سے زائد ہوں اور ان کی قیمت
سونے یا چاندی کے نصاب کے برابر ہو تو ان برتنوں
کے سبب صدقہ فطر واجب ہو جائے گا مگر زکوۃ واجب
نہ ہوگی اور صدقہ فطر میں صاحب نصاب کا عاقل اور
بالغ ہونا شرط نہیں جیسا کہ جواب پہلے دیا گیا ہے۔
(فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 468)
فطرانہ کب اداکریں
صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا سنت ہے لیکن
اگر اس وقت نہیں ادا کیا تو اب ادا کر دے عید کے دن
نماز سے پہلے ادا نہ کرنے پر ساقط نہ ہوگا اور جب بھی
ادا کرے ادا ہی ہے قضا نہیں ہے۔(ایضا صفحہ 471)
فطرانہ اگر کسی نے رمضان میں ادا کر دیا عید سے پہلے
تو یہ بھی جائز ہے اور اگر کسی نے رمضان سے پہلے
بھی ادا کر دیا تو بھی جائز ہے اس طرح بھی کیا جا سکتا
ہے عید کے دن عید کی نماز سے پہلے پہلے دینا سنت
سے ثابت ہے اگر عید سے پہلے نہ دے سکے تو بعد میں
جب بھی دیں گے تو ادا ہی ہوگا۔
مقدار فطرہ
فطرانہ کا مقدار ہے دو کلو 50 گرام اب دو کلو 50 گرام
کی جو قیمت بنے وہی فطرانہ ہے آٹے کا نکالیں تو بھی یہی ہے گندم کا نکالیں تو بھی یہی ہے
مصارف صدقہ فطر
صدقہ فطر کے مصارف یعنی جن کو زکوۃ دی جاتی ہے
ان کو صدقہ فطر بھی دیا جائے گا دونوں کے مصارف
ایک ہی ہیں۔(درمختار،ردالمحتار)
بیوی اوبچوں کا صدقہ فطر
صدقہ فطرکے مسائل میں سے بیوی بچوں کے متعلق کچھ مسئلے
کوئی بھی شخص جن کے نان و نفقہ میں بیوی اور بچے
شامل ہیں تو وہ ان سب کی طرف سے صدقہ فطر دے سکتا ہے
اور اگر بیوی اور بچوں میں سے کوئی علیحدہ طور پر
صاحب نصاب ہے تو اسے علیحدہ طور پر اپنا صدقہ فطر
خود سے ادا کرنا لازمی ہے اور اگر باپ اولاد کا ادا
کرے یا باپ اپنی بیوی کا ادا کرے گا صاحب نصاب ہونے
کی صورت میں تو ان سے اجازت لینا ہوگی وگرنہ ان کی
طرف سے ادائیگی نہیں ہوگی۔
اور اگر اولاد میں سے کوئی اس کے نان و نفقہ کے تحت
نہیں لیکن اس کی طرف سے باپ صدقہ فطر ادا کرنا
چاہتا ہے تو اس سے اجازت لینا ہوگی وگرنہ ادا نہیں ہوگی۔
چند لوگوں کا ایک فقیر کو صدقہ فطر دینا
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ چند لوگ مل کر ایک ہی فقیر کو
صدقہ فطر دیں۔
یا ایک شخص کے صدقہ فطر کو چند لوگوں میں تقسیم
کر دینا ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔
یتیم بچوں کا صدقہ فطر
باپ نہ ہو تو یتیم بچوں کا
صدقہ فطر دادا پر واجب ہے وہ
اپنے یتیم پوتے پوتیوں کی
طرف سے صدقہ فطر ادا کرے گا۔
یہ تھے کچھ صدقہ فطرکے مسائل جنہیں مختصر بہارشریعت
اورفتاوی فیض الرسول سے بیان کیا گیا ہے تھوڑی سی تبدیلی کےساتھ
