العلمین (عالم کتنے ہیں)
العلمین (عالم کتنے ہیں)
علامہ زبیدی (رح) لکھتے ہیں
عالم ‘ خاتم ‘ طابق اور دانق کے وزن پر ہے ‘ اس کا معنی ہے : کل مخلوق ‘ اس طرح صحاح میں ہے ‘ یا آسمان اور اس کے نیچے جو جواہر
اور اعراض ہیں وہ عالم ہیں ‘ جس طرح خاتم مہر لگانے کا آلہ ہے اسی طرح عالم اسم آلہ ہے ‘ اس کا معنی ہے موجد کو جاننے کا آلہ ‘
عالم کی دو قسمیں عالم کبیر اور صغیر
حضرت جعفر صادق (رح) نے کہا : عالم کی دو قسمیں ہیں ‘ عالم کبیر اور عالم صغیر۔
آسمان اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ عالم کبیر ہے
اور انسان عالم صغیر ہے اور انسان میں وہ سب کچھ ہے جو عالم کبیر میں ہے
ہمارے شیخ نے کہا ہے کہ مخلوق کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ
وہ صانع پر علامت ہے۔
بعض مفسرین نے کہا : عالم اس کو کہتے ہیں جس سے خالق کا علم حاصل ہو ‘ پھر بہ طور تغلیب جن اور انس میں
سے عقلاء پر اس کا اطلاق کیا گیا ‘ یا جن اور انس پر انسان اور فرشتوں پر اور سید شریف کا مختار یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جنس پر کیا
جاتا ہے ‘ اور تمام اجناس کے مجموعہ پر بھی کیا جاتا ہے۔
زجاج نے کہا : عالم کا اس لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے اور اس کے علاوہ اور کسی لفظ کی جمع واؤ اور نون
(عالمون یا عالمین) کے ساتھ نہیں آتی ‘” بصائر “ میں مذکور ہے کہ اس کی جمع اس لیے آتی
ہے کہ موجودات کی ہر نوع ایک عالم ہے مثلا عالم انسان ‘ عالم نار ‘ وغیرہ
دس ہزار سے زیادہ عالم
اور روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے زیادہ عالم پیدا کیے ہیں اور اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ انسان بھی عالم کا ایک فرد ہے
(ورنہ غیر ذوی العقول کی جمع ‘ جمع مکسر ہوتی ہے) ایک قول یہ ہے کہ اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ اس سے مراد مخلوق کی
اصناف میں سے صرف ملائکہ ‘ جن اور انس ہیں اور دوسرے غیر ذوی العقول یا غیر ذوی العلوم اس سے مراد نہیں ہیں ‘ یہ حضرت ابن
عباس (رض) کا قول ہے ‘ جعفر صادق نے کہا : اس سے صرف انسان مراد ہے اور ہر انسان ایک عالم ہے ‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن
عباس (رض) نے ” رب العلمین “ کی تفسیر میں کہا : ” رب الجن والانس “ اور قتادہ (رض) نے اس کی تفسیر میں کہا : تمام مخلوق کے رب ‘
ازہری نے کہا : حضرت عباس (رض) کے قول کی دلیل یہ آیت ہے : ” لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان : ١) تاکہ آپ عالمین کے لیے نذیر ہوجائیں۔
اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانوروں اور فرشتوں کے لیے نذیر نہیں ہیں حالانکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں ‘ آپ صرف جن اور
انس کے لیے مبعوث ہوئے ہیں ‘
اٹھارہ ہزار عالم
اور وھب بن منبہ سے مروی ہے کہ کل اٹھارہ ہزار عالم ہیں اور یہ دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔
(تاج العروس ج ٨ ص ٤٠٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
چالیس ہزار عالم
حضرت ابوسعید خدری (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے چالیس ہزار عالم پیدا کئے اور یہ دنیا شرق سے غرب تک ایک عالم ہے
‘ مقاتل نے کہا : اسی ہزار عالم ہیں ‘ چالیس ہزار خشکی میں ہیں اور چالیس ہزار سمندر میں
ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ جن ایک عالم ہے ‘
انس ایک عالم ہے ‘ ان کے سوا زمین کے چار زاویے ہیں اور ہر زاویہ میں پندرہ سو عالم ہیں۔
(الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٣٨ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
العلمین کے متعلق اقوال میں مصنف(غلام رسول سعیدی) کا مختار
میں کہتا ہوں کہ ان تمام اقوال میں صحیح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر موجود
عالم ہے اور مخلوق عالم میں شامل ہے، اور اس کی دلیل
یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے (آیت)
” قال فرعون وما رب العلمین قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین۔ (الشعراء : ٢٤۔ ٢٣)
فرعون نے کہا : رب العلمین کیا ہے ؟ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا : وہ آسمانوں
زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے ‘ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ تمام آسمان ‘ زمینیں اور ان کے درمیان ہر چیز عالم ہیں ‘ اور اس
کی جمع عالم کی انواع اور اصناف کے اعتبار سے لائی گئی ہے۔
العلمین کا لغوی (عالم کتنے ہیں) اس پرتحریر آپ نے پڑھ لی یہ بزرگوں کےاقوال کا مطالعہ بھی کرلیا
