امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کا ذکر
امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کا ذکر

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی وہ ہستی ہیں جنہوں نے راتوں کو جاگ کرعبادت میں گزاردی
اوردن کے وقت دین کےطالب علموں کوپڑھانےمیں گزاردی
اوراس خلوص کےساتھ دین کی خدمت کی کہ آج تک لوگوں میں آپ کانام زندہ ہےتواس خلوص کی وجہ
سےآج اگر لوگ آپ کویاد کرتےہیں توآپ کی دینی خدمت کی
وجہ سے آپ نے امام محمداورامام ابویوسف جیسےطلبہ پیداکئےاس طرح کئی اورنام بھی ہیں
جوکہ آپ کےشاگرد گزرےاور انہی کےزریعےہی آپ کےبعدآپ کااجتھاد
لوگوں تک پہنچااور یقینااس کاثواب قیامت تک آپ رضی اللہ عنہ کوملتارہےگا
پیشوائی اورراہنمائی کےوصف میں انبیائےکرام علیہم السلام کی طرف دیکھاجائے
تورب تعالی نےتو آقا کریم علیہم الصلوۃ والسلام کو سب میں نرالی شان عطا فرمائی
اور "امام الانبیاء” بنایاہےاوراس وصف میں امتوں کو دیکھا جائے توباری تعالیٰ نے
امام الانبیاء کی امت کے اماموں کو تمام امتوں کے پیشواؤں میں منفرد مقام عطا
فرمایا ان کی امامت میں امامت انبیاء کی جھلک نظر آتی ہے ۔
دینی راہنماء
امت میں سب سے بڑے دینی راہنما اور امام وہ خوش نصیب صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم ہیں
جنہیں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھنے اور تربیت پانے کا شرف حاصل ہوا
صحابہ کے بعد کے راہنماء
پھر وہ تابعین سب سے بڑے پیشوا ہیں جنہوں نے صحابہ سے علم دین حاصل کیا اور تربیت پائی۔
تابعین میں ایک نمایاں نام حضرت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے ، آپ نے امت کی ایسی شان دار راہنمائی فرمائی تقریباً ساڑھے بارہ سو سال سے امت
مسلمہ کی اکثریت آپ کی تشریحات کے مطابق قرآن وسنت پر عمل کرتی ہے اور آپ کی پیشوائی کو خراج
تحسین پیش کرنے کے لئے آپ کو,,امام اعظم ،،(ائمہ مجتہدین میں سب سے بڑا امام)کہاجاتاہے۔
(خطبات نظامیہ 1444ھ،ص، 292،93)
ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام
آپ کا نام نعمان ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام ثابت ہے اس وجہ سے عربی میں آپ کونعمان بن ثابت کہتےہیں یعنی آپ
رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ والد صاحب کا نام بھی ذکر کرتے ہیں ۔
امام اعظم رضی اللہ عنہ کی کنیت
کنیت ابو حنیفہ ہے ابوحنیفہ کے معنی ہیں باطل سے جدا الگ تھلگ سورہ آل عمران
آیت 95 کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے دین کی بہترین تشریح کی اس وجہ سےآپ
رضی اللہ عنہ کو ابو حنیفہ کہا جانے لگا۔ یہاں ایک بات نوٹ کرنے والی یہ ہےکہ بعض
لوگ کہتےہیں حنیفہ آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں اس کے نام پر آپ رضی اللہ
عنہ کی کنیت ہے یہ غلط ہے اس نام کی آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی بیٹی نہیں ہے۔
حنیفہ کنیت پر ایک غلط روایت کے بارے میں پڑھیں
ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش
80 ھ/699ءعراق کےمشہورشہرکوفہ میں پیدا ہوئے
وفات شریف
دینی خدمات سےبھرپور70سترسالہ زندگی گزارنےکےبعد150ھ/767ءاپنی جان جان آفرین کے
سپرد کی وفات کے مہینے سے متعلق دوقول آتےہیں ایک رجب میں دوسرا قول ماہ شوال کاہے۔
داتا علی ہجویری اورفریدالدین عطار
حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ نےکشف المحجوب میں لکھا کہ نعمان بن ثابت یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ بچپن میں گوشہ نشین ہوگئےخواب میں آقا علیہ الصلاۃ
والسلام کی زیارت نصیب ہوئی اور آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ "ابوحنیفہ گوشہ نشینی کا ارادہ مت کرو اللہ نے تمہیں میری سنت زندہ کرنے کے لئے منتخب فرما لیا ہے ۔”
دوسرا خواب
اسی طرح داتا علیہ الرحمہ ایک اورخواب کے بارے میں ذکر کیا ہے
کہ امام صاحب نےایک اورخواب دیکھا جس کا کسی عالم نے یہ تعبیربتائی کہ آپ کو علم نبوی اور حدیث وسنت کی
حفاظت میں وہ عظیم فرجہ نصیب ہوگاکہ آپ احادیث میں چھان بین کرکے صحیح احادیث اوردیگرکوالگ الگ کر دیں گے۔
(کشف المحجوب فارسی،باب الحادی عشر،ص:117،118،سنگ میل پبلی کیشن)
یہ اسی خواب کی طرف اشارہ ہوسکتاہے جس خواب کی تعبیر امام ابن سیرین نےبیان کیا۔
روضۂ اقدس پرحاضری
تذکرۃ الاولیاء میں حضرت فرید الدین عطار علیہ الرحمہ نے لکھا ہے امام اعظم ابوحنیفہ جب روضۂ اقدس میں سلامی کےلئے حاضرہوئےتو عرض کی "اےتمام
رسولوں کے آقا آپ پر سلام ہو”توجواب ملا توضۂ اقدس سے”اےمسلمانوں کےامام آپ پر بھی سلام ہو”
(تذکرۃ الاولیاء،ذکرامام اعظم ابوحنیفہ)
امام اعمش کاخراج تحسین
امام اعظم علیہ الرحمہ امام اعمش علیہ الرحمہ سے احادیث سناکرتےاورامام اعمش جلیل القدر تابعین میں سےہیں اور کئی محدثین کےاستاذ بھی آپ کےسامنے ایک
مرتبہ کوئی مسئلہ آیا اس کا جواب امام صاحب علیہ الرحمہ نے فورا دےدیا امام اعمش حیران رہ گئے کہ آپ
نے یہ مسائل کن احادیث کی بنیادپر بتائےتوامام اعظم ابوحنیفہ نےبتایا کہ آپ کے بتائے ہوئے فلاں فلاں اور
فلاں احادیث سے تو امام اعمش رضی اللہ عنہ نے جواب ارشاد فرمایا مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم احادیث پر ایسے
عمل کرتے ہو تو آپ نے امام اعظم کےبارے میں تاریخی الفاظ اداکئےاور یہ الفاظ ہیں امام صاحب کے استاذ کے
آپ نے فرمایا:
اےفقھاء ہم محدث پنساری(سٹوروالے)اورتم طبیب ہواور ابوحنیفہ تم حدیث اور فقہ دونوں میں ماہرہو۔
(الجواھرالمضیئہ فی طبقات الحنفیہ،ج:2،ص:485،میرمحمدکتب خانہ)
سٹوروالےکےپاس صرف دوائیاں ہوتےہیں ان کااستعمال کیسے کرنا ہےیہ طبیب ڈاکٹر
کو معلوم ہوتاہے محدثین نے صرف احادیث کو بیان کیا اوران احادیث کی صحیح
تشریح فقہاء ہی کو معلوم ہے اس وجہ سے امام اعمش رضی اللہ عنہ نے یہی الفاظ اداکئے۔
خدا کے وجود پر دلائل
اعتراض تقلید
کچھ لوگ اعتراض کرتےہیں کہ تقلید جائز نہیں اپنی رائے کی کوئی حیثیت نہیں اس کےبارےمیں ایک حدیث پیش خدمت ہے۔
ہے کہ جب حضرت معاذ رضی اللہ کو رسول اﷲ صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر
بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔
حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں ﷲ عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔
آپ صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر ﷲ عزوجل کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔
انہوں نے عرض کی کہ رسول کریم صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی
ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر تو رسول علیہِ السّلام کی
سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا ؟ انہوں نے عرض کی کہ میں
اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔
حضرت سیّدنا معاذرضی ﷲ عنہ کہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیم صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲعزوجل کہ ﷲ تعالیٰ نے
اپنے رسول صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے
ساتھ ﷲ تعالیٰ عزوجل کا رسول صلّی ﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم راضی ہے۔
(جَامِعُ الْتِرْمِذِیْ ۳/۶۱۶‘ سُنَنِ اَبِیْ دَاؤد ۳/۳۰۳‘ الدارمی ۱/۷۲‘ )
ایک شبہ کا ازالہ
ایک شبہ :
کچھ لوگ شبہ کرتے ہیں کہ حضرت معاذرضی ﷲ عنہ کی حدیث صحیح نہیں۔علامہ ابن القیّم اعلام الموقعین ص
۷۳ میں اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث کوسب اہل علم نے نقل کیا ہے اور اس کے ساتھ حجت پکڑی ہے ۔
نیز اس کی ایک سند متصل بھی ہے جس کے رجال(راوی) مؤثق(قابل اعتماد) ہیں ۔
پھر بحوالہ خطیب نقل کرتے ہیں
:قَالَ اَبُوْ بَکْرِ الْخَطِیْبُ وَ قَدْ قِیْلَ اَنَّ عِبَادَۃَ بْنِ نَسی رَوَاہٗ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمِ بْنِ مُعَاذٍ وَ
ھٰذَا اِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ وَ رِجَالُہٗ مَعْرُوْفُوْنَ بِالثِّقَۃِ ۔اِنْتَھٰی۔
ابو بکر خطیب نے کہا ’’اور کہا گیا ہے کہ عبادہ بن نسی نے عبد الرحمن بن غنم بن معاذ سے اس حدیث کو روایت
کیا اور اس کی اسناد متصل ہیں اور اس کے رجال معروف بالثقہ ہیں‘‘ ۔(اربعین حنفیہ،حدیث نمبر،2)
جہاں اولیاء کاذکرہوتاہے وہاں اللہ کے رحمت نزول ہوتا ہے اب آپ نے امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کا ذکر
پڑھا کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی گزاری۔
امام ترمذی کے بارے میں مطالعہ کریں
