امام بخاری
حضرت امام بخاری کے حالات و مناقب پرمشتمل تحریر

نام و نسب
امام بخاری رحمہ اللہ کا نام و نسب کچھ اس طرح ہے
محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن برد زبہ بن بذذبہ
اور علامہ تاج الدین سبکی نے بزبہ کا اضافہ فرمایا۔طبقات الشافعیہ،ج2
بردزبہ اور بذذبہ کے حالات سے تاریخ خاموش ہے
برد زبہ فارسی کا لفظ ہے کاشتکار کے لیے استعمال ہوتا
ہے اور برد زبہ فارسی تھا اور اپنی قوم کی دین پر تھا یعنی آتش پرست تھا۔(ھدی الساری)
امام بخاری کے داد کون تھے ؟
حضرت امام بخاری کے دادا آتش پرست تھے اور یہ بعد میں بخارا کے حاکم یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر مشرف اسلام ہوئے۔
یمان بن اخنس کون تھا
یہ یمان بن اخنس ، عبداللہ محمد مسندی استاد بخاری کے
دادا کے دادا ہیں دستور کے مطابق ولاء اسلام کی پیش
نظر مغیره فارسی کو جعفی کہا جانے لگا کیونکہ وہ یمان
جعفی کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے اسی وجہ سے امام
بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی جعفی کہا جاتا ہے۔
امام بخاری کے والد کے حالات
حضرت "امام بخاری رحمۃ اللہ” علیہ کے والد ابو الحسن اسماعیل بن ابراہیم علمائے محدثین میں سے ہیں
ابن حبان نے کتاب الثقات میں ان کا ذکر کیا۔(الثقات لابن حبان ج8)
یہ حماد بن زید اور امام مالک رحمہما اللہ سے روایت کرتے ہیں (ھدی الساری477)
اور ان سے عراق کے حضرات نے روایت حدیث کی ہے.(ایضا)
حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے انہوں نے ملاقات کی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
صافح ابن المبارك بكلتا يديه
امام بخاری کے والد کا تقوی
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد کے تقوی کا
یہ عالم تھا کہ انتقال کے وقت بہت سارا مال ترکہ میں
چھوڑا لیکن فرماتے تھے کہ اس میں ایک درہم بھی حرام
یا مشتبہ نہیں۔(هدی الساری)
تعلیمی اور ابتدائی حالات
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے تعلیمی اور ابتدائی حالات
کچھ اس طرح ہیں کہ بچپن میں ہی امام بخاری کے والد
اسماعیل بن ابراہیم کا انتقال ہو گیا اور تربیت کی ساری
ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آگئی ادھر اسی بچپن کے زمانے
میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بینائی زائل ہو گئی جس
سے والدہ کو بہت صدمہ ہوا وہ بڑی عبادت گزار اور خدا
رسیدہ خاتون تھی الحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے
دعائیں کیں ایک مرتبہ رات کو خواب میں حضرت ابراہیم
علیہ السلام کی زیارت ہوئی تو انہوں نے بشارت سنائی
کہ تمہاری دعا کی برکت سے اللہ تعالی نے تمہارے بیٹے
کی بینائی لوٹا دی ہے۔(ھدی الساری)
امام بخاری کا دوبارہ بینائی ختم ہونا
علامہ تاج الدین سبکی نے لکھا ہے کہ گرمیاں اور دھوپ
میں طلب علم کے لیے سفر سے پھر دوبارہ بینائی جاتی
رہی خراسان پہنچے کسی نے سر کے بال صاف کرانے
اور گل خطمی کا ضماد کا مشورہ دیا اس سے بینائی پھر
واپس لوٹ آئی۔(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج2)
امام بخاری کے قوت حافظہ کا عالم
حضرت امام بخاری کے قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ
ایک دن امام داخلی رحمت اللہ علیہ نے ایک سند بیان کی
سفیان عن ابی زبیر عن ابراہیم
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا
ابو زبیر لم یرو عن ابراہیم
استاد نے طفل نو اموز سمجھ کر توجہ نہیں دی بلکہ
جھڑک دیا تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سنجیدگی سے
عرض کیا کہ آپ کے پاس اصل ہو تو رجوع فرما لیں بات
معقول تھی محدث داخلی اندر گھرمیں گئے اور اصل کو
ملاحظہ فرمایا تو امام رحمۃ اللہ علیہ کی بات
درست نکلی واپس آئے تو پوچھا لڑکے اصل سند کیا ہے
امام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
هو الزبير وهو ابن عدي عن ابراهيم
محدث داخلی رحمۃ اللہ علیہ نے قلم لے کر اصلاح کرتے
ہوئے فرمایا تم نے سچ کہا کسی نے پوچھا اس وقت آپ
کی عمر کیا تھی تو فرمایا گیارہ برس۔(ایضا)
قوت حافظہ پر ایک اور واقعہ
ایک مرتبہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ بغداد تشریف لائے
وہاں کی محدثین نے امام رحمۃ اللہ علیہ کے
امتحان کا ارادہ کیا اور 10 آدمی مقرر کیے ہر ایک کو
10 احادیث سپرد کیں جن کے متون اور اسانید میں
تبدیلی کر دی گئی تھی جب امام رحمہ اللہ تشریف لائے تو
ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے وہ حدیثیں پیش کی جن
میں تبدیلی کر دی گئی تھی امام بخاری نے ہر ایک کے
جواب میں لا اعرفہ کہتے رہے عوام تو یہ سمجھنے لگے
کہ اس شخص کو کچھ نہیں آتا لیکن ان میں جو علماء تھے
وہ سمجھ گئے کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کی چال
سمجھ گئے ہیں اس طرح دس آدمیوں نے سو حدیثیں پیش
کر دیں جن کی سندوں اور متنوں میں تغیر کیا گیا تھا اور
امام نے ہر ایک کے جواب میں لا اعرفہ فرمایا اس کے
بعد امام رحمۃ اللہ علیہ نمبر وار ایک ایک کی
طرف متوجہ ہوتے گئے اور بتاتے گئے تم نے پہلی
روایت اس طرح پڑھی تھی جو غلط ہے اور صحیح اس
طرح ہے اسی ترتیب وار تمام دس افراد کی اصلاح
فرمائی اب سب پر واضح ہو گیا کہ یہ کتنے ماہر فن ہیں۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ کی مذکورہ واقع پر تبصرے
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
تعجب اس پر نہیں کہ انہوں نے غلطی پہچان لی اور اس
کی اصلاح کر دی کیونکہ وہ حافظ حدیث تھے ان کا تو
کام ہی یہ ہے لیکن تعجب درحقیقت اس بات پر ہے کہ
غلط احادیث کو ایک ہی مرتبہ سن کر ترتیب وار محفوظ
رکھا اور پھر ترتیب کے ساتھ ان کو بیان کر کے اصلاح کی۔
(ھدی الساری)
یہ تمام حالات مولانا سلیم اللہ خان کی کتاب محدثین عظام
اور ان کی کتابوں کاتعارف کے صفحہ نمبر 18 سے23
سے لئے گئے ہیں۔
آنکھوں سے نابینا ہوئے تو والدہ کی دعاؤں سے سے واپس بینا ہوئے حضرت ابرہیم علیہ السلام نے خواب میں بشارت سنائی۔
یمان بن اخنس کے ہاتھوں مسلمان ہوئے آتش پرستی سے
تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے
محمد بن سلام بیکندی 2 عبداللہ بن محمد مسندی 3 محمد بن عروہ 4 ہارون بن الشغف سے حاصل کی۔
1 مکی بن ابراہیم 2یحیٰی بن بشر 3قتیبہ سے حاصل کی۔
1 علی بن شفیق 2 معاذ بن اسد 3صدقہ بن نوفل سے حاصل کی تعلیم۔
یحی بن یحی 2 بشر بن حکم 3 اسحاق سے تعلیم حاصل کی۔
حافظ بن موسی سے تعلیم حاصل کی
محمد بن عیسی شریح بن نعمان اور معلی بن منصور سے تعلیم حاصل کی۔
ابو عاصم النبیل، بدل بن مجر ،محمد بن عبداللہ انصاری ،عبدالرحمن بن محمد ،عمر بن عاصم اور عبداللہ بن رجاء سے تعلیم حاصل کی۔
عبید اللہ بن موسی ابو نعیم،حسن بن عطیہ،طلق بن غنام،خلاد بن یحیی،خالد بن مخلد،اورقبیصہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں
ابو عبدالرحمن مقری،حمیدی اور احمد بن محمد آرزوی سے تعلیم حاصل کی۔
عبد العزیز ،مطرف بن عبداللہ ،ابوثابت محمد بن عبداللہ آپ رحمہ اللہ کے استاذ گزرے ۔
عمروبن محمد وغیرہ
سعید ابن ابی مریم،عبداللہ بن صالح،سعید ابن ملید،عمروبن ربیع سے تعلیم حاصل کی ۔
ابو مسہر،اور ابو نصر سے تعلیم حاصل کی۔
قیسا ریہ سے محمد بن یوسف اور عسقلان سے آدم بن ابی یاس اور حمص میں ابوالمغیرہ،ابوالیمان،علی بن عیاش، احمد بن خالد وہبی اور وحاظی سے سماع حدیث کیا ہے
