غیبت کی تعریف
غیبت کی تعریف
اس تحریر میں غیبت کی تعریف اور مذمت میں احادیث بیان کی جائیں گی۔
آقا علیہ السلام کا غیبت کے بارے میں صحابہ سے سوال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو
کہ غیبت کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے
رسول زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
بتایا اپنے مسلمان بھائی کے ان عیوب کا ذکر کرنا جس کا
ذکر کرنا وہ ناپسند کرتاہو(غیبت ہے) کسی نے عرض
کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اگرچہ میرے بھائی
میں وہ عیب موجود ہو جس کا میں ذکر کروں (کیایہ بھی غیبت ہے)
فرمایا اگر تمہارے بھائی میں وہ عیب ہے تب ہی تو تم نے
اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ عیب نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
پست قد عورت کی غیبت
غیبت کی تعریف کی وضاحت ام المومنین حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ
ایک مرتبہ حضور علیہ السلام کے دربار میں ایک پست
قد عورت (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) حاضر ہوئی جب وہ چلی گئی تو میں نے ازراہ
تمسخر کہا کہ یہ عورت کتنی چھوٹی سی ہےآپ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ تم نے اس کی غیبت
کی ہے تم توبہ کرو اور اللہ سے معافی مانگو میں نے
عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم میں نے کوئی
غلط بیانی تو نہیں کی وہ واقعی پست قد ہے آپ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم نے فرمایا اگرچہ تم نے سچی بات کہی ہے
لیکن اگر وہ سن لیتی تو اسے ضرور تکلیف ہوتی کہ یہ
اس کا ایک عیب ہے لہذا یہ غیبت ہوئی۔
غیبت کی تعریف ان دونوں واقعات سے بہت اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے
البتہ امام غزالی نے غیبت کی تعریف بہت اچھے سے کی ہے آپ فرماتے ہیں
غیبت کی تعریف کی مزید تفصیل امام غزالی کی نظر میں
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم
اپنے بھائی کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کرو کہ اگر وہ
اسے سن لے تو بری لگے چاہے اس کے جسم کا کوئی
عیب ذکر کیا ہو۔(جیسے کانا اندھا لنگڑا وغیرہ)
یا اس کے نسب کا (جیسے کہا جاتا ہے اس کا باپ تو
حبشی موچی دھوبی وغیرہ تھا یا اس کی ماں توفاحشہ
بدکار وغیرہ تھی)غیبت ہے۔
یا اس کے اخلاق کا (کہ وہ شرابی جواری یا رشوت خور
ہے یا لوگوں سے قرضہ لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا بڑا ہی
متکبر یا مغرور ہے وغیرہ) یہ بھی غیبت ہے
یا اس کے افعال کا عیب یا اس کے اقوال کا عیب
یا اس کے دین کا عیب (جیسے وہ بے نمازی ہے چور ہے
ناپاک رہتا ہے جھوٹا ہے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے
شراب اور دیگر حرام چیزوں کا کاروبار کرتا ہے)
یا اس عیب کا تعلق دنیاوی امور سے ہو
(جیسے وہ بہت کاہل ہے بہت مکار ہے بہت کھاتا ہے ہر کسی سے لڑتا جھگڑتا ہے)
یہاں تک کہ کسی کے کپڑوں یا گھر یا سواری کی برائی کرنا بھی غیبت ہے
(کپڑے خراب سلے ہوئے تھے بہت میلے تھے یا اس کا
گھر بہت خراب جگہ واقع ہے اس کی گاڑی بہت ہی کھٹارہ ہے)
بریکٹ میں اپنی تفصیل ہے اس کے علاؤہ امام غزالی کے الفاظ ہیں۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشاد سے ہمیں نہایت
ہی وضاحت سے غیبت کی تعریف معلوم ہو گئی خلاصہ
یہ ہے کہ کسی کے کسی بھی عیب اور برائی کا اس کی
غیر موجودگی میں ذکر کرنا غیبت ہے جو اپنے مردہ
بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
غیبت زنا سے بھی سخت ہے
حضرت ابو سعید اور جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے
الغيبه اشد من الزنا
غیبت زنا سے زیادہ شدید (گناہ) ہے
صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم
كيف الغيبة أشد من الزنا
غیبت کس طرح زیادہ سخت زنا سے ؟
آپ نے جواب عطا فرمایا ان الرجل لا يزني فيتوب فيتوب الله عليه
اگر کوئی زنا کرتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے
وان صاحب الغيبه لا يغفر حتى يغفرها له صاحبه
اور غیبت کرنے والے کو نہیں بخشا جاتا جب تک وہ نہ معاف کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے
غیبت کی بدبو
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک دن ہم
حضور علیہ السلام کے دربار میں حاضر تھے کہ اچانک
ایک بدبو پھیلی آقا علیہ السلام نے فرمایا
کیا تم جانتے ہو یہ کس چیز کی بدبو ہے ہم نے عرض کیا
نہیں پھر آپ نے بتایا ابھی کچھ منافقوں نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے۔
(یا ایها الذین آمنوا جلد دوم صفحہ 604تا 606)
غیبت کے حرام ہونے کی حکمت کیا ہے ؟
غیبت میں ایک انسان کسی دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے اور برائی بیان کرتا ہے برائی بیان کرنے کا مقصد
یہ یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کے سامنے اس کی عزت کو کم یا داغدار کیا جائے چاہے بیان کرنے والا کتنا ہی سچا کیوں نہ ہو
حرام قرار دینے کی حکمت یہی ہے کہ ہر مسلمان چاہے کیسا بھی ہو اس میں اس کی عزت کی حفاظت کو مد نظر رکھا گیاہے
اور مسلمان کی عزت کی بہت تاکید وارد ہے (مفہوم عن الزواجر عن اقتراف الکبائر،جلد دوم)
