جنگ احد ، مکی لشکر ، ابودجانہ کا کردار ، غسیل الملئکہ ، شکست کفار ، جنگ کا پس منظر
اس تحریر میں آپ پڑھیں گے جنگ احد ، مکی لشکر ، ابودجانہ کا کردار ، غسیل الملئکہ ، شکست کفار ، جنگ کا پس منظر
جنگ احد جوکہ احد پہاڑ کے مقام پر پیش آیا جس کے بارے میں آقا علیہ الصلوۃ
والسلام نے فرمایا "احد” وہ پہاڑ ہے ہم اس سے محبت رکھتے ہیں وہ ہم سے محبت رکھتا ہے

یہ بھی پڑھیں پہلی ہجری کے غزوات
جنگ بدر
جنگ احد سے پہلے کا پس منظر
جنگ بدر میں کفار کو شکست ہوئی اوربہت سارا نقصان بھی اٹھایا ان کے سرداران قتل
ہوئے اور یہ ان کا بدلہ لینے کے در پہ رہے یہاں تک کہ
اس قافلے کا سامان بھی شکست کا بدلہ لینے کے لیے خاص کر لیا کہ ہمارے سرداران
جنہیں قتل کر کے کنویں میں ڈالا گیا
اور پھر جب جنگ بدر میں اپنا غم و غصہ چھپانے کے لیے
قیدیوں کا مطالبہ بھی جلدی نہ کیا اور تمام لوگوں کو
منع کر دیا کہ مسلمانوں کو ہمارے رنج و غم کا علم اندازہ
نہ ہوجب جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے اجتماعی لحاظ سے
وہ متفق ہو گئے اور جنگجو لڑنے کے لیے تیاری کرنے لگے تو اس اجتماع میں کچھ افراد
بہت زیادہ پرجوش تھے جن کے یہ نام ہیں
1 حضرت عکرمہ ابوجہل کے بیٹے
2 صفوان امیہ کے بیٹے
3 صخر(ابوسفیان) حرب کے بیٹے
4 عبداللہ ربیعہ کے بیٹے
چاروں افراد کا قبول اسلام
عکرمہ، صفوان،ابو سفیان ،عبداللہ ابن ربیعہ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے۔
صفوان نے ایک شاعر کو مقرر کیا کہ وہ لوگوں کو جنگ کے لیے ابھاریں
تاکہ لوگ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے
تیار ہو جائیں اور یہ شاعر وہ تھا جس کے ساتھ اللہ
کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر
یہ معاہدہ کر کے چھوڑا تھا کہ وہ حضور کے خلاف
نہیں اٹھے گا بطور احسان بغیر فدیہ کے چھوڑ دیا اس شاعر کا
نام ابو عزہ تھا صفوان بن امیہ نے اسے کہا کہ اگر
جنگ سے واپس ہوئے تو مالا مال
کر دوں گا مر گئے تو گھر والوں کا خیال رکھوں گا۔
ابو سفیان کو غزوہ سویق والے واقعے کا غصہ تھا
جس میں اسے بہت سامان ہاتھ سے دھونا پڑا۔
جس قافلے کا مال جنگ کے لیے خاص کیا گیا اس کی کل مالیت یہ تھی
ایک ہزار (1000) اونٹ اورپچاس (50000) ہزار
دینار اس مال کا نفع ب ہزار مسکال تھا نفع کو اپنے پاس رکھا
گیا اور اصل قیمت مالکوں کو دے دی جن کی رقم تھی۔
احدکےمال کاذکر قرآن میں
جب بدلے کے لیے مال کو خاص کیا گیا اس کے بارے میں رب تعالی نے وہی فرما کر اپنے
محبوب کریم کو بتا دیا جس کا ذکر سورۃ الانفال آیت نمبر 36 میں ہے
تفسیرآیت
اس آیت کی اکثریت تفسیر تو یہی ہے کہ یہ ایت جنگ بدر میں ان 12 افراد کے بارے
میں "نازل ہوئی” جنہوں نے اپنے مال کو جنگ بدر کے لیے خاص کیا۔
جنگ احد کے بارے میں اس آیت کی ایک تفسیر حضرت
سعید بن جبیر کے قول کے مطابق ہے جس کو امام رازی نے
اپنی تفسیر کے اندر اسی آیت نمبر 36 کے تحت لکھاہے اور مدارج النبوت میں بھی جنگ احد
کے تحت اسی طرح ذکر ہے۔
احدمیں میں قریش کالشکر
قریش کو جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے تیاری کرتے ہیں
پورا سال گزر گیا کل لشکر 3 ہزار افراد پر مشتمل تیار ہوا
اپنے الفوں کو ملا کر انہوں نے اپنے لشکر میں عورتوں کو بھی شامل کر لیا اور عورتوں کی تعداد 15 تھی۔
جنگ احدمیں قریش کی سواری
قریش نے جنگ احد کے لیے سواریوں کا بہترین انتظام کیا سوار ہونے اور سامان اٹھانے
کے لیے تین ہزار اونٹ تھے گھوڑوں کی تعداد کے بارے میں دو قول ہیں۔
ایک قول کے مطابق 200 گھوڑے تھے
دوسرے قول کے مطابق س گھوڑے تھے
گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے سواری نہیں کی گئی ایسے خالی بغیر سوار لے گئے۔
700 زرہیں حفاظت کے لیے ان کے پاس تھیں۔
مکی لشکر کاپڑاو
مکی لشکر وادی عتیق سے گزر کر تھوڑا سا دائیں جانب ہو کر احد پہاڑ کے قریب "عنین” نامی ایک جگہ پڑاؤ کیا جو
مدینے کے شمال میں "کناۃ” کے کنارے ایک بنجر زمین ہے یہ 6 چھ شوال 3 تین ہجری کا واقعہ ہے
احدکےوقت عباس کااطلاع دینا
اقا علیہ السلام کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے
مدینے میں اطلاع بھیجی اپ نے ایسا تیز قاصد بھیجا کہ جس
نے 500 کلومیٹر کا سفر تین دن میں مکمل کر کے ختم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کو مسجد قبا میں آکر حوالے کیا اور حضور
علیہ السلام نےخط حضرت ابی ابن کعب سے پڑھوایا۔اور خبر کو راز رکھنے کی تاکید بھی فرمائی.
صحابہ کی چوکیداری
خط کے ذریعے اطلاع ملتے ہی ہر کوئی ہوشیار ہو گیا یہاں تک کہ صحابہ نماز میں بھی
تلوار نہیں اتارتے تھے۔انصاری صحابہ
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چوکیداری پر مقرر ہو
گئے چوکیداری کے لیے یہ تین صحابی مقرر تھے
سعد بن معاذ
سعد بن عبادہ
اسید بن حضیر
احد میں مسلمانوں کے لشکرکی ترتیب
جنگ احد میں مسلمانوں کے لشکر کی ترتیب کے لیے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شوری کا اجلاس
طلب فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے اپنا یہ مشورہ پیش فرمایا کہ مدینہ میں ہی مقابلہ کریں
مرد تلواروں سے اور عورتیں چھتوں سے پتھروں
کے ذریعے مقابلہ کریں گیں اس رائے پر منافقوں کے سردار
عبداللہ ابن ابی نے بھی اتفاق کیا کیونکہ اسی
رائے کی بنیاد پر وہ جنگ سے دور رہ سکتا تھا مگر بدری صحابہ نے
یہ مشورہ دیا کہ میدان میں لڑیں گے یہاں تک کہ حضرت
حمزہ بن عبدالمطلب نے حضور کے بارگاہ میں عرض کیا
کہ میں کوئی غذا نہ کھاؤں گا جب تک مدینے سے
باہر ان سے دو دو ہاتھ نہ ہو لوں اسی رائے کی
بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دو زر ہیں
اندر و باہر پہن کر روانگی کے لیے تیار ہوئے۔
خطبہ جمعہ
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جمعہ پڑھایا جہاد کی
ترغیب دی صبر و استقامت کی
تلقین فرمائی اور دشمنوں کے مقابلے میں تیار ہونے کا حکم دیا۔
مدنی لشکر کی تقسیم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنگ احد میں مدنی لشکر کی تقسیم تین
حصوں میں کی۔پھران کا جھنڈا بھی تین لوگوں کو عطا فرمایا
قبیلہ خزرج کا دستہ اس کا جھنڈا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا
مہاجرین کا دستہ اس کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر عبدری کو عطا فرمایاایک روایت
کے مطابق حضرت علی کو عطافرمایا۔
قبیلہ اَوس کا دستہ ،اس کا جھنڈا حضرت اسید بن عضیر کو عطا فرمایا رضی اللہ عنہما
تعداد سپاہ
ایک ہزار لشکر کی تعداد کو دیکھ کرآقا علیہ الصلوۃ والسلام روانہ
ہوئے آگے جا کر آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے
اپنے انتظار میں ایک بہت بڑے قافلے کو دیکھا
پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ عبداللہ ابن ابی کے حلیف ہیں جو مدد کے
لیے ائے ہیں آقا علیہ الصلوۃ والسلام
نے پوچھا کیا یہ ایمان لائے
ہیں جواب دیا گیا کہ ایمان نہیں لائے تو حضور
علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا کہ کافر کے مقابلے میں
ہم کافر کی مدد کو قبول نہ کریں گے۔
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے جب لشکر کا معائنہ کیا تو
ان میں سے کچھ افراد جو چھوٹے
ہونے کی وجہ سے ناقابل جنگ نظر آئے انہیں واپس کر دیا۔
آگے اگے بڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
مقام شوت پہنچے اور وہاں پر فجر کی نماز پڑھی یہاں
اپ دشمن کے بالکل آمنے سامنے تھے یہیں پہنچ کر
عبداللہ ابن ابی نے بغاوت کر دی اور کوئی ایک تہائی یعنی تین
سو تعداد کے افراد کو لے کر یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ ہم نہیں
سمجھتے کہ کوئی خواہ مخواہ اپنی جان دیں اور اس نے
وجہ یہ بتائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
میری بات یعنی میری رائے پر عمل نہیں کی کہ مدینہ میں
ہی لڑتے۔کیونکہ اس کا مقصد پوری جماعت کو اضطراب
کا شکار کرنا تھا تو اسی لحاظ سے دو اور قبیلے بھی
جدائی کے بارے میں اور واپسی کے بارے میں
سوچ رہے تھے اور وہ دونوں جماعتیں قبیلہ اوس میں سے بنو حارثہ
اور قبیلہ خزرج میں سے بنو سلمہ تھے اور رب تعالی
نے ان کی مدد فرمائی تو ان کے قدم جم گئے۔
700 کی تعداد کے لشکر کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آگے بڑھے اور
دفاعی منصوبہ پر عمل کرنا شروع کر دیا۔
جنگ احد میں مسلمانوں کا دفاعی منصوبہ
اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنگی نقطہ نظر کے
اعتبار سے کئی صفوں میں جماعت کو تقسیم فرمایا باہر تیر
اندازوں کا ایک دستہ بھی مقرر کیا جن کی تعداد پانچ
سو افراد پر مشتمل تھی اور ان کی کمان حضرت عبداللہ ابن
جبیر بن نعمان انصاری بدری رضی اللہ عنہ کی سپرد کی
انہیں ایک چھوٹی سی پہاڑی
جنوبی کنارے وادی قناۃ پر رکنے کو فرمایا جو کہ اب
جمل رماۃکے نام سے مشہور ہے
اور انہیں یہ ہدایت کی شاہ سواروں کو تیر مار کر ہم
سے دور رکھو وہ پیچھے سے ہم پر نہ چڑھائیں ہماری جو بھی
حالت ہو چاہے ہم جیت جائیں یا ہار جائیں تمہاری
طرف سے ہم پر حملہ نہ ہو (ابن ہشام)
تیر اندازوں کو ہدایت کی کہ اگر تم دیکھو کہ ہم ہار
رہے ہیں اگر دیکھو کہ ہم مارے جا رہے
ہیں یا غنیمت سمیٹ رہے ہیں تو بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا (احمد،طبرانی)
جہاں پر تیر اندازوں کو مقرر فرمایا یہ پہاڑ کے درمیان
ایک چھوٹی سی وادی تھی جہاں سے حملے کا زیادہ
خطرہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
ان تیر اندازوں کے ذریعے اس حصے کو بند فرما دیا
لشکر کا میمنہ اور میسرہ
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لشکر کا
میں منا اور میسرہ ترتیب دیا لشکر کے
میسرہ پر حضرت زبیر بن عوام
کو مقرر فرمایا اور میں منہ پر حضرت منظر بن عمر مقرر ہوئے اور ان کا معاون حضرت
مقداد بن اسود کو بنایا گیا اس کے علاوہ حضرت زبیر کو یہ
مہم سونپی گئی تھی کہ وہ خالد بن ولید کے شاہ سواروں کی راہ کو روکے رکھیں۔
اور یہ ترتیب 7 شوال المکرم 3ھ ہفتہ کے صبح عمل میں آئی۔
مکی لشکر کادفاعی منصوبہ
ان کی میمنہ اور میسرہ کی یہ ترتیب تھی کہ میمنہ پر خالدبن ولیداورمیسرہ پر عکرمہ
کو مقررکیاگیا ان کا سربراہ ابوسفیان تھا
صفوان کے سپرد پیدل فوج کو کیاگیا اور تیراندازوں کےلیے عبداللہ بن ربیعہ مقرر ہوئے
اوربنوعبدالدار کے سپردجھنڈاکیاگیا اوریہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی۔
مکی لشکر لشکر جوش وہمت دلانے کےلیے عورتیں رکھی ہوئیں تھیں اور وہ اپنا یہ فرض نبھارہےتھے۔
جنگ احد میں پہلا قتل
لشکرکا مینڈھا قتل ہوگیا حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے طلحہ بن ابی طلحہ کو قتل کر دیا اس کے اونٹ پر سوار
ہوئے اور نیچے گرا کر تلوار سے ذبح کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نعرہ تکبیر لگایا اور حضرت
زبیر کی شان میں فرمایا ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری حضرت زبیر
رضی اللہ عنہ ہیں۔سیرت حلبیہ۔
جنگ کا مارکہ اور تیز ہو گیا بنو عبددار کا کمانڈر قتل ہو گیا یکے بعد دیگر وہ بھی قتل
ہوتے رہے اور یہاں تک کہ سب قتل ہو گئے
ابودجانہ
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی تلوار پیش
کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے
تلوار کے ذریعے مشرکین کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے۔(ابن ہشام،2)
یہاں تک کہ اور عورتوں کی کمانڈر تک جا پہنچیے ان کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت ابو دجانہ نے فرمایا کہ میں نے
دیکھا کہ ایک انسان جو کفار کے لشکر کو بہت زیادہ
جنگ کے لیے ابھار رہا ہے تو میں نے اسے نشانی پر لے لیا اور جا
کر اس کے پاس کھڑا ہو گیا جب اس پر حملہ کرنا چاہ
رہا تھا تو اس نے ہائے پکارا اور اواز نکالنے پر پتہ چلا کہ وہ
عورت ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تلوار سے ایک عورت پر حملہ کرنا مناسب نہ سمجھا
تو اسے چھوڑ دیا۔روایتوں میں آتا ہے کہ یہ عورت ہند بن عتبہ تھیں۔(ایضاج2)
اسی معرکہ جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے جوہر دکھائے اور لڑتے لڑتے شہادت کے مرتبہ پر فائز
ہو گئے اس کے بارے میں علیحدہ طور پر ویب سائٹ پر پوسٹ موجود ہے وہاں جا کر مطالعہ کر لیں۔
حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ
جنگ احد میں غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بھی جواں مردی سے لڑتے رہے اور شہادت کے مرتبے پر
فائز ہو گئے اور اس کے بارے میں آتا ہے کہ آپ لڑتے لڑتے ابو سفیان تک جا پہنچے اور قریب تھا کہ آپ اسے قتل کر
دیتے مگر اللہ نے خود ان کی لیے شہادت مقدر کر رکھی تھی چنانچہ شداد بن اوس نے
دیکھ لیا حملے کے وقت اور آپ پر حملہ کر دیا حضرت حنظلہ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو گئے۔
جبل رماۃ پرتیراندازوں کا کارنامہ
جبل رماد پر حضرت خالد بن ولید نے تین مرتبہ حملہ کرنا چاہا لیکن تیر اندازوں کے
تیروں کی وجہ سے وہ اپنے حملے میں ناکام ہو گئے۔(فتح الباری)
کفارکی شکست
جنگ احد ، میں مسلمانوں کا 700 لشکر کفار کے تین ہزار لشکر پر بھاری رہا اس کے بعد ابن اسحاق کی روایت کے
مطابق کہ مسلمانوں نے مشرکین کی ایسی کٹائی کی ایسے مارا کہ وہ کیمپ سے بھی بہت دور بھاگ گئے اور ان
کو شکست فاش ہوئی حضرت عبداللہ ابن زبیر کا بیان ہے کہ ان کے والد نے فرمایا میں نے دیکھا کہ ہند بن عبدہ اور
اس کے ساتھی عورتوں کی پنڈلیاں نظر ارہی ہیں بھاگنے کی وجہ سے۔(ابن ہشام 2/77)
تیر اندازوں کی غلطی
مسلمان ہر لحاظ سے کفار پر بھاری تھے لیکن تیر اندازی کے لیے جن مسلمانوں کو نبی علیہ السلام نے بہت تاکید
کی کہ اپنی جگہ سے ہلنا نہیں وہ کفار کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت سمٹنے میں
مصروف ہو گئے چنانچہ اسی عالم میں خالد بن ولید نے اس جگہ پر آکر مسلمانوں پر حملہ کر دیا
اکثریت تیر انداز یہ کہہ کر روانہ ہو گئے کہ خدا کی قسم ہم بھی ضرور مال غنیمت حاصل کریں گے اور 40 تیر
اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی جن کی مکمل تعداد 50 تھی۔ (بخاری شریف)
خالد بن ولید کی کوشش
خالد بن ولید جس نے تین مرتبہ پہلے کوشش کی اس طرف حملہ کرنے کی انہیں موقع نہ ملا جیسے ہی
مسلمانوں نے اپنی جگہ چھوڑی خالد بن ولید جلدی سے چکر کاٹ کر مسلمانوں کی پشت پر جا پہنچے اور حضرت
عبداللہ ابن جبیر اور ان کے ساتھیوں کا صفایا کر کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ان کے پیچھے کی طرف سے۔ادھر
مشرکین کو بھی اس کا پتہ چل گیا اور وہ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اب مسلمان پیچھے اور اگے دونوں طرف سے
پھنس گئے مسلمان درمیان میں اگے اور پیچھے کفار اگئے اور حملے میں ان پر ٹوٹ پڑے۔
جنگ احد ، مکی لشکر ، ابودجانہ کا کردار ، غسیل الملئکہ ، شکست کفار ، جنگ کا پس منظر
جنگ احد میں مکی لشکر نے اپنے حساب سے جگہ سواری لشکر کا بہترین انتظام کیا
کفار کے پاس حضرت ابودجانہ جیسے پروانہ وار مجاہد نہیں تھے وہ
ادجانہ جنہیں رسول اللہ نےاپنا تلوار عطافرمایا مشرکین کی عورتوں تک پہنچے
لیکن جنگی اصول کے تحت عورتوں کو قتل نہیں کیا۔
غسیل الملئکہ حضرت حنظلہ نئے شادی ہوئے دلہن کو چھوڑ کر
شہادت کی تمنا لیے حاضر ہوئے اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
کفار کی تعداد مسلمانوں سے تو زیادہ تھی لیکن پھر بھی انہیں شکست ہوگئ
اس کی وجہ ان کا تکبر ہے انہوں نے سمجھا زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے فتح ہماری ہی ہوگی۔
یہ تھا کچھ پس منظر جس کی وجہ سے تحریر کا ٹائٹل رکھا گیا
جنگ احد ، مکی لشکر ، ابودجانہ کا کردار ، غسیل الملئکہ ، شکست کفار ، جنگ کا پس منظر
